تفتان بارڈر پر زائرین کیساتھ بدترین سلوک انسانیت کی تذلیل اور ناقابل برداشت ہے،عرصہ سے توجہ مبذول کرارہے ہیں ،کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا جارہا، تفتان میں ٹھہرنے کی جگہ نہ اشیائے ضروریہ و علاج کی سہولت، اپنے ہی ملک میں ایسی تذلیل تشویشناک ہے، ترجمان قائد ملت جعفریہ پاکستان

 اسلام آباد17 اگست 2017 ء(   دفتر )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے ترجمان نے کہاہے کہ تفتان بارڈر پر زائرین کے ساتھ سلوک انسانیت کی تذلیل، توہین کا ناقابل برداشت سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے، ایک عرصہ سے توجہ مبذول کرانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن افسوس کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا جارہا، ہر چند روز بعدہزاروں زائرین کو کسی نہ کسی بہانے سے روک لیا جاتاہے، تفتان میں ٹھہرنے کی جگہ نہ اشیائے ضروریہ و علاج و معالجے کی سہولت میسر ہے ،ترجمان دفتر خارجہ کا بیان اشک شوئی سے زیادہ نہیں۔

ترجمان نے ان خیالات کا اظہار تفتان بارڈرپر آئے روز زائرین کو درپیش مسائل پر اپنے رد عمل میں کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان کے ترجمان نے کہاکہ تفتان بارڈر پر زائرین کے ساتھ جو سلوک کیا جارہاہے وہ انسانیت کی تذلیل اور توہین کے مترادف ہے، انہوںنے کہاکہ بذریعہ زمینی راستہ کوئٹہ تفتان سب سے موزوں راستہ ہے لیکن عوام کو ایک منصوبہ بندی کے تحت پریشان کیا جاتاہے ،تفتان میں قائم پاکستان ہاﺅس میںصرف 200 سے 300 افراد کی رہائش کی گنجائش ہے لیکن وہاں 3ہزار او ربعض اوقات اس سے بھی زیادہ افراد کو بھیڑ بکریاں سمجھ کر کئی روز تک محصور کردیا جاتاہے۔جس سے ایک جانب سیکورٹی کی صورتحال درپیش ہوتی ہے تو دوسری جانب اشیائے ضروریہ کی سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں، موسم کی سختی کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔ ہم بارہا مرتبہ اس جانب توجہ مبذول کراچکے ہیں اور اوپر سے نیچے تک ہرسطح پر رابطے کئے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہورہی یہ مسئلہ دن بدن زور پکڑتا جارہاہے ، عوام کی مشکلات میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہورہاہے۔ انہوںنے کہاکہ اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا بیان اشک شوئی سے زیادہ نہیں۔
انہوں نے یہ بات زور دیتے ہوئے کہاکہ زائرین کی توہین و تذلیل ایک کمیونٹی کی توہین و تذلیل ہے جو ناقابل برداشت ہے اس لئے زائرین کے مسئلے پر فی الفور توجہ دے کر سنجیدہ اقدام اٹھایا جائے اور ہمیں اس سلسلے میں لائحہ عمل دینے پر مجبور نہ کیا جائے کیونکہ کبھی سیکورٹی کے نام پر زائرین کو پریشان کیا جاتاہے اور کبھی موسم کا بہانہ بنا کر انہیں پاکستانی حدود کے اندر روک لیا جاتاہے، اپنے ہی ملک میں اپنے شہریوں کے ساتھ یہ سلوک کسی صورت برداشت نہیں کرینگے۔ آمدہ محرم الحرام اور صفر المظفر کو مد نظر رکھ کر مناسب و سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here