تحفظ ختم نبوت کانفرنس شیعہ علماء کونسل کے مرکزی سکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی اور مرکزی رہنما ڈاکٹر علامہ شبیر حسن میثمی کی شرکت
Jafariapress.com
اسلام آباد:جمعیت علمائ اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ڈریم لینڈ ھوٹل اسلام آباد میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی جس میں درج ذیل علما اور سیاسی مذہبی شخصیات نے شرکت اور خطاب کیا،علامہ عارف حسین واحدی ،علامہ شبیر حسن میثمی,مولانا سمیع الحق،راجہ ظفر الحق،مولاناپروفیسر ساجد میر،صاحبزادہ ابوالخیرزبیر،حامد میر،پیر سید ضیا أاللہ شاہ بخاری،حافظ عاکف سعید،اعجاز الحق،قاری زوار بہادر،مولانا اللہ و سایا،مولانا فضل الرحمان خلیل،قاری حنیف جالندھری اور کثیر تعداد میں دیگر سیاسی و مذہبی راھنما ۔۔۔۔۔ علامہ عارف واحدی نے خطاب کرتے ھوئے مولانا فضل الرحمان اور مولانا اللہ و سایا کو یہ کانفرنس منعقد کرنےپر اور تمام مسالک کے علمائ کرام کو ایک جگہ اکٹھا کر کےقانون تحفظ ختم نبوت پر اپنا نقطہ نظر بیان کرنے کا موقعہ دیا-علامہ عارف واحدی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں تمام مسالک اس قانون پر متفق ھیں یہ حضور اکرم کی عزت و عظمت اور حرمت کا پاسبان ھے تمام امت اس پر متفق ھے اور اس قانون کے خلاف ھر سازش کو جرات وبہادری سے ھم سب ملکر ناکام بنائیں گے اس میں کسی قسم کی ترمیم قابل قبول نہیں،البتہ اس قانون کا مسلمانوں کے خلاف غلط استعمال ھونا افسوسناک امر ھے بعض شدت پسند اس کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر رھے ھیں ھمیں حکومت کے ساتھ ملکر اس قانون کا غلط استعمال روکنا ھو گا-
علامہ واحدی نے کہا کہ دشمنان اسلام قوتوں نے ایک سازش کے تحت امت مسلمہ میں اختلاف ڈال کے گل آلود پانی سے مچھلی پکڑنے کی کوشش کی ھے،ان تمام سازشوں کو ناکام بنانے کے لئےھمیں ایک ھوکر ان کا مقابلہ کرنا ھو گا جب ھم متحد تھے پاکستان جیسا عظیم ملک بنا لیا تھا اب بھی اپنی صفوں میں اتحاد قائم کر کے ملک و ملت اور اسلام کے خلاف ھر سازش کو ناکام بنا دیں گے –
علامہ عارف واحدی نے قادیانیوں کی طرف اشارہ کرتے ھوئے کہا کہ قادیانی ایک سامراجی مذہب ھے ان کے مراکز لندن اور غربی ممالک میں ھیں اسی طرح بہائی اور بابی باطل مذاہب بھی یہودیوں کی پیداوار ھیں جن کے مراکز اسرائیل میں ھیں یہ سب مذاہب ختم نبوت کے منکر ھیں ان کو کسی بھی سرکاری پروگرام میں مدعو نہ کیا جائے جناب راجہ ظفر الحق صاحب سے گذارش ھے کہ سرکاری پروگراموں میں ان منحرف مذاہب کے پیروکاروں کو دعوت نہ دی جائے