حکمران و سیاستدان بردباری کا مظاہرہ کریں، ملک مزیدکسی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا، ساجد نقوی
سیاسی اختلافات کے باوجود باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھا جائے، جمہوریت کی مضبوطی ، کرپشن کے خاتمے اور آئین و قانون کی بالادستی کیلئے ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کی اشد ضرورت ہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان
اسلام آباد30 اکتوبر 2016 ء (جعفریہ پریس)قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ اس وقت ملک کو بہت سے اندرونی و بیرونی بحرانوں اور خطرات کا سامنا ہے، ایسے حالات میں حکمرانوں اور سیاستدانوں کو بردباری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، سیاسی اختلافات کے باوجود باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھا جائے، ایک معصوم بچے کے جاں بحق ہونے کاواقعہ انتہائی افسوسناک ہے، جمہوریت کی مضبوطی، کرپشن کے خاتمے اورآئین و قانون کی بالادستی کیلئے سنجیدگی سے ٹھوس اقدامات کرنا ہونگے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز راولپنڈی اور اسلام آباد میں مختلف سیاسی کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہونیوالی کشیدگی اور اس دوران راولپنڈی میں معصوم بچے کا دم گھٹنے سے انتقال پر اپنے رد عمل میں کیا۔ انہوںے کہاکہ اس وقت ملک کو بہت سے اندرونی اور بیرونی بحرانوں اور خطرات کا سامنا ہے، مقبوضہ کشمیر ، کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈر ی پر غیر معمولی حالات ہیں جبکہ ملک کے اندر بھی امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے شدید مشکلات ہیں ۔گزشتہ رات گھر میں ہونیوالی مجلس عزا پر دہشت گردوں کی فائرنگ او ر بے گناہ لوگوں کی شہادت ایک لرزہ خیز واردات ہے، قبل ازیں تکفیریوں کا وزیر داخلہ کی ناک کے نیچے اجتماع جس میں بھرپور اور کھل کر تکفیریت کی گئی ، اگلے ہی یہ روز یہ لرزہ خیز واردات شہر قائد میں رونما ہوگئی جس نے کراچی میں جاری آپریشن پر واضح سوالیہ نشان لگادیا ہے ، اس کے علاوہ چند روز قبل کوئٹہ میں ایک بڑا دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوا ہے، ایسے حالات میں حکمرانوں اور سیاستدانوں کو برد باری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ پرامن احتجاج سب کا حق ہے ، حکومت کو بھی اس سلسلے میں لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا سب کی ذمہ داری ہے، ملک میں استحکام ، جمہوریت کی مضبوطی ، کرپشن کا خاتمہ اور آئین و قانون کی بالادستی بہت بڑے چیلنجز ہیں جن سے نمٹنے کیلئے ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم پہلے بھی کہہ چکے کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے اس کاجڑسے خاتمہ کیا جائے ، صرف شاخیں کاٹنے سے کرپشن ختم نہیں ہوگی ،اسی طرح دہشت گردی کے خاتمے اور آئین و قانون کی بالادستی کیلئے بھی ٹھوس عملی اقدامات اٹھانا ہونگے ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مسائل کابہتر حل ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے نکلتاہے، پارلیمنٹ موجود ہے تو تمام فریقین کو مسائل باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے چاہئیں کیونکہ موجودہ صورتحال میں ملک کسی نئے بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا۔