جعفریہ پریس- شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ خیبر پختونخوا کے صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے ایران اور امریکہ کے مابین یورنیم افزودگی کے جینوا معاہدے کو دنیا کے امن کیلئے خوش آئین بلخصوص ایشیائی ممالک کیلئے باہمی تعاون و ترقی کے فروغ کا سنگ میل قرار دیا ہے۔ جبکہ انہوں نے پاکستان اور ایران کے مابین گیس پائپ لائن منصوبے میں تیزی سے پیش رفت پر دونوں ممالک کے اتفاق کے طے پا جانے کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر شیعہ علماء کونسل پاکستان خیبر پختونخوا علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا ہے کہ جینوا معاہدہ ایران کی کامیاب ڈوپلومیسی کا نتیجہ ہے۔ جس کے زریعے ایران نے عالمی طاقتوں کو منوایا کہ ایران خطہ اور دنیا کا اہم اور ذمہ دار ملک ہے اور اس کا جوہری پروگرام پرامن اور اقتصادی اور سماجی ترقی کیلئے ہے۔ جو کسی ملک کا عالمی قوانین کے دائرے کے اندر جائزحق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے سے نہ صرف امریکہ ایران تعلقات کی استواری میں مدد ملے گی بلکہ جنوبی ایشیائی ممالک کی سیاسی اور علاقائی فضاء پر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم اسرائیل سمیت بعض ممالک کی جانب سے معاہدے کے خلاف بیان بازی نے ان کو بے نقاب کر کے ان کی اصلیت دنیا پر ظاہر کر دی ہے کہ یہی ممالک امریکہ اور اسلامی ممالک کے مابین اختلاف و افتراق کی اصل وجہ ہیں اور یہی ممالک دنیا کے امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ جینوا معاہدہ نے پاکستان اور ایران کے مابین گیس پائپ لائن منصوبے سمیت دیگر شعبوں میں تعاون و تجارت میں حائل روکاوٹیں دور کر دی ہیں اور اب دونوں ممالک بلا تاخیر ہر شعبے میں تعاون کو فروغ دیکر خطے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر تیزی سے پیش رفت پر اتفاق طے پا جانے کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here