• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

“حضرت امام حسین ع اخلاق نبوی کے پیکر”اعظم علی اعظمی

نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ کی عبادت، زہد، سخاوت اور کمال اخلاق کے دوست و دشمن سبھی قائل تھے۔ پچیس مرتبہ پاپیادہ حج کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ کی سخاوت اور شجاعت کے بارے میں خود رسول اکرم ؑ نے فرمایا کہ حسین میری سخاوت اور میری جرائت ہے۔ حضرت امام حسینؓ کے دروازے پر مسافروں اور حاجتمندوں کا سلسلہ برابر قائم رہتا تھا اور کوئی سائل محروم واپس نہیں ہوتا تھا ۔ اس وجہ سے آپ کا لقب ابوالمساکین ہوگیا تھا۔ راتوں کو روٹیوں اور کحجوروں کے پشتارے اپنی پیٹھ پر لیجاتے اور غریب محتاج بیواوَں اور یتیم بچوں میں تقسیم کیا کرتے تھے۔ حضرت امام حسینؓ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ جب کسی صاحب ضرورت نے تمہارے سامنے سوال کے لیے ہاتھ پھیلادیا تو گویا اس نے اپنی عزت تمہارے ہاتھ بیچ ڈالی۔ اب تمہارا فرض یہہے کہ تم اسے خالی ہاتھ واپس نہ کرو ، کم سے کم اپنی ہی عزت نفس کا خیال کرو۔
امام حسینؓ غلاموں اور کنیزوں کے ساتھ عزیزوں کا سا برتاوَ کرتے تھے اور ذرا ذرا سی بات پر انہیں آزاد فرمادیا کرتے تھے۔ آپ کے علمی کمالات کے سامنے دنیا کا سرجھکا ہوا تھا، مذہبی مسائل و اہم مشکلات میں آپ کی طرف رجوع کیا جاتا تھا۔ آپ کی دعاوں کا ایک مجموعہ صحیفہ حسینیہ کے نام سے اس وقت بھی موجود ہے۔ آپ رحمدل ایسے تھے کہ دشمنوں پر بھی وقت آنے پر رحم کھاتے تھے اور ایثار ایسا تھا کہ اپنی ضرورت کو نظرانداز کرکے دوسروں کی ضرورت کو پورا کرتے تھے۔ ان تمام بلند صفات کے ساتھ متواضع و منکسر ایسے تھے کہ ایک مرتبہ چند فقراء نے بھیک کے ٹکڑے کھاتے ہوئے آپ کو کھانےکی دعوت دی تو آپ فورا ان کے ساتھ بیٹھ گئے لیکن کھانے میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے کیونکہ صدقہ آل محمدؑ پر حرام ہے، مگر ان کے پاس بیٹھنے میں کوئی عذر نہیں ہوا۔
اس خاکساری کے باوجود آپ کے بلندی مرتبہ کا یہ اثر تھا کہ جس مجمع میں تشریف فرما ہوتے تھے لوگ نگاہ اٹھا کر بات نہیں کرتے تھے۔ جو لوگ آپ کے خاندان کے مخالف تھے وہ بھی آپ کے بلندی مرتبہ کے قائل تھے چنانچہ ایک مرتبہ حضرت امام حسینؓ نے معاویہ کو خط لکھا جس میں معاویہ پر سخت نکتہ چینی کی جس کی وجہ سے معاویہ کے بعض قریبی افراد نے جواب میں سخت خط تحریر کرنے کا مشورہ دیا تو انہوں نے کہا کہ اگر میں حسینؓ کے بارے میں جھوٹ لکھوں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر سچ لکھنا چاہوں تو بخدا مجھے حسینؓ میں ڈھونڈے سے بھی کوئی عیب نہیں ملتا۔
حضرت امام حسینؓ کی اخلاقی جرائت، راست بازی، راست کرداری، قوت اقدام، جوش عمل، ثبات و استقلال اور صبرو برداشت کی تصویریں کربلا کے مرقع میں محفوظ ہیں۔ اس سب کے ساتھ آپ کی امن پسندی یہ تھی کہ آخر وقت تک دشمن سے صلح کرنے کی کوشش جاری رکھی مگر عزم وہ تھا کہ جان دے دی جو صحیح راستہ پہلے دن اختیار کرلیا تھا اس سے ایک انچ نہ ہٹے۔ انہوں نے بحیثیت ایک فرزند کے باپ کی اطاعت کی اور چھوٹا بھائی ہوکر بھائی کی اطاعت کی اور پحر بحیثیت ایک سردار کے کربلا میں پوری جماعت کی قیادت کی اس طرح کہ اپنے وقت میں وہ اطاعت بھی بے مثل اور دوسرے وقت میں یہ قیادت بھی لاجواب تھی۔