تازه خبریں

بحرین – اِنسانی حقوق کی پامالی طاہرعبداللہ

ہیومن رائٹس واچ نے بحرین کے بزرگ،معزز اورمقبول ترین مذہبی رہنما،بحرین کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی الوفاق کے روحانی سرپرست اور سابق پارلیمانی رُکن آیت اللہ شیخ عیسیٰ احمدقاسم کی شہریت منسوخی کوبحرین کوتاریک دورمیں دھکیلنے کے مترادف قرار دیا اور کہاہے کہ بحرین کواِس اقدام کے بھیانک نتائج کاجلدسامناکرناپڑے گا۔بین الاقوامی طورپراِس گھناؤنے اقدام کی پرزورمذمت کی جارہی ہے لیکن امریکہ بہادرنے اِس پر کوئی خاص ری ایکشن نہیں دیاکیونکہ مشرق وسطی میں موجودگی کیلئے وہ سعودی عرب اوربحرین کی حمایت کو نہیں کھوناچاہتا۔یادرہے کہ امریکہ کاپانچواں بحری بیٹرابحرین میں لنگراندازہے اوریہیں سے امریکہ نے عراق پر 1991ء اور2003ء میں حملہ کیاتھا۔
اسلام کی آمدسے پہلے آج کا بحرین ۔۔ قطر،کویت ،متحدہ عرب امارات ،شمالی عراق ، اورسعودی عرب کے دوعلاقے الاحساء اورقطیف پرمشتمل تھا اوریہاں کے باسی بتوں کی پوجاکیاکرتے تھے۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب اِسلام آیاتو628ء میں رسول پاک ؐنے ابوالاعلی ٰ الحضرمیؓ یمنی کوحکمران منذربن سلوی ٰ التمیمی کے پاس اِسلام قبول کرنے کیلئے اپناخط دے کربھیجا۔اِ س خطہ کے لوگوں نے دعوتِ اسلام قبول کرلی اوروہ خط آج بحرین کے حوراشہر کے” بیت القرآن عجائب گھر”میں محفوظ ہے۔اِس علاقے پر1541ء تک عربوں کاکنٹرول رہا۔پھرپرتگالیوں نے حملہ کرکے اِس پرقبضہ کرلیا۔ایک بار پھر 1602ء میں ایرانیوں نے حملہ کرکے اِس پراپنی حکومت قائم کرلی۔پھر1783ء میں احمدبن آلِ خلیفہ نے قبضہ کرلیااوریہ قبضہ آج تک جاری وساری ہے۔اِس خاندان کی بادشاہت کے دوران برطانیہ نے 1820ء میں اِسے اپنی کالونی بنالیالیکن بادشاہ اِنہیں کو برقرار رکھااورپھر 14اگست 1971ء کومکمل طورپرآزاد کردیا۔ بحرین 33 جزیروں پرمشتمل ایک چھوٹاساملک ہے۔مغرب میں سعودی عرب ہے جسے 25کلومیٹرطویل سمندری پُل کے ذریعہ جوڑاگیا ہے۔ شمال میں 300کلومیٹرکے فاصلے پر ایران واقع ہے اورجنوب میں قطر ہے۔اِس کا رقبہ 665 مربع کلومیٹر اور آبادی 13لاکھ افرادپرمشتمل ہے ۔جس میں 70فیصدمسلمان، 15 فیصد عیسائی، 10 فیصد ہندو، 3 فیصدبدھ مت اورباقی یہودی اوردوسرے مذاہب ہیں۔اِن سترفیصدمسلمانوں میں 70فیصد شیعہ اور 30فیصد سنی ہیں۔اِس ملک پرحکومت کرنے والاخاندان آلِ خلیفہ کہلاتاہے کیونکہ 233سال پہلے اِس ملک پراحمدبن آل خلیفہ حکمران بنے تھے۔اِس شیعہ اکثریتی ملک پر سنی مسلک کی حکومت ہے۔حکمران پارٹی امام مالک (711ء795-ء)کی پیروکارہے اورسرکاری طورپرسکولوں کے نصاب میں بھی اِس مسلک کوباقی مذاہب پرترجیح دی جاتی ہے۔مذہبی اجتماعات اجازت کے ساتھ مشروط ہیں لیکن بادشاہت پرتھوڑی اورمعمولی سی تنقیدبھی برداشت نہیں کی جاتی۔
