جعفریہ پریس – قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ 1947کے بعد پاکستان میں آنے والے تمام حکمرانوں کی تاریخ اور کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو انتہائی افسوس کے ساتھی یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ قراردادِ پاکستان میں شامل مقاصد اوراہداف کے ساتھ کتنی ناانصافیاں اور زیادتیاں ہوئی اور قرارد ادِ پاکستان کی روح کو مسخ کر کے بانیان پاکستان کی ارواح کو تڑپایا جا رہا ہے ہمارے ملکی آئین اور قانون کی بنیاد بھی قرارد اد پاکستان تھی لیکن جس طرح مختلف ادوار میں آئین کو معطل یا منسوخ کر کے ملک کا حلیہ بگاڑا جاتا رہا اُس سے قرار دادا پاکستان کی توہین ہوئی ہے ۔ اور توہین کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے جب ہی تو قرار دادِ پاکستان کی روح پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ہم نے پاکستان کی سالمیت ، خود مختاری اور اُن اعلیٰ اہداف و مقاصد کا درست انداز میں تحفظ نہیں کیا جن کے لیے پاکستان کی تشکیل ہوئی تھی۔
یوم پاکستان پر اپنے خصوصی پیغام میں قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ قراردادِ پاکستان جہاں عوام کو وطن دوستی اور حب الوطنی کی طرف متوجہ کرتی ہے وہاں حکمرانی کو جمہوریت ، انصاف اور سالمیت و خود مختاری کی حفاظت جیسی ذمہ داریوں کی طرف رہنمائی کرتی ہے بانیِ پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ؒ اور مصور پاکستان علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒ نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا آج ہمیں دور دور تک وہ پاکستان نظر نہیں آتا بلکہ پاکستان کے حالات قرارداد پاکستان کے مخالف اور متضاد سمت میں نظر آتے ہیں ہمارا المیہ یہی رہا ہے کہ ہمارے حکمران طبقے قراردادِ پاکستان پر عمل پیرا ہونے کے بجائے اقتدار و مفادات کا کھیل کھیلتے رہے ہیں جبکہ عوام کو مسائل کا شکار کرکے حکمرانوں کے احتساب کا راستہ بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے خرابیوں اور آلائشوں میں مذید اضافہ ہوتا گیااور ملک ہر قسم کے آئینی ، نظریاتی اور معاشرتی بیماریوں کا شکار ہو کر مریض بن گیا۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ارضِ پاکستان کو ایک منصوبہ بندی کے تحت تیزی کے ساتھ تباہی کی جانب لے جایا جا رہا ہے ۔بدامنی ، دہشت گردی ، قتل و غارتگری اور ٹارگٹ کلنگ نے ملک کی چولیں تک ہلا کے رکھ دیں ہیں جن عناصر نے یہ کھیل کھیلا وہ اب اتنے سرکش اور طاقتور ہو چکے ہیں کہ دوبارہ ملک کو صحیح راستے پر گامزن کرنے کی ہر کوشش ناکام بنا دیتے ہیں اور وطن دوست طبقات کی کوششوں میں روکاوٹیں پیدا کر دیتے ہیں اِنہی عناصر کے ذریعے پاکستان کو مختلف پالیسیوں کی بھینٹ چڑھا کر ایک دست نگر، غلام ، مقروض ، مفلس اور اغیار کے مفادات کے لیے استعمال ہونے والا ملک بنا کر رکھا دیاہے جس کی وجہ پاکستان آج دنیا بھر میں بالعموم اور عالمِ اسلام میں بالخصوص بدنام ہو چکا ہے ۔
قائد ملتِ جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ پاکستان کو لاحق تمام خطرات و امراض کا شافی علاج یہی ہے کہ سب سے پہلے عوام بیدار، متحد اور منظم ہوں ، قراردادِ پاکستان کی روح کو زندہ کرتے ہوئے تحریک پاکستان کے جذبے کو بیدا کریں ، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کیلئے جدوجہد کریں اورجہوریت ، انصاف اور اسلامی اقدار کے قیام اور آمریت کے خاتمے کیلئے اقدامات کریں ۔ پاکستان معاشرے کو ناانصافی ، ظلم ، بے عدلی ، کرپشن دہشت گردی ، رشوت خوری ، فحاشی ، عریانی لاقانونیت اور دیگر معاشرتی برائیوں سے پاک کر کے ایک اسلامی ، فلاحی ، جمہوری اور نظریاتی مملکت بنانے کیلئے اپنی توانیاں صرف کریں اور اس راستے میں بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہ کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here