تازه خبریں

وفاقی حکومت کی ناک کے نیچے دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود تکفیریت ابھارنے والے جلسے منعقد کرتے ہیں جوکہ تشویشناک ہےعلامہ عارف حسین واحدی

شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے کہاہے کہ آئے روز محب وطن شہریوں کی شہادتیں ہورہی ہیں ، دہشت گردنہ صرف سرعام دندناتے پھر رہے ہیں بلکہ وفاقی حکومت کی ناک کے نیچے دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود تکفیریت ابھارنے والے جلسے منعقد کرتے ہیں جوکہ تشویشناک ہے، ایک جانب نیشنل ایکشن پلان کے دعوے ، محب وطن جماعتوں سے قومی معاملات پر ملاقات کرنے سے احتراز دوسری جانب وزیر داخلہ کی تکفیریوں سے ملاقاتیں، وزارت داخلہ کی جانب سے تکفیریوں کو دانستہ جلسہ و اجلاس کی اجازت دی جاتی ہے، ایک جانب دفعہ 144کا نفاذکا عام اعلان لیکن دوسری جانب کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے تکفیریت کے پرچار کی اجازت دوغلی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، حکمرانوں کا یہ عمل نیشنل ایکشن پلان کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے گزشتہ روز ناظم آباد کراچی میں گھر میں ہونیوالی مجلس عزا پر دہشت گردی کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کیا ۔ اپنے مذمتی بیان اور مختلف وفود سے گفتگو کے دوران علامہ عارف واحدی نے کہاکہ وفاقی حکومت بالخصوص وزارت داخلہ دوغلی پالیسی پر عمل پیرا ہے، انہوں نے سوال اُٹھایا کہ کیا قانون کا نفاذ کسی ایک جماعت کے کارکنوں کے لیے تھا یا کسی مقام پر دفعہ144کا نفاذسب کیلئے یکساں ہوتا ہے ۔ اُنہوں نے تکفیریوں کے جلسے میں تکفیری نعروں اور تقاریر کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اس امر کو نیشنل ایکشن پلان کی کُھلم کُھلا خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس میں خود حکومت کو شریک قرار دیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک جانب وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ملک کی محب الوطن جماعتوں سے قومی معاملات پر ملاقات کرنے سے احتراز برتتے ہیں جبکہ دوسری جانب نہ صرف تکفیری افرادسے نہ صرف ملاقاتیں کرکے اُنکے مطالبات تسلیم کرتے دکھائی دیتے ہیں بلکہ اسلام آباد میں جلسے کی اجازت دیکر تکفیریت کاکھلم کھلا پرچار کرانے کی چھوٹ دے رہے ہیں جوکہ نیشنل ایکشن پلان کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے کیونکہ کوئٹہ میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کو جن تنظیموں نے قبول کیا ہے خود وزیر داخلہ بارہا اُن تنظیموں کا تعلق اِنہی تکفیری گروپس سے بتا چکے ہیں مگراس کے باوجود ایک بار پھر حکومت کی اجازت سے ہی اِن تکفیری گروپوں کو کھلی چھوٹ دیکر ملک میں امن وامان کی حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ملک اس وقت اندرونی سیاسی خلفشار کے باعث مزید کسی مذہبی سیاسی اختلاف کا متحمل نہیں ہوسکتا لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے اقدامات سے گریز کرے جو موجودہ صورتحال کو مزید کسی گھمبیر حالات سے دوچار کرنے میں مددگار بن سکتے ہوں۔
اس موقع پر انہوں نے ناظم آباد کراچی سانحہ میں جاں بحق افراد کے بلندی درجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی ۔