• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

آزادی صحافت کے حامی ہیں، حکومت مثبت تنقید برداشت کرے، صحافی برادری بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق مرتب کرے، شیعہ علماء کونسل

جعفریہ پریس – شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے جیو بحالی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی  صحافت کے حامی ہیں، صحافی برادری بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور ضابطہ اخلاق مرتب کرے تاکہ غلط فہمیاں ختم ہوسکیں، آئے روز مختلف چینلز کی بندش تشویش ناک ہے، حکومت مثبت تنقید برداشت کرے کیونکہ آزاد میڈیا ملک میں مستحکم جمہوریت و تواناءپاکستان کےلئے ضروری ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر سے جاری بیان میں کیا۔انہو ں نے کہاکہ ہم نے ہمیشہ عوام کے حقوق کی بات کی ہے اور ہمیشہ سے مطالبہ رہاہے کہ قوم کے سامنے حقائق لائے جائیں اور سچ کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ آزاد میڈیا بھی پسے ہوئے طبقات ، مظلوم عوام کی آواز ذمہ داران تک پہنچانے کا فریضہ انجام دے رہاہے جبکہ دوسری پاکستان کے خلاف ہونے والے پراپیگنڈہ کا بھی موثر جواب دے رہاہے انہوںنے موجودہ دور میڈیا وار کا ہے اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ مثبت اور تعمیری تنقید برداشت کرے اور میڈیا کےلئے آسانیاں پیدا کر ے ۔ آئے روز مختلف ٹی وی چینلز کی بندش تشویشناک ہے جبکہ میڈیا کو بھی اب ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اس کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ ایک ضابطہ اخلاق فی الفور مرتب کریں اور اس پر عملدرآمد کرائیں تاکہ غلط فہمیوں کا بھی تدارک ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ ہم آزادی اظہار کے قائل ہیں لیکن چاہتے ہیں اظہار رائے ملکی اقدار، اسلامی روایات کے مطابق ہوں اور ایسا کوئی بھی پروگرام نہ دکھایا جائے جس سے کسی کی دل آزاری ہو ۔