اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی دراصل صہیونی طاقتوں اور عالمی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے فلسطینی سرزمین پر قبضہ کر کے ایک طویل تنازع کو جنم دیا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام برسوں سے ظلم و جبر اور جنگی حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور گزشتہ چند برسوں میں ہونے والی شدید جنگ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اس تنازع کو مزید وسعت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور مختلف الزامات لگا کر ایران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ایران کی قیادت کو نشانہ بنانا انتہائی قابلِ مذمت اقدام ہے۔ انہوں نے سپریم لیڈر کو ان کے خاندان سمیت شہید کیا یہ قابل مذمت عمل ہے افسوسناک ہے انہوں نے کہا کہ اگر ایران اس وقت اپنا دفاع کر رہا ہے تو وہ صرف اپنی سرزمین کا دفاع نہیں بلکہ درحقیقت فلسطین کے مظلوم عوام کے دفاع کا بھی تسلسل ہے۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں پوری امتِ مسلمہ کو اعلیٰ سطح کی سفارت کاری کی ضرورت ہے تاکہ مسلم ممالک باہمی اتحاد کو مضبوط بنائیں اور ایک مشترکہ موقف اختیار کریں۔ ان کے مطابق اگر اسلامی دنیا تقسیم کا شکار رہی تو یہ مزید مشکلات کا سبب بنے گا، اس لیے ضروری ہے کہ مسلم ممالک ایک صفحے پر آ کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