• تعلیم یافتہ نسل ، ملک و قوم کی ترقی کی ضمانت ہے، علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی
  • کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت

تازه خبریں

امت مسلمہ کی وحدت اوراس کے فروغ کے لیے اقدامات

تحریر: ندیم عباس
امت مسلمہ میں وحدت
دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان چاہے ان کا تعلق کسی بھی نسل سے ہو کوئی بھی زبان بولتے ہوں ان کارنگ گورا ہو یا کالا سب کے سب امت مسلمہ کے افراد ہیں ان کی قوت ان کی طاقت کا راز وحدت اسلامی میں پوشیدہ ہے دشمن مسلمانوں کی اس قوت کو سمجھتا ہے اس لیے اس نے مسلمانوں میں فرقہ واریت کو فروغ دیاہے کہیں مسلک کے نام پر لڑاتا ہے تو کہیں عرب و عجم کی لڑائی کراتا ہے  اس کے نتیجہ میں امت مسلمہ کی وحدت پارہ پارہ ہو جاتی ہے نتیجے میں مسلمان کمزور اور اسلام دشمن قوتیں طاقت ور ہو جاتی ہیں امت مسلمہ اگر عظمت رفتہ کی بحالی چاہتی اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا  چاہتی ہے   تو اسے اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے شخصی ،گروہی ،لسانی اور مسلکی اختلافات کو بھلا کر  وحدت کی لڑی پرو جانا ہو گا وحدت کے فروغ میں مندرجہ ذیل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے  جن کے نتیجے میں امت کے درمیان  وحدت پیدا ہو گی
قرآنی تعلیمات کا فروغ
اسلامی  تعلیمات کا منبع اول مسلمان جس  سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں جس پر پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے وہ قرآن ہے  قرآن وحدت امت کا مصدر اول قرار پاتاہے جس نے تمام مسلمانوں کو ایک امت قرار دیتا ہے
اِنَّ ھٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ اَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِo(الانبیاء ۲۱:۹۲)
یہ تمھاری اُمت حقیقت میں ایک ہی اُمت ہے اور میں تمھارا رب ہوں، لہٰذا تم میری عبادت کرو
صرف ایک امت قرار دینے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ امت مسلمہ کو سب سے بہترین امت قرار دیتا ہے
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ(اٰل عمرٰن ۳:۱۱۰)
’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں اُتارا گیا ہے‘
اللہ تعالی نے تمام مسلمانوں کو ایک طرف ایک امت قرار دیا اور دوسری طرف انہیں ہر قسم کے گروہی اختلافات سے منع فرما دیا
وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا (اٰل عمرٰن۳:۱۰۳)
سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقے میں نہ پڑو
جس خاندان جس قوم جس ملک میں تفرقہ آ جاتا ہے وہ ایک ناکام اور  نامراد قوم بن جاتی ہے اس کی دنیا  میں کو حثیت نہیں ہوتی اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا اللہ تعالی نے تفرقہ میں پڑنے کی  سخت سزا رکھی ہے
وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْ م بَعْدِ مَا جَآءَ ھُمُ الْبَیِّنٰتُط وَ اُولٰٓءِکَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌo(اٰل عمرٰن۳:۱۰۵)، ’’کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے جنھوں نے یہ روش اختیار کی، وہ سخت سزا پائیں گے
قرآن نے تفرقہ کے نتیجہ میں ہونے والے سب سے بڑے نقصان کی نشاندہی بھی فرما دی
وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْھَبَ رِیْحُکُمْ (انفال۸:۴۶)، ’’اور آپس میں جھگڑو نہیں، ورنہ تمھارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمھاری ہوا اُکھڑ جائے گی
آج مسلمانوں کی قوت و طاقت ختم ہو چکی ہے ان کی دنیا میں کوئی حیثیت نہیں تو اس کی بنیادی وجہ ان کا آپس کے جھگڑوں میں پڑ جانا ہے آج عالم اسلام میں جاری جہادی تحریکوں کا مشاہدہ کریں تو یہ حقیقت سامنے آ جائے گی نوے فیصد جہاد مسلمان مسلمان کے خلاف کر رہا ہے قاتل و مقتول دونوں مسلمان ہیں ایک نعرہ تکبیر لگا کر قتل کرتا ہے اور دوسرا نعرہ تکبیر لگا کر قتل ہوتا ہے  قرآن کی تعلیم مسلمانوں کو ایک امت بن کے رہنے کی ہے
سنت نبوی کی پیروی
نبی اکرم کی سیرت کی پیروی اور ان کے نقش قدم پر چل کر ہم وحدت امت کو فروغ دے سکتے ہیں سنت نبوی ہمارے لیے بہترین مشعل راہ ہے  آپ ﷺ کے فرامین وحدت امت کی دعوت دیتے ہیں دنیا کا ہر مسلمان عشق رسول کا دم بھرتا ہے اس پر جان قربان کرتا ہے ان کے فرامین پر عمل کر کے وحدت امت کو فروغ دیا جا سکتا ہے
رسول خدا(ص) نے فرمایا:
مَنْ أَصْبَحَ لَا يَهْتَمُّ بِأُمُورِ الْمُسْلِمِينَ فَلَيْسَ بِمُسْلِمٍ
جو اس حال میں صبح کرے کہ اسے امور مسلمین کی فکر نہ ہو تو وہ مسلمان نہیں ۔
(الكافي/ 2 /163/باب الاهتمام بأمور المسلمين )
وَ مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يُنَادِي يَا لَلْمُسْلِمِينَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَيْسَ بِمُسْلِمٍ
جو کسی مسلمان کی فریاد کو سنے جو مدد کے لیے پکار رہاہے اور وہ اس کی مدد نہ کرے تو وہ مسلمان نہیں ۔
(الكافي/ 2/164/باب الاهتمام بأمور المسلمين )
کیا عظیم الشان فرامیں ہیں کاش ہم ان کو ٹھنڈے دماغ کے ساتھ پڑھتے ان پر غور و فکر کرتے ان پر عمل کرتے آج کو ئی ایسادن نہیں جب مسلمانوں پر ظلم نہ ہو رہا ہو فلسطین و کشمیر کے مظلوموں کی دل دہلا دینے والی آہ بکا جنازوں پر نوحہ کناں مائیں بہنیں یہ سب کچھ ہم روزانہ سکرین پر دیکھتے ہیں مگر ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا   اس کی کیا وجہ ہے کیا ہم اس قدر بے حس  ہو چکے ہیں ؟ کیا ہمیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان تعلیمات کا کوئی لحاظ نہیں ہے ؟ ان تعلیمات نبوی کو عام کرنے کی ضروت ہے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ حجہ الوداع میں ارشاد فرمایا تھا ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور تمام مسلمان ایک کنبہ اور خاندان کے مانند ہیں اگر تمام امت مسلمہ کے افراد ایک دوسرے کو بھائی سمجھیں تو ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھیں گے ان کے درد کو محسوس کریں گے ان کی پریشانی کو دور کرنے کی کوشش کریں گے ان کے مسائل کو حل کریں گے اس جذبہ وحدت امت کے نتیجہ مسائل حل ہوں گے
اسلام نے مذہب کو جوڑنے  کا ذریعہ قرار دیا اس کے ذریعے باہمی رنجشوں کا خاتمہ کر دیا اسلام نے مواخات کا نظریہ دیا یعنی اسلام کی بنیاد پر بھائی چارے کا قیام اور اس کی بہترین مثال مواخات مدینہ ہے جس میں  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں مہاجرین و انصار کے درمیان اس بھائی چارے کو عملی طور پر قائم کر کے دی یہ مواخات اس قدر موثر تھی کہ انصار ی بھائی  نے اپنی آدھی جائیداد اپنے مہاجر بھائی کے نام کر دی  جب امت سیرت کے اس پہلوں کو اپنائے گی امت مسلمہ ایک  مضبوط حیثیت میں سامنے آئے گی
