عزاداری سید الشہداءؑ آئینی و شہری حق ہے، اس پر قدغن قابل قبول نہیں، سید فتح محمد رضوی
مرکزی صدر جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان برادر سید فتح محمد رضوی نے آمدِ محرم الحرام 1448ھ/2026ء کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماہِ محرم الحرام محسنِ انسانیت حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی تحریکِ حریت، جدوجہد اور مقصدِ قیام کی یاد تازہ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے 28 رجب المرجب کو مدینہ سے روانگی کے وقت اپنے قیام کا مقصد امتِ مسلمہ کی اصلاح، نیکی کی دعوت اور برائی سے روکنے کو قرار دیا تھا۔ اسی عظیم مقصد کی یاد میں ہر سال دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مجالسِ عزا، ماتمی جلوس، سبیلِ امام حسینؑ اور مختلف عزاداری پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
سید فتح محمد رضوی نے کہا کہ بدقسمتی سے گزشتہ برسوں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں عزاداری، مجالس اور دیگر مذہبی اجتماعات میں بلاجواز رکاوٹیں ڈالنے کی روش جاری رہی، جو آئینِ پاکستان اور مذہبی آزادی کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ ہم ایسی تمام پابندیوں اور غیر ضروری رکاوٹوں کی مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ عزاداری سید الشہداءؑ ہمارا بنیادی، آئینی اور شہری حق ہے، جس پر کسی قسم کی قدغن یا رکاوٹ قابل قبول نہیں۔ عزاداری مذہبی آزادی کے دائرے میں حاصل شدہ ایک مسلمہ حق ہے، لہٰذا حکومتی ادارے اور متعلقہ انتظامیہ ملک بھر میں مجالس، جلوسوں اور عزاداری کے اجتماعات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
مرکزی صدر جے ایس او پاکستان نے مزید کہا کہ ملک بھر کی جامعات میں یومِ حسینؑ کا انعقاد بھی طلبہ کا بنیادی حق ہے، تاہم گزشتہ برسوں میں بعض جامعات میں یومِ حسینؑ کے پروگراموں کے انعقاد پر ایف آئی آرز اور دیگر رکاوٹیں سامنے آئیں جو سراسر غیر آئینی اقدامات ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتی ذمہ داران، متعلقہ ادارے اور یونیورسٹی انتظامیہ یومِ حسینؑ کے پروگراموں کے انعقاد کو یقینی بنانے اور طلبہ کو ان کے آئینی و جمہوری حقوق فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