گلگت بلتستان قانون سا ز اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن کے لیے اسلامی تحریک پاکستان کے رکن اسمبلی کیپٹن ریٹا ئرڈ محمد شفیع اکثریتی رائے سے چیئر مین منتخب ہوئے ۔ جبکہ اس حوالے سے نو ٹفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ اس وقت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بھی اسلامی تحریک کے رکن اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ اسکندر علی چیئر مین ہیں۔ یہ اسلامی تحریک کی مدبرانہ اور منصافانہ سیاست ہے کہ جس وجہ سے آج اسمبلی کے اندر تمام جماعتوں کے ممبران اسلامی تحریک کے ممبران پر اعتماد کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے نو منتخب چیئرمین برائے ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن کیپٹن محمد شفیع نے کہا کہ محکمہ جات میں اب تک اسمبلی سے جاری ہونے والے احکامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا ہے ،، مگر اب اہل ممبران پر مشتمل کمیٹی بن چکی ہے ۔ جو کہ اسمبلی کے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیگی اور محکمہ جات کے اندر میرٹ اور انصاف پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
ساتھ ہی ساتھ کیپٹن محمد شفیع نے کہا کہ ہمیں ایسے حالات میں یہ ذمہ داری سونپی جارہی ہے کہ جب برسر اقتدار جماعت کے اسمبلی ممبران اورنمائندے حکومتی کارکردگی اور بیوروکریسی کی من مانی پر سراپا احتجاج ہیں، جیسا کہ حالیہ دنوں میں ڈپٹی اسپیکر جناب جعفراللہ خان نے اسمبلی اجلاس کے دواران اپنی ہی حکومت کی ۱ سالہ کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھایا تھا۔
یاد رہے کہ اس وقت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بھی اسلامی تحریک کے رکن اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ اسکندر علی چیئر مین ہیں۔ یہ اسلامی تحریک کی مدبرانہ اور منصافانہ سیاست ہے کہ جس وجہ سے آج اسمبلی کے اندر تمام جماعتوں کے ممبران اسلامی تحریک کے ممبران پر اعتماد کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے نو منتخب چیئرمین برائے ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن کیپٹن محمد شفیع نے کہا کہ محکمہ جات میں اب تک اسمبلی سے جاری ہونے والے احکامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا ہے ،، مگر اب اہل ممبران پر مشتمل کمیٹی بن چکی ہے ۔ جو کہ اسمبلی کے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیگی اور محکمہ جات کے اندر میرٹ اور انصاف پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
ساتھ ہی ساتھ کیپٹن محمد شفیع نے کہا کہ ہمیں ایسے حالات میں یہ ذمہ داری سونپی جارہی ہے کہ جب برسر اقتدار جماعت کے اسمبلی ممبران اورنمائندے حکومتی کارکردگی اور بیوروکریسی کی من مانی پر سراپا احتجاج ہیں، جیسا کہ حالیہ دنوں میں ڈپٹی اسپیکر جناب جعفراللہ خان نے اسمبلی اجلاس کے دواران اپنی ہی حکومت کی ۱ سالہ کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھایا تھا۔