• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

اصحاب پیغمبرؐ کے مزارات پر حملے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑی سازش ہیں اور امت مسلمہ میں فتنہ پیدا کرنے کی گھناؤنی سازش ہے

جعفریہ پریس – قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے شام میں جلیل القدر اصحاب رسولؐ حضرت عمار بن یاسرؓ اور حضرت اویس قرنیؓ کے مزارات مقدس کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور اسلامی ممالک کی سربراہ تنظیم او آئی سی سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیاہے اور کہاہے کہ مقدسات کا تحفظ یقینی بنایا جائے ، اصحاب پیغمبرؐ کے مزارات پر حملے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑی سازش ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے چند روز قبل شام کے شہر الرقہ میں اصحاب رسولؐ حضرت اویس قرنیؓ اور حضرت عمار یاسرؓ کے مزارات مقدس پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کیا۔ حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ اس طرح کی قبیح حرکتیں کرنیوالے کسی طور بھی اسلام کے نام لیوا نہیں ہوسکتے اور نہ ہی ایسے دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام امن و آشتی اور رواداری کا مذہب ہے جس کا تشدد اور انتہاء پسندی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ قائد ملت جعفریہ نے مذکورہ واقعہ پر اقوام متحدہ اور اسلامی ممالک کی نمائندہ سربراہ تنظیم او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردوں کے ان جرائم کو روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ مقدسات کی حرمت کو بچایا جاسکے۔ قائد ملت جعفریہ نے مذکورہ واقعہ کو سنگین جرم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیاکہ اس واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے کیونکہ یہ صرف کسی مقدس ہستی کے مزار پر حملہ ہی نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے دلوں پر حملہ ہے جس سے عالم اسلام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے اور یہ امت مسلمہ میں فتنہ و فساد پیدا کرنے کی گھناؤنی سازش ہے۔