بحرین کی جمیعت عمل اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ عبداللہ الصالح نے کہا ہے کہ امتِ مسلمہ جن بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، ان حالات میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اتحاد اور بھائی چارے کے تصورات کو دوبارہ زندہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بابرکت زندگی میں ’’بے شک مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘ (سورۃ الحجرات، آیت 10) کے الہامی فرمان کو عملی شکل دیتے ہوئے ایمان کے رشتے پر مبنی معاشرہ قائم کیا۔ آپؐ نے بلال حبشی، صہیب رومی اور سلمان فارسی کو اسلامی معاشرے کے بنیادی ستون بنا کر قبائلیت اور طبقاتی تفریق کو جڑ سے ختم کیا۔
شیخ عبداللہ الصالح کے مطابق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان حقوق اور ذمہ داریوں کی برابری قائم کی، جس سے ایک مربوط اور عادلانہ معاشرہ وجود میں آیا۔ انہوں نے قرآنِ مجید کی اس تعلیم کی یاد دہانی کرائی: ’’اور کسی قوم کے ساتھ دشمنی تمہیں عدل سے نہ روک دے‘‘ (سورۃ المائدہ، آیت 8)، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام دشمن کے ساتھ بھی انصاف کے اصول پر قائم رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز، روزہ، حج اور قبلہ جیسے بنیادی اسلامی اعمال کے ذریعے امت کو ایک مرکز کے گرد متحد کیا، جس نے مسلمانوں کی اجتماعی شناخت کو مضبوط کیا۔ مدینہ میں غیر مسلموں کے ساتھ حکمت، عدل اور امانت داری کے اصولوں کے مطابق برتاؤ کرتے ہوئے آپؐ نے ایک محفوظ، مستحکم اور باوقار معاشرے کی بنیاد رکھی۔
شیخ عبداللہ الصالح نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قائم کردہ یہ بنیادیں محض تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ آج کے دور کی ضرورت ہیں۔ ایمان، عدل، اخوت، جامع قیادت اور خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا امتِ مسلمہ کے اتحاد کی اصل بنیادیں ہیں، خصوصاً اس دور میں جہاں تفرقہ، انتشار اور سیاسی انتشار بڑھ چکا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی اتحاد صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عملی منصوبہ ہے۔ اگر امت مسلمہ ان اصولوں کو دوبارہ اختیار کرے تو باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی، اجتماعی طاقت اور عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