رہنماوں کا کردار
امت مسلمہ کے رہنماء وحدت اسلامی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے آج امت مسلمہ میں جو وحدت کی جھلک نظر آتی ہے اس میں ان رہنماوں نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے انہوں امت کے مسائل پر غور کیا اور آخر میں اس نتیجے پر پہنچے کہ آج امت جس بھنور میں پھس چکی ہے اس سے نکلنے کا راستہ وحدت امت ہے  سید جمال الدین افغانی ،سیدقطب ، علامہ اقبال اور امام خمینی جیسے اکابر امت نے وحدت کے فروغ لیے انتھک جدو جہد کی سید قطب تو جیل سے بھی یہی پکارتے رہے یا ایھاالمسلون اتحدوا اتحدوا اے مسلمانوں متحد ہو جاو متحد ہو جاو جب جید علمااتحاد و وحدت کے لیے نکلتے ہیں امت ان کی بات سنتی ہے ان کے کہے پر عمل کرتی ہے اس کی بہترین مثال موجودہ دور میں پاکستان میں متحدۃ مجلس عمل کا قیام تھا جس کے قیام کے ساتھ ہی ملک میں جاری فرقہ واریت اور قتل و غارت گری میں نمایا ں کمی واع ہوئی جب تمام مسالک کے علماایک ساتھ نماز ادا کرتے ہیں تو  ان کی وہ تصویر جتنا کام کرتی ہے ممکن ہے ہزاروں تقریریں اتنا موثر کردار ادا نہ کر سکیں لہذا مذہبی و سیاسی رہنماوں کو وحدت امت کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے
مفکرین وحدت کو روشناس کرانا
وہ علمائے دین وہ مفکرین قوم جن کے دل عالم اسلام کی کے لیے دھڑکتے ہیں جنہیں اسلام کا مفاد عزیز ہوتا ہے جن  کے شب و روز اسلام کی خدمت کے لیے وقف ہوتے ہیں جو وحدت امت کی پہچان ہوتے ہیں مشکل سے مشکل وقت میں بھی وسعت نظری کا ثبوت دیتے ہوئے اتحاد ووحدت کا درس دیتے ہیں ان کو معاشرے میں زیادہ سے زیادہ روشناس کرانے کی ضرورت ہے لوگ ان کے بارے میں جاننا چاہتے  ہیں ان کی زندگی کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا چاہتے ہیں ان رہنماوں میں سید جمال الدین افغانی ،امام خمینی اور سید قطب وہ عظیم شخصیات ہیں جن کو روشناس کرایا جانا چاہیے موجودہ دور رہبر معظم سید علی خامنہ ای ،قاضی حسین احمد مرحوم،ڈاکٹر عدنان ابراھیم  اور سید علی حسینی سیستانی یہ وہ عظیم شخصیات ہیں جنہوں نے وحدت امت کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں خمنی نے فرمایا تھا شیعہ اور سنی کے درمیان اختلاف پیدا کرنے والے نہ شیعہ نہ سنی ہے بلکہ وہ استعمار کا ایجنٹ ہے اسی طرح آپ نے 12 سے 17 ربیع الاول کو ہفتہ وحدت قرار دے کے امت کو جوڑنے کی بات کی جس کے بہت اچھے نتائج سامنے آئے جمعہ الوداع کو یوم القدس قرار دے کر آپ  نے پوری امت کو اکٹھاکر دیا اسی طرح  آغا سیستانی نے فرمایا کہ شیعہ اور سنی بھائی بھائی نہیں کیونکہ بھائیوں میں لڑائی ہو سکتی ہے بلکہ شیعہ اور سنی ایک جسم  کے  دو حصے ہیں اور ایک جان ہیں کیا ایمان افروز بیان ہے قاضی صاحب مرحوم کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ان کی تو ذات ہی سراپا وحدت تھی دن رات امت کو اکٹھا کرنے  کی فکر میں لگے رہتے تھے ان جیسی شخصیات کی فکر کو معاشرے میں عام کرنے کی ضرورت ہے
وحدت کی تحریکیں