1971ء میں برطانیہ کے چلے جانے کے دوسال بعد بحرین کاآئین بنااورخلیفہ عیسیٰ بن سلیمان نے اپنے چھوٹے بھائی خلیفہ بن سلمان کوبحرین کابلامنتخب وزیراعظم نامزدکردیا۔وہ موصوف عرصہ ۴۳ سال سے اِس ملک کے مستقل اورمسلسل وزیراعظم چلے آرہے ہیں۔ 1994ء سے اہل تشیع نے نماز،مجلس اورماتم جیسے فرائض کی ادائیگی کے بعد اپنے بنیادی جمہوری حقوق کے بارے میں پرزور آواز بلندکرناشروع کی جودوسوسال سے معطل اورغصب تھے۔بحرین میں امتیازی صورتحال یہ ہے کہ فوج، سیکورٹی اداروں،وزارتِ تعلیم ، وزارتِ داخلہ وخارجہ ،وزارتِ خزانہ،وزارتِ ثقافت واِنصاف،اقتصادی بورڈ اورسپریم کونسل میں اہلِ تشیع کوایک منظم منصوبہ بندی کے ذریعہ اعلیٰ عہدوں پرنہیں آنے دیاجاتا۔ یہاں تک کہ 13سوسال سے اِس ملک میں رہنے والے شیعہ باسیوں کوملک کے بڑے شہر “رِفا”میں رہنے کیلئے کرائے پرمکان لینے اورزمین خریدنے تک کی اجازت نہیں ۔حالانکہ حکومت کی طرف سے شہریوں کو سرکاری طورپررہائشی فلیٹ دئیے جاتے ہیں لیکن اہلِ تشیع اِس سہولت سے محروم ہیں۔امتیازی سلوک اورظلم کی انتہایہ ہے کہ اِس ملک کی سترفیصد اکثریتی شیعہ قوم کوحکومتی سطح پر نمائندگی سے بالکل نظراندازکیاگیاہے لیکن 15فیصد عیسائیوں کی نمائندگی کیلئے ایلس ٹامس بحرین کی طرف سے برطانیہ میں سفیر ہیں اور پورے ملک بحرین میں صرف 37 یہودی افراد آبادہیں لیکن بحرین کی طرف سے امریکہ میں جوسفیر’ہودابراہیم نونو’مقررہیں وہ یہودی ہیں۔آل خلیفہ صدیوں سے ایک کامیاب چال چل رہے تھے کہ شیعہ قوم مجلس،ماتم اورنمازمیں مصروف رہے لیکن سیاست اوراپنے مستقبل کی طرف اُن کادھیان نہ جائے تاکہ آل خلیفہ ملک وقوم کے مالک اورحکمران بنے رہیں۔اِس لئے بحرین میں جہاں جہاں اہلِ تشیع کی کثیرآبادی ہے وہاں بڑی بڑی مساجد اورامام بارگاہیں توموجودہیں لیکن اِن شیعہ اکثریتی علاقوں میں نہ روزگارفراہم کرنے والی فیکٹریاں نہ کارخانے ،نہ کوئی آسمانی کوچھوتی بلڈنگ اورنہ کوئی بین الاقوامی ائرپورٹ اورنہ ہی انٹرنیشنل لیول کاکوئی سکول ،کالج اورنہ ہی کوئی یونیورسٹی ہے ۔ مثال کے طورپر سب سے بڑے شیعہ اکثریتی شہر ‘عالی’ اگردیکھیں تووہ ایک لاکھ آبادی پرمشتمل شہرہے جوبحرین کے بالکل وسط میں ہے اورسب سے پراناشہر ہے۔لیکن یہاں کے قابلِ دیدمقامات میں 3ہزارسال پرانے قبرستان ہیں اور بس ۔”السِترہ40 “ہزار شیعہ آبادی پرمشتمل الگ جزیرہ ہے۔جس میں صرف کھیت اورکھجوروں کے باغات اورتیل ذخیرہ کرنے کے ڈپو ہیں ۔ “جدحفص” شیعہ شہرکی آبادی تو 11ہزارہے لیکن اِس میں 3دینی حوزے،28 مساجداور21امام بارگاہ ہیں جس میں خواتین کے 8 امام بارگاہ ہیں۔اِسی طرح 14ہزارآبادی پر مشتمل شیعہ شہر “دِراز”ہے۔اِس میں 14جامع مساجد اور18امام بارگاہ ہیں لیکن اِس کے سوااورکچھ نہیں۔
