راولپنڈی/اسلام آباد، 21 ستمبر 2026ء ( جعفریہ پریس پاکستان) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے گیارہویں امام حضرت حسن عسکری علیہ السلام کے یوم ولادت پر اپنے پیغام میں کہا کہ حسن ابن علی، ابو محمد کنیت اور عسکری کا لقب پانے والے گیارہویں امام نے نہایت کٹھن اور نامساعد حالات میں اپنے والد گرامی حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت کے بعد منصب امامت سنبھالا۔
آپ کی امامت کے اثرات معاشرے اور ماحول میں واضح انداز میں مرتب ہوئے اور لوگوں کی کثیر تعداد راہ حق اور سچائی کی طرف متوجہ ہوئی۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے ہر قسم کے دباؤ اور حکمرانوں کی سخت نگرانی کے باوجود دین اسلام کی حفاظت اور اسلام مخالف نظریات کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف نوعیت کے اقدامات انجام دے کر اسلام مخالف اقدامات کو بے اثر کردیا۔
اگرچہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں حالات کی ناسازگاری اور حکومت کی جانب سے کڑی پابندیوں کی وجہ سے آپ معاشرے میں اپنے وسیع علم کو فروغ نہیں دے سکتے تھے، لیکن ان سب پابندیوں کے باوجود ایسے شاگردوں کی تربیت کی جن میں سے ہر ایک اپنے طور پر معارف اسلام کی اشاعت، فروغ اور معاشرے کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرتا رہا۔ آپ کے شاگردوں میں احمد بن اسحاق قمی، عثمان بن سعید اور علی بن جعفر جیسے لوگ شامل ہیں۔
جب بھی مشکلات اور مسائل پیش آجاتے تو امام اپنے علمِ امامت اور حیرت انگیز تدبیر کے ذریعے سخت ترین مشکل کو حل کردیا کرتے تھے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی کے مطابق جب انسانی معاشروں میں ناانصافی، بے عدلی، تشدد اور برائیوں کا رواج ہوتا ہے تو وہ ایک مسیحا کے منتظر ہوتے ہیں جو انہیں مشکلات سے نکالے، ظلم کا خاتمہ کرکے معاشرے کو تمام برائیوں سے پاک کرے اور ایک پرامن، صالح اور نیکی پر مبنی معاشرہ قائم کرے۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کی عظمت و بزرگی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پوری کائنات جس مسیحا کی منتظر ہے، وہ انہی کے فرزند صالح حضرت امام مہدی علیہ السلام ہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ دور حاضر میں دنیائے انسانیت کو بالعموم اور عالم اسلام کو بالخصوص جن بحرانوں اور چیلنجز کا سامنا ہے اور انسانی معاشرے جس گراوٹ کا شکار ہوچکے ہیں، ان میں انسانوں کو ہدایت اور پیشوائی کی ضرورت ہے۔ یہ ہدایت اور پیشوائی حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی سیرت کا مطالعہ کرکے اور اس پر عمل کرکے حاصل ہوسکتی ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی سیرت پر عمل کرکے انسانیت کو مسائل سے نجات دلائیں اور حقیقی اسلامی و جمہوری سسٹم رائج کرکے عدل و انصاف سے مزین معاشرے تشکیل دیں اور اپنا انفرادی و اجتماعی کردار ادا کریں۔