امت مسلمہ کی وحدت کی لیے ایسی تحریکوں کی ضرورت ہے جو اس مشن کے ساتھ کام کریں کہ ہم نے امت کو وحدت کی لڑی میں پرونا ہے  ان کا پوری امت میں وجود ہو اور وہ متحرک ہوں ان میں جمود نہ ہو پاکستان کی سطح پر ملی یکجہتی کونسل ایک اہم تحریک ہے جس کا کام ہی وحدت امت کا اہتمام کرنا ہے اسی طرح حکومت کی سرپرستی میں امن کمیٹاں بھی بعض جگہوں پر بہت موثر کام کر رہی ہیں ان میں بھی تمام مکاتب کی نمائیندگی ہوتی ہے مگر یہ صرف محرم میں متحرک ہوتی ہیں ماضی قریب میں پاکستان کی سطح پر متحدہ مجلس عمل نے بہت اچھا کام کیا ہے اسی طرح طالب علم تنظیموں کے لیے متحدہ طلبہ محاذ نے اچھا کام کیا اگر بین الاقوامی سطح پر دیکھا جائے oic  تمام مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے مگر افسوس آج یہ بالکل غیر فعال ہے اس کی میٹنگوں کے نتائج سوائے زبانی جمع خرچ کے کچھ نہیں ہیں اتحاد طلاب العالم الاسلامی کے نام مسلمان طلبا کے درمیان وحدت کے لیے  کام کر رہی ہے جس میں پوری دنیا کے مسلم طلبہ کی تنظیمیں شامل ہیں اس طرح کی مزید اور موثر تحریکوں کی ضرورت ہے جو مسلم امت میں وحدت پیدا کریں
باہمی اختلافات کو برداشت کرنا
مسلمانوں کے درمیان مختلف نوعیت کے اختلافات صدیوں سے موجود ہیں اور بہت کم ہی خون خرابے کا باعث بنے ہیں موجودہ دور میں استعمار نے ان اختلافات کو اس انداز میں ابھارا کہ مسلمان مسلمان کا گلا کاٹنےلگا  مسلم معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہوا  ان اختلافات کو برداشت کرنے کی عادت اپنانا ہوں گی اگر اختلاف کی بنیاد پر قتل غارت کو حل سمجھ لیا جائے تو اس دنیا میں سوائے  لڑائی کے کچھ نہیں ہو گا کیونکہ رنگ ،نسل ،مذہب غرض پسند و ناپسند کی بنیاد بے شمار اختلافات موجود ہیں  ہر اختلاف کو تنازع کی بنیاد قرار دیں گے تو انسانی زندگی مشکل کا شکار ہو جائے گی اس لیے ان اختلافات کو برداشت کرنا ہو گا ایک دوسرے کے عقائد کو اس مکتب فکر کے علماء کے اقوال کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے  علمائے اسلام کا شروع سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ اختلاف کو وسعت اور خیر کا ذریعہ قرار دیتے ہیں اس کو جنگ و جدال کی بنیاد قرار نہیں دیتے
مشترکات کا فروغ
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کے تمام اسلامی مکاتب فکر میں ننانوے فیصد مشترکات ہیں باقی ایک فیصد  اختلافات ہیں یہ اختلافات خود مکاتب فکر کے علماء کے درمیان موجود ہیں ایک ہی مسئلہ میں ایک ہی مکتب فکر کے علما کی دو یا دو سے زیادہ رائے موجود ہو سکتی ہیں مگر اکثرمعاملات میں تمام  رائے ایک ہوتی ہے ان ایک فیصد اختلافات کو اس قدر عام کیا گیا اس قدر فروغ دیا گیا کہ آج مسلمان باہم لڑ رہے ہیں مگر ان مشترکات کی بات ہی نہیں کی جاتی ان پر کام نہ ہونے کے برابر جس سے عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مذاہب میں بس اختلاف ہی اختلاف ہے اور وہ ایک دوسرے کے قریب نہیں آتے اگر ان کو ان مشترکات کے بارے میں بتایا جائے  تو یقینا عمومی رائے میں تبدیلی آئے گی لوگ  ایک دوسرے کے قریب آ جائیں گے اختلافات کی یہ شدت نہ رہے گی جس کے نتیجہ میں امت میں وحدت ہو گی
فتنہ پرست عناصر کی سر کوبی
اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ہر مذہب میں چند فتنہ پسند جاہل لوگ ہوتے ہیں وہ اختلافات کو ہو ا دیتے ہیں ہر جگہ جذباتی تقاریر کرتے ہیں  ایسا موحول بنا دیتے ہیں  جس سے لوگ  باہم دست و گریبان ہو جاتے ہیں ان کا کام آگ لگانے ہوتا ہے یہ آگ لگاتے ہیں اور نکل جاتے ہیں مقامی لوگ مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں یہ لوگ اپنے شخصی فائدے کے لیے چند روپوں کی خاطر امت کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے ہیں بعض اوقات یہ لوگ استعمار کے آلہ کار ہوتے  اس کے کہنے پر فرقہ واریت کو پھیلاتے ہیں ان عناصر کی شناخت کرنا ان کو حکمت کے ذریعے لوگوں سے  الگ کر دینا چاہیے لوگوں میں اتنا شعور پیدا کر دیں کہ ان عناصر کی خود سرکوبی کریں اور نہیں امت کی وحدت کو پامال نہ کرنے دیں
لٹریچر وحدت کا فروغ
یہ ایک حقیقت ہے کہ معاشرے کے نظریات کی تشکیل میں لٹریچر اہم کردار ادا کرتا ہے اس لیے ایسے لٹریچر کو معاشرے میں عام کیا جائے جو احترام پر مبنی ہو جس میں کسی کی دل آزاری نہ جس میں   اسلام حقیقی کی تعلیمات کو  بتایا گیا ہو مسلمانوں کو  درپیش مسائل میں وحدت کی تلقین کی گئی ہو
سیمینار اورکانفرنسز
ہمارا یہ مشاہدہ ہے سیمینار اور کانفرنسز امت مسلمہ  میں وحدت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتیں ہیں مجھے یاد ہے میں ایک میگزین کا مطالعہ کیا کرتا تھا اس میں مکتب جعفری کے خلاف مواد شائع ہوتا تھا اس کا مدیر  ایران ایک کانفرنس میں گیا وہاں سے واپسی کے بعد سے آج تک اس میں منافرت پر مبنی کوئی مضمون شائع نہیں ہوا بلکہ وحدت کی بات ہوئی بہت سیمنار میں شرکت کرنے والے سے جب ملاقاتیں ہوئیں ان کو اصل نظریات بتائے گئے تو ان کے اچھے نتائج سامنے آئے اس لیے ضروری ہے کہ ایسی کانفرنسزاور سیمنار رکھے جائیں
تربیتی نشستیں
مختلف فلاحی تنظیموں کے زیراہتمام ہونے والی تربیتی نشستوں میں شرکت کا موقع ملا اگرچہ یہ ورکشاپس مغربی ممالک کے پیسوں سے چلنے والی تھیں مگر جب باہم مل کر بیٹھے ایک دوسرے کو سنا ایک دوسرے کے عمل کو دیکھا تو بہت سی غلط فہمیا ں دور ہوئیں اس لیے ضروری ہے کہ وحدت کےفروغ کے لیے وحدت کے عنوان سے ایسی تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے
ایک دوسرے کے نظریات سے آگاہی
آج کل ایک بہت اہم مسئلہ جو جس کی وجہ سے مذہبی منافرت پھیلتی ہے وہ ایک دوسرے کے نظریات سے لاعلم ہونا ہے اور یہ بات تو مسلم ہے انسان ہر اس چیز کا دشمن ہوتا ہے جس سے جاہل ہوتا ہے اگر بات  کو مزید کھول کر بیان کیا جائے تو صورت حال کچھ یوں ہوگی یا تو لوگوں کو دوسروں کے عقائد کا علم نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہےتو سنی سنائی باتوں پر مشتمل علم ہوتا ہے جو اکثر غلط ہوتی ہیں ان میں فقط دوسرے مذاہب کی توہین کی گئی ہوتی ہے اور ان کے بعض نظریات کو منفی انداز میں بیان کیا گیا ہوتا ہے جس کا نتیجہ صرف اور صرف نفرت کی صورت میں سامنے آتا ہے اس کی عمدہ مثال مختلف موضوعات پر ہونے والے مناظرے ہوتے ہیں جس میں ایک فریق کہہ رہا ہوتا ہے کہ تمہارا یہ عقیدہ ہے اور جس سے کہا جا رہا ہوتا ہے یہ تمہارا  یہ عقیدہ ہے وہ اس کی نفی کر رہا ہوتا ہے معاشرے میں گھوم پھر کر دیکھیں محرم کے حوالے سے لوگ عجیب و غریب باتیں کر رہے ہوں گے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے اس لیے ضروری ہے کے نیک نیتی کے ساتھ ایک دوسرے کے نظریات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے اس سے غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں دلوں میں پڑی نفرت کی دھول دھل جاتی ہے