ایران میں آئے اسلامی انقلاب نے غلامی ، گمنامی اورپسماندگی میں زندگی گزارنے والی شیعہ بحرینی قوم کی قسمت کے دروازے پرجب زورداردستک دی توسابق جج شیخ عبدالامیرالجمری (فاضلِ نجف)نے 1988ء میں شیعہ قوم کیلئے کچھ کرگزرنے کا فیصلہ کر لیا۔ حالانکہ وہ اِسی بادشاہت کی ربڑسٹیمپ پارلیمنٹ کے 2سال ممبررہے تھے اور11سال جج کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے تھے۔لیکن جونہی اُنہوں نے قوم کے روشن مستقبل اورانسانی بنیادی حقوق کی بات کی اورحکومتِ وقت کی امتیازی پالیسیوں پرتنقیدکی تواُن کوفوری طورپر گرفتار کر لیا گیا۔وہ ملک میں جمہوری حقوق کی بحالی اور شیعوں سے امتیازی سلوک کے خاتمے کی جدوجہد میں کئی بار گرفتار ہوئے، نظر بندہوئے اورآخربحرین کے امیر عیسیٰ بن سلمان نے 1996ء میں اُن کو10سال قید اور15ملین ڈالرکی خطیررقم جرمانے کی سزا دے دی ۔ بحرین کی اِس جمہوری اورآئینی حقوق کی بحالی کی جدوجہد میں ایک نوجوان عالم دین شیخ علی سلمان (بی ایس سی +فاضلِ قم)نے بھی بہت اہم کرداراداکیاجنہیں چندماہ پہلے نوسال قیدتنہائی کی سزاسنائی گئی ہے۔ہواکچھ یوں کہ غیرملکی کمپنیوں نے1994ء میں حکمرانوں کے ساتھ مل کربحرین میں” ایک میراتھن ریس” کااہتمام کیا۔اِس فحاشی اورعریانی پھیلانے کے پروگرام سے اِنہوں نے حکمرانوں کوروکا لیکن وہ میراتھن ریس کے انعقادپر بضدرہے۔پس اِس ریس میں نیکراورشارٹ شرٹ میں حصہ لینے والے مردوخواتین جب شیعہ شہروں سے گزرے توشیعہ نوجوانوں نے منصوبے کے تحت اُن کی ریس میں خلل ڈالا اور پتھراؤکیا۔جس پر حکومتی پولیس کی جانب سے فائرنگ کی گئی ۔ جس کے نتیجے میں درجنوں شیعہ نوجوان مارے گئے،سینکڑوں زخمی ہوئے اورشیخ علی سلمان کوگرفتارکرلیاگیااور1995ء میں اِنہیں دبئی جلاوطن کردیاگیا۔وہاں سے وہ لندن چلے گئے اوروہیں سے اپنے ملک میں انسانی حقوق کی بحالی کی تحریک کوجاری رکھا۔
پھر بحرین کے امیرعیسیٰ بن سلیمان1999 ء میں فوت ہوگئے اوراُن کے بیٹے حمادبن عیسیٰ امیر بنے تواُنہوں نے آتے ہی جمہوری اصلاحات جلدلانے کاوعدہ کیااورتمام سیاسی قیدیوں کورہاکردیااورساتھ ہی تمام جلاوطن رہنماؤں کوواپس ملک آنے کی اجازت دے دی۔جس پر شیخ عبدالامیر الجمری جیل سے رہاہوگئے اورشیخ علی سلمان لندن سے جلاوطنی ترک کرکے اپنے ملک بحرین واپس آگئے۔ 7نومبر2001ء میں اہل تشیع نے ‘الوفاق نیشنل اسلامک سوسائٹی ‘کے نام سے سیاسی پارٹی کی بنیادرکھی جس کے پہلے سیکرٹری جنرل شیخ علی سلیمان بنے اورشیخ عبدالامیر الجمری کوپارٹی کامذہبی رہنمابنادیاگیا۔