• حساس نوعیت کے فیصلے پر سپریم کورٹ مزیدوضاحت جاری کرے ترجمان قائد ملت جعفریہ پاکستان
  • علامہ شبیر میثمی کی زیر صدارت یوم القد س کے انعقاد بارے مشاورتی اجلاس منعقد
  • برسی شہدائے سیہون شریف کا چھٹا اجتماع ہزاروں افراد شریک
  • اعلامیہ اسلامی تحریک پاکستان برائے عام انتخابات 2024
  • ھیئت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ پاکستان کی جانب سے مجلس ترحیم
  • اسلامی تحریک پاکستان کے سیاسی سیل کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا
  • مولانا امداد گھلو شیعہ علماء کونسل پاکستان جنوبی پنجاب کے صدر منتخب
  • اسلامی تحریک پاکستان کے زیر اہتمام فلسطین و کشمیر کانفرنس
  • ملک کا امن شرپسندوں اور دہشتگردوں کے خاتمے میں مضمر ہے، علامہ شبیرمیثمی
  • اسلامی تحریک پاکستان کا ویڈیو لنک اجلاس اہم فیصلہ جات

تازه خبریں

اصحاب پیغمبرؐ کے مزارات پر حملے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑی سازش ہیں اور امت مسلمہ میں فتنہ پیدا کرنے کی گھناؤنی سازش ہے

جعفریہ پریس – قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے شام میں جلیل القدر اصحاب رسولؐ حضرت عمار بن یاسرؓ اور حضرت اویس قرنیؓ کے مزارات مقدس کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور اسلامی ممالک کی سربراہ تنظیم او آئی سی سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیاہے اور کہاہے کہ مقدسات کا تحفظ یقینی بنایا جائے ، اصحاب پیغمبرؐ کے مزارات پر حملے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑی سازش ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے چند روز قبل شام کے شہر الرقہ میں اصحاب رسولؐ حضرت اویس قرنیؓ اور حضرت عمار یاسرؓ کے مزارات مقدس پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کیا۔ حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ اس طرح کی قبیح حرکتیں کرنیوالے کسی طور بھی اسلام کے نام لیوا نہیں ہوسکتے اور نہ ہی ایسے دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام امن و آشتی اور رواداری کا مذہب ہے جس کا تشدد اور انتہاء پسندی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ قائد ملت جعفریہ نے مذکورہ واقعہ پر اقوام متحدہ اور اسلامی ممالک کی نمائندہ سربراہ تنظیم او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردوں کے ان جرائم کو روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ مقدسات کی حرمت کو بچایا جاسکے۔ قائد ملت جعفریہ نے مذکورہ واقعہ کو سنگین جرم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیاکہ اس واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے کیونکہ یہ صرف کسی مقدس ہستی کے مزار پر حملہ ہی نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے دلوں پر حملہ ہے جس سے عالم اسلام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے اور یہ امت مسلمہ میں فتنہ و فساد پیدا کرنے کی گھناؤنی سازش ہے۔