فتح جنگ 23جنوری 2016
دہشت گردی کی لرزہ خیز واردات مذہبی منافرت کی بنا پر فتح جنگ ہائی سکول نمبر2میں جماعت دہم کے طالب علم کو اپنے ہی 3ساتھیوں نے مل کر ذبح کر دیا 3روز بعد لاش ویران جگہ سے برآمد پولیس نے دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے 2ملزمان کو گرفتار کر لیا تیسرے کی تلاش جاری ہے تفصیلات کے مطابق سابقہ فوجی سید مستان شاہ سکنہ بھال سیداں کا جواں سال بیٹا سید مزمل حسین شاہ بوائز ہائی سکول فتح جنگ میں جماعت دہم بی کا طالب علم تھا 20جنوری 2016کو گھر سے سکول گیا اور واپس نہ آیا تو والدین کو تشویش ہوئی ڈھونڈنا شروع کر دیا پولیس کو اطلاع کی ڈی ایس پی راجہ طاہر بشیر اور ایس ایچ او چودھری اختر علی کی نگرانی میں تفتیشی آفیسر ایس آئی انجم سہیل اور اے ایس آئی حافظ شبیر احمد نے سکول سے تفتیش شروع کی تو مقتول سمیت کلاس کے 4طالب علم سکول سے غیر حاضر تھے پولیس نے دور افتادہ گاؤں سے جماعت دہم کے طالب علم حافظ احمد شعیب کو گرفتار کر کے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ حافظ محمد علی اور کاشف سے مل کر مزمل حسین شاہ کو قتل کر کے لاش ویران جگہ میں دبا دی ملزم کی نشاندہی پر پولیس نے بوائز ڈگری کالج کے قریب کھیتوں میں مٹی تلے دبی لاش برآمد کر لی مقتول مزمل حسین شاہ کا گلہ تیز دھار آلے سے کٹا ہوا تھا سکول یونیفارم اور بیگ سمیت خون میں لت پت پڑا تھا پولیس نے دوسرے ملزم کاشف کو بھی گرفتار کر لیا مقتول کے والدین نے بتایا کہ مزمل حسین شاہ صوم صلاۃ کا پابند اور فرمانبردار لڑکا تھا اس نے 2ماہ قبل گھر میں 3ملزمان کے بارے میں بتایاوہ اسکے گلے میں ’’یاعلی مدد‘‘ والے لاکٹ اور ماتم داری پر سخت تنقید کرتے ہیں مذہبی بحث مباحثہ کی وجہ سے انکا جھگڑا بھی ہواجو بعد میں صلح صفائی ہو گئی مگر ملزمان کے دل سے بغض نہ گیا مقتول کے والد نے کہا کہ23سال پاک فوج میں ملازمت کی میرے 2بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں انتہائی مشکل سے گذر اوقات کر رہے تھے کہ ظالموں نے میری کمر توڑ دی میرے بڑھاپے کا سہارا مجھ سے چھین لیا 3روز سے ہمارے گھر میں چولہا نہیں جلا مزمل حسین شاہ گھر میں سب سے لاڈلا تھا ظالموں کی بے رحمانہ کاروائی نے میری کمر کا زور توڑ دیا دروزاے پر نظریں جمائے بیٹھی مقتول کی والدہ اور اسکی بہنوں پر غشی طاری ہے میری آرمی چیف ،وزیر اعظم ،وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر داخلہ سے درخواست ہے کہ مجھے انصاف دلایا جائے فتح جنگ میں بھی ضرب عضب کی طرح آپریشن کیا جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here