تازه خبریں

حضرت امام زین العابدینؑ کے یوم شہادت پر علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

حضرت امام زین العابدینؑ کے یوم شہادت پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی کا پیغام

حضرت امام زین العابدین ؑ کے یوم شہادت پر علامہ ساجد نقوی کا پیغام

امام زین العابدین ؑ واقعہ کربلا کے عینی شاہد ہیں، واقعہ کربلا کے حقائق کے بیان اور اپنی تبلیغ و ادعیہ سے اصل حقیقتوں سے آگاہ کیا۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے چوتھے امام حضرت امام زین العابدینؑ کے یوم شہادت (25 محرم الحرام 95ھ) پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امام زین العابدینؑ واقعہ کربلا کے عینی شاہد ہیں۔

آپؑ نے جس طرح واقعہ کربلا کے حقائق کو بیان فرمایا اور تبلیغ و ادعیہ کے ذریعے واقعہ کربلا کی اصل حقیقتوں سے آگاہ کیا، اس سے جاہل اور متعصب عناصر کے اُس پروپیگنڈے کے اثرات رفع اور دفع ہوئے جو انہوں نے شکوک و شبہات کے ذریعے عوام کے اندر پھیلائے ہوئے تھے۔

آپؑ نے اپنے کردار و عمل کے ذریعے یزیدیت کو بے نقاب کیا اور حسینیت کے خدوخال کو جس انداز میں واضح کیا، وہ انداز باطل قوتوں کے خلاف جدوجہد کرنے والی ہر قوت کے لیے رہنما حیثیت رکھتا ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ امام زین العابدینؑ نے ولادت سے لے کر کربلا اور کربلا سے لے کر مدینہ میں شہادت تک انتہائی کٹھن اور سنگین حالات کو برداشت کرکے عالمِ انسانیت کے لیے صبر و استقامت کی ایسی بنیادیں فراہم کیں جن سے ہر دور کا انسان استفادہ کر رہا ہے اور حق پر قائم رہتے ہوئے مرنے کا حوصلہ پا رہا ہے۔

امام زین العابدینؑ نے زہد و تقویٰ اور روحانیت کے جو راستے متعین کیے اور ذہن و قلوب کو جلا بخشنے، باطن میں روشنی پیدا کرنے، نفسِ امارہ کو شکست دینے اور خدا کے ساتھ لو لگانے کے لیے دعاؤں کا جو عظیم ذخیرہ “صحیفہ سجادیہ” امت کو فراہم کیا ہے، دورِ حاضر میں اس سے کما حقہ استفادہ کیا جائے تو دنیوی و اخروی نجات کا سامان فراہم ہو سکتا ہے۔

اپنی مناجات میں امام زین العابدینؑ فرماتے ہیں:

“خدا کی بارگاہ میں دو قطروں کے علاوہ اور کوئی چیز محبوب نہیں؛ ایک راہِ خدا میں گرنے والا شہید کے خون کا قطرہ اور دوسرا رات کی تاریکی میں خوف و تقربِ الٰہی کے لیے گرنے والا آنسو کا قطرہ۔”

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام چہارمؑ کو یہ امتیازی خصوصیت حاصل ہے کہ انہوں نے دعاؤں اور مناجات کے ذریعے انسان کو اپنے خدا سے براہِ راست مربوط و مخاطب ہونے کا سلیقہ سکھایا اور عبادات کے ذریعے اپنے نفس کو کنٹرول کرنے کی رسم ڈالی۔

آج اگر ہم ان مناجات کے ذریعے اپنی زندگیوں میں انقلاب برپا کریں تو ہمیں نہ صرف اپنے نفس پر کنٹرول حاصل ہوگا بلکہ ہم انسانوں کے دلوں پر حکمرانی کے راز سے بھی آشنا ہو جائیں گے اور صبر و حکمت کے ذریعے دنیا کو مسائل و مشکلات سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کر سکیں گے۔

قائد ملت جعفریہ نے زور دے کر کہا کہ اس وقت انسانیت یزیدی قوتوں کے حصار میں ہے۔ یہ قوتیں عالمِ اسلام کی دینی، علمی، ثقافتی اور تہذیبی روایات، آزادی و استقلال کو ختم کرنے اور وسائل کو تباہ کرنے کے درپے ہیں، لہٰذا اس کٹھن دور اور سنگین مرحلے پر امام زین العابدینؑ کے عطا کردہ اصول اور اساسی نقوش سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئے روپ میں آنے والی یزیدیت کو بے نقاب کیا جا سکے۔