جعفریہ پریس – قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو اسلام سے وابستہ رکھے ہوئے ہیں ان کی ہدایت اور رہنمائی کا منبع قرآن کریم اور سنت رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور یہ مسلمانوں کا مسلمہ و متفقہ عقیدہ ہے کہ قرآنی احکام کے مطابق پیغمبر گرامی صل اللہ علیہ وآلہ وسلمکی ذات مبارک عالم اسلام کے لئے نمونہ عمل ہے جبکہ پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلمکی اپنی ہدایت اور رہنمائی کے مطابق خواتین عالم کے لئے بہترین نمونہ عمل اور آئیڈیل شخصیت جناب سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکی ذات ہے۔
دختر رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلمحضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے یوم شہادت کے موقع پر علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ سیدہ سلام اللہ علیہاکے بارے میں فرامین پیغمبرصل اللہ علیہ وآلہ وسلمایسی حقیقت ہیں کہ جسے تمام مسلمان تسلیم کرتے ہیں۔ جناب سیدہسلام اللہ علیہا کا دختر رسولصل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کے حوالے سے احترام اور عقیدت اپنی جگہ ہے لیکن ان کا یہ پہلو سب سے منفرد اور نمایاں ہے کہ وہ عالم نسواں کے لئے قیامت تک نمونہ عمل ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے عمل اور اخلاق کے میدان میں اپنی زندگی کے جو اصول اور نقوش چھوڑے ہیں وہ دائمی اور ابدی ہیں کسی زمانے ‘ معاشرے یا علاقے تک مخصوص اور مختص نہیں ہیں۔
حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکی زندگی کے اصولوں کو اجاگر کرنے اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ان اصولوں پر عمل کرکے ہی مسلم خواتین فلاح حاصل کرسکتی ہیں جبکہ ان اصولوں کی آفاقیت اور افادیت اس قدر وسیع ہے کہ دنیائے بشریت کی تمام خواتین بلاتفریق رنگ و نسل اور مذہب و علاقہ ان اصولوں سے استفادہ کرکے کامیاب زندگی گزار سکتی ہیں اور اخروی نجات کا سامان پیدا کرسکتی ہیں۔
قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ آزادی نسواں کے عالمی نعروں کو اگر حضرت سیدہ فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا کے کردار کی روشنی میں دیکھیں تو موجودہ نعرے فریب اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں البتہ سیرت زہرا کی روشنی میں آزادی نسواں کے تصور اور نظریے پر عمل کرنے سے عورت حقیقی معنوں میں ترقی کرسکتی ہے ۔ معاشروں کی تعمیر کرسکتی ہے نئی نسلوں کی کردار سازی کرسکتی ہے ۔ سوسائٹی کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے اپنے ذاتی‘ اجتماعی اور معاشرتی مسائل کا حل تلاش کرسکتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here