آیت اللہ العظمی سیستانی سے پاپائے اعظم کی ملاقات رواداری کاواضح پیغام ہے
آیت اللہ العظمی سیستانی سے پاپائے اعظم کی ملاقات رواداری کاواضح پیغام ہے

پاپائے اعظم فرانسس اور الآیةالعظمیٰ سیستانی کی ملاقات پوری دنیا کے لئے رواداری کاواضح پیغام ہے ، علامہ ساجد نقوی

حالیہ ملاقات سے اسلام کی آفاقی حیثیت اور روشن چہرہ دنیا کے لئے کھل کر سامنے آگیا، قائد ملت جعفریہ

پاپائے اعظم فرانسس کی الآیةالعظمیٰ سیستانی سے ملاقات قرآنی تعلیمات کا عملی اظہار ہے ۔

راولپنڈی /اسلام آباد 12مارچ2021ء( جعفریہ پریس پاکستان)قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے نجف اشرف میں الآیةالعظمیٰ سیستانی کے سادہ سے گھر میں پاپائے اعظم جارج ماریوبرگوگلیو کی ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات پوری دنیا کے لئے اسلام کی آفاقی حیثیت اور روشن چہرہ دنیا کے لئے کھل کرسامنے آگیا اور یہ ملاقات قرآنی تعلیمات کا عملی اظہار ہے۔علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ملاقات کا دو تہائی وقت الآیةالعظمیٰ سیستانی اور ایک تہائی وقت میں پاپائے اعظم نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اگرچہ ملاقات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں لیکن جو نکات سامنے آئے ہیں اس میں الآیةالعظمیٰ سیستانی نے مسئلہ فلسطین کے علاوہ دنیامیں ہونے والے ظلم و جارحیت، پابندیوں اور غربت و افلاس کے ازالے پر زوردیا، انھوں نے بڑی طاقتوں اور صہیونی رژیم کی طرف سے مسلط کردہ جنگ اور محاصرے سے دور رہ کر آبرومندانہ زندگی گذارنے کے حوالے سے فلسطینی عوام کے حقوق کی تاکید کی۔ الآیةالعظمیٰ سیستانی نے دنیا بھر میں ظلم، جارحیت، پابندیوں اور غربت کی ابتر صورت حال پر اظہار تشویش کیا جبکہ دنیا آگاہ ہے کہ کون سی طاقتیں ظلم کررہی ہیں عوام کے خلاف جارحیت ہو رہی ہے اور دنیامیں غربت و افلاس مسلط ہورہی ہے چنانچہ انہوں نے واضح کیا کہ مرجعیت کی ذمہ داری دنیا کو ظلم و ستم، جنگ و جدل، غربت اور جارحیت سے نجات دلانا ہے۔آ خر میں علامہ ساجد نقوی کا کہناتھا کہ دو ذمہ دار رہنماﺅں نے ملاقات کرکے پوری دنیا کو بتا دیا کہ کس طرح آگے بڑھ کر نفر توں کو ختم اور محبت کے پیغام کو عام کیا جاسکتا ہے اور یہ بھی پیغام دیا کہ گفتگو، استدلال اور امن مذہب کی تعلیم ہے ۔