• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

ایران نے امریکا کی جانب سے درجن بھر کمپنیوں اورانیس افراد کو بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد جوہری مذاکرات معطل کردیے

جعفریہ پریس- ایران کی ایٹمی مذاکراتی ٹیم نے امریکا کی جانب سے درجن بھر کمپنیوں اورانیس افراد کو بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد جوہری مذاکرات معطل کردیے اورمشاورت کے لیے جمعہ کو تہران واپس پہنچ گئی۔ایرانی ذرائع کے مطابق اسلامی جمہوری ایران کے مذاکرات کاروں نے ویانا میں چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات معطل کردیے ہیں اور عباس عراقچی کی قیادت میں ایران کی مذاکراتی ٹیم مشاورت کے لیے جمعہ کو تہران واپس پہنچ گئی ہے- ایرانی مذاکرات کاراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممالک برطانیہ ،چین ،فرانس،روس ،امریکا اور جرمنی کے ساتھ گذشتہ ماہ جنیوا میں طے پائے عبوری سمجھوتے پر عمل درآمد کے بارے میں تبادلہ خیال کررہے تھے۔
ایرانی حکام نے حالیہ دنوں میں متعدد مرتبہ انتباہ کیا تھا کہ اگر مزید پابندیاں عاید کی گئیں تو یہ گذشتہ ماہ طے پائے سمجھوتے کی خلاف ورزی ہوں گی۔ اسلامی جمہوری ایران کے نائب وزیر خارجہ اور ایٹمی مذاکراتی ٹیم کے سینیئر رکن سید عباس عراقچی  نے امریکہ کی جانب سے ایران کیخلاف نئی پابندیوں کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نئی پابندیاں چوبیس نومبر کو جینوا میں ایران اور پی فائیو پلس ون کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی روح کے خلاف ہے-انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوری ایران حالات کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور امریکہ کی اس غیر سنجیدہ حرکت کا مناسب جواب دے گا۔
امریکا نے جمعرات کو ایران پر اس کے جوہری پروگرام کی بنا پر عاید کردہ پابندیوں کے تحت دو درجن سے زیادہ کمپنیوں اورانیس افراد کو بلیک لسٹ کردیا تھا اور ان کے پاناما ، سنگاپور ،یوکرین اور دوسرے ممالک میں موجوداثاثے منجمد کر دیے تھے-جنیوا میں طے پائے ابتدائی سمجھوتے کے بعد امریکا کی ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والی فرموں اور افراد کے خلاف یہ پہلی کارروائی ہے۔
امریکا نے اس سمجھوتے کے حصے کے طور پر اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ ایران کے خلاف آیندہ چھے ماہ تک مزید اقتصادی پابندیاں عاید نہیں کی جائیں گی لیکن اوباما انتظامیہ کے سینیر عہدے داروں کا کہنا ہے کہ جمعرات کو پہلے سے عاید کردہ پابندیوں کے تحت ہی ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے اثاثے منجمد کیے گئے ہیں اور انھیں بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔
درایں اثناء یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ اور ایران کے مذاکرات میں چھ بڑی طاقتوں کی نمائندہ کیتھرین آشٹن کے ترجمان نے کہا ہے کہ دونوں فریق مشاورت کے لیے اپنے اپنے ممالک چلے گئے ہیں اور توقع ہے کہ جلد مذاکرات بحال ہوجائیں گے۔
ترجمان مائیکل من نے کہا کہ چار روز تک طویل اور تفصیلی مذاکرات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹیکنیکل ایشوز پر ابھی مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔اب دارالحکومتوں میں مشاورت ہوگی اور توقع ہے کہ ٹیکنیکل امور پر بہت جلد بات چیت ہوگی۔
ادھرامریکی محکمہ خارجہ کے مطابق نئی پابندیوں سے عالمی طاقتوں اور ایران کے مابین جوہری پروگرام پر ہونے والا جنیوا معاہدہ متاثر نہیں ہوگا- ایرانی مذاکرات کاروں کے ویانا بات چیت سے اٹھ آنے کے بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جمعہ کو تل ابیب میں نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ ویانا میں ایران کے ساتھ ٹیکنیکل سطح کی بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے اور اب میرے خیال میں مشاورت کے لیے وقفہ کیا گیا ہے اور آیندہ چند روز میں بات چیت دوبارہ شروع ہوجائے گی ۔