اِس پارٹی کانعرہ ‘ہم اپنے ملک کاتحفظ کریں گے’قرار پایا۔ ” الوفاق “نے قوم میں سیاسی بیداری ، اورشعور و آگاہی کیلئے دن رات ایک کردئیے۔2006ء میں عبدالامیر الجمری کافی عرصہ علیل رہنے کے بعدخداکوپیارے ہوگئے اورآیت اللہ عیسی احمدقاسم جوفاضل نجف اور شہید باقر الصدرکے براہ راست شاگردہیں کوپارٹی کامذہبی سربراہ بنا دیا گیا۔ 2006ء میں”الوفاق” نے اِس سال الیکشن میں حصہ لے کرپارلیمنٹ کے ذریعے ملک اورقوم کی ابترحالت میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیااور40سیٹوں میں سے 18پراپنے نمائندے کھڑے کردئیے۔الوفاق کی محنت رنگ لائی اور18میں سے 17سیٹیں جیت کربحرین کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی بن گئی۔قوم کے حوصلے بلندہوئے پھر2010ء کے الیکشن میں 18سیٹوں پر آدمی کھڑے کئے گئے ۔ اِس بار18کی 18سیٹیں الوفاق نے جیت کراپنے کامیابی کے سفرکونہ صرف جاری رکھابلکہ دُنیاکواپنی طرف متوجہ کر لیا۔ کیونکہ مالکی سنی حکمران پارٹی نے 2سیٹیں ،سلفی سنی پارٹی نے تین اورآزادارکان نے 17سیٹیں جیتی تھیں ۔
2011ء میں عرب ممالک میں رُونما تبدیلی کی بہارنے بیداراہلِ تشیع کے ساتھ ساتھ اہل سنت برادران کوبھی جگادیا۔ شیعہ اور اہلِ سنت افرادنے مل کرجمہوری حقوق کی بحالی کی تحریک کا آغازبحرین کے دارالحکومت مانامہ کے “پرل اسکوائر”پر دھرنادے کرکیا۔ایک لاکھ سے زائد افرادوہاں پرڈٹے اورجمے رہے۔مظاہرین کی وفاداریاں خریدنے کیلئے بادشاہ نے ہربحرینی شہری کو2لاکھ 70ہزارروپے اورملازمت دینے کاوعدہ کیا۔جس پر اپوزیشن مزید ڈٹ گئی ۔ مظاہرین کو منتشرکرنے کیلئے پولیس نے آنسوگیس کی شیلنگ اورفائرنگ کی۔جس کے نتیجے میں دوافرادشہید ہوئے اوردرجنوں مظاہرین زخمی ہوگئے۔اگلے دن تدفین کے موقع پر پھر پولیس نے حملہ کردیا۔ جس پرمظاہرین اورمشتعل ہوگئے اورعوام کی تعدادمیں اضافہ ہونے لگااوریہ دھرناہفتوں جاری رہا۔لیکن اِس عوامہ بیداری تحریک کوکچلنے کیلئے سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات سے 2ہزارفوجی آ گئے ۔(غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پاکستان سے بھی کرائے پر فوجی مانگے گئے اوربھیجے بھی گئے) جس پرالوفاق نے شدیداحتجاج کیااوراِس اقدام کوکھلی دہشت گردی اورجارحیت قراردیا۔الوفاق کے 18پارلیمانی ممبران نے احتجاجاًاستعفی ٰ دے دیا۔حالات بگڑتے دیکھ کربادشاہ نے مارشل لگاکرالوفاق پرریلی نکالنے ،پریس کانفرنس کرنے،بیان جاری کرنے اوردفتراستعمال کرنے پرپابندی لگادی گئی۔کئی بے گناہ افراد کو جیلوں میں ڈال کرکوڑے مارے گئے،الیکٹرک شاک لگائے گئے بلکہ ہرقسم کاظلم وتشددروارکھاگیااورخواتین کوبھی جیلوں میں ڈال دیاگیا۔