معاشرتی تعلقات کا فروغ
معاشرتی تعلقات انسان کی عمومی زندگی پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں اسلام دین معاشرت ہے اس لیے لوگوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ میل جول رکھنا چاہیے مشکل میں ان کے کام آنا چاہیے بیمار ہوں ان کی بیمار پرسی کرنی چاہیے ایک حدیث آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہے کہ اختلاف امتی رحمۃ میری امت کا اختلاف رحمت ہے اس سے مراد اختلاف رائے نہیں ہے بلکہ آنا جانا مراد ہے کہ میری امت کے لوگوں کا آنا جانا باہم میل جول رکھنا رحمت ہے آج اسلام نے جتنی ترقی کی ہے اور کر رہاہے اس کی بنیادی وجہ مسلمانوں کا یہی آنا جانا ہے اور جس جگہ پر مختلف اسلامی مسالک کےلوگوں کے ہاں یہ معاشرتی تعلقات مضبوط ہیں وہاں اولا تو کوئی فرقہ ورانہ فساد ہوتا نہیں اگر کوئی مسئلہ ہو جائے تو اکابرین ان تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے اس مسئلہ کا حل نکال لیتے ہیں
سوشل میڈیا کا استعمال
موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے انسانی سماج میں تبدیلی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے اب جلسے جلوسوں اور گھر گھر جانے کی مہم کی بجائے دنیا آپ کی انگلی کے نیچے ہے تیونس ،مصر اور یمن میں آنے والی تبدیلیا ں سوشل میڈیا کے ذریعے ہی ممکن ہو سکی ہیں امت مسلمہ میں وحدت کے لیے سوشل میڈیا پر بہت اچھے انداز میں کام کیا جاسکتا ہےفیس بک پر پیج اور گروپ بنائے جائے اس پر وحدت    کو پرموٹ کیا جائے اسی طرح ٹویٹر کو استعمال کیا جائے وحدت پر کام کرنے کے لیے ویب سائیٹس اور بلاگز بنائے جائیں  اور پھر ان کو موثر انداز میں چلایا جائے محققین سے آرٹیکلز لکھوائے جائیں
مشترکہ اداروں کا قیام
ایسے تعلیمی اداروں کو قائم کیا جائے جن تمام مذاہب اسلامی کی تعلیم دی جائے اس میں کچھ مضامین مشترکہ بھی ہوں جس سے ایک دوسرے کو سمجھنے میں آسانی ہو تہران میں ایک دانشگاہ مذاہب اسلامی اسی طریقہ پر کام کر رہی ہے اس کام کو پھیلانے کی ضرورت ہے اس دانشگاہ کے دوسرے ممالک میں کیمپسز بنانے کی ضرورت ہے
نصاب وحدت
ایک ایسے نصاب تعلیم کی اشد ضرورت ہے جس  کو نصاب وحدت کا نام دیا جائےاس میں تمام اسلامی مسالک کا تعارف کرایا جائے ان کے بنیادی عقائد بتائے جائیں اور ان اصول و ضوابط پر بات کی جائے جن کی روشنی میں تمام امت مسلمہ ایک ہو سکے نفرتوں کے جو بیج بو دیے گئے ہیں  ان  کی بیج کنی ہو سکےاور  علامہ اقبال کے اس خواب کی تعبیر ہو سکے
منفعت ایک ہے اِس قوم کی ، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی ، دین بھی ، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی ، اللہ بھی ، قُرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مُسلمان بھی ایک؟
!فرقہ بندی ہے کہیں ، اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ؟