کئی افراداپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔پھرعالمی دباؤپر 3ماہ بعدایمرجنسی ہٹادی گئی اور146افرادکی موت کوتسلیم کیاگیااورساتھ ہی اہل تشیع کی مساجدکوغیرقانونی اورتجاوزات کے بہانے گرائے جانے کاسلسلہ شروع ہوگیا۔اِس جمہوری اور آئینی مطالبے کوشیعہ بغاوت کانام دیاجانے لگا۔ملک بھرمیں شیعہ اورسنی تفرقہ بازی کی تشہیرشروع کردی گئی اوراِس کے پیچھے ایران پر پشت پناہی کاالزام تواترسے دہرایاجانے لگا۔
شیعہ اکثریت کوکم کرنے کیلئے پچھلے دوعشروں سے جاری مہم جس میں شام،اُردن،یمن اورپاکستان سے اہل سنت خاندانوں کو شہریت اورمفت گھردئیے جارہے تھے کو مزید تیزتر کر دیاگی جیسے گلگت بلتستان اورکرم ایجنسی میں جنرل ضیاء نے شیعہ آبادی کوکم اورکمزور کرنے کیلئے وہاں ہزاروں افغان مہاجرین اور متشددسوچ رکھنے والے اہلِ سنت افرادکومنصوبہ بندی سے آبادکرایاگیا تھا۔ساتھ ہی اِن ہزاروں غیرملکی افراد کوفوج اورسیکورٹی اداروں میں ملازمت دی گئی۔ملک بھرمیں مظاہروں پر پابندی لگادی گئی اورہزاروں شیعہ افرادکوجیل میں ڈال دیا گیا۔اپوزیشن کے پاس نہ ٹی وی چینل ہے،نہ ریڈیواورنہ ایف ایم ہے، جس کے ذریعے وہ اپنی حقوق کی آوازعوام اوربین الاقوامی اداروں تک پہنچاسکے۔رہ جاتاہے یہ سوشل میڈیاجس پرحکمرانوں کی کڑی نگرانی ہے ۔
مشرق وسطی میں انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ سارہ لے واٹسن کا موقف ہے کہ بحرین میں امتیازی سلوک،فرقہ واریت،تشدداورقتل کے واقعات میں سرکاری مشینری ملوث ہے۔اُن کاموقف ہے کہ جب تک سیاسی اورمذہبی شخصیات جیل میں ہیں، تب تک بحرین میں اِنسانی حقوق کی بحالی کاکوئی اِمکان نہیں۔ سیدالوداعی جوبحرین میں برطانوی ادارہ برائے حقوق اورجمہوریت کے ڈائریکٹرہیں نے شیخ عیسی احمدقاسم کی شہریت منسوخی کومستقبل میں بحرینی عوام میں بے چینی ،تناؤ اورتشددکاباعث بننے کاموجب قرار دیا ہے۔الوفاق پارٹی کے سیاسی اورانقلابی رہنما شیخ علی سلمان جواِس وقت جیل میں ۹برس کی بے جرم وبے خطا سزابھگت رہے ہیں نے اپنے پیغام میں کہاہے کہ ہماری جدوجہداُس وقت تک جاری رہے گی جب تک اہلِ تشیع سے امتیازی سلوک ختم نہیں کیا جاتا اور صحیح معنوں میں ملک میں جمہوری حکومت قائم نہیں کی جاتی۔ جبکہ سعودی عرب کی اعلی ٰمجلسِ شوری نے حسب توقع اِس اقدام کوخوش آمدید کہاہے۔لیکن اُمیدکامل ہے کہ آلِ خلیفہ ، آل سعودکی تھپکی کونظراندازکرتے ہوئے ،بین الاقوامی تشویش اورپریشانی کوخاطرمیں لاتے ہوئے اوربحرینی عوام کی بے چینی کوختم کرنے کیلئے اپنے اِس غیرمنصفانہ ،غیرانسانی اورغیرجمہوری فیصلے پرنظرثانی کرے گی اور فوری واپس لینے کااعلان کرے گی۔