تازه خبریں

خارجہ تعلقات پر پارلیمنٹ میں سوالات انتہائی سنجیدہ، حکومت ابہام دور کرے،قائد ملت جعفریہ پاکستان 

خارجہ تعلقات پر پارلیمنٹ میں سوالات انتہائی سنجیدہ، حکومت ابہام دور کرے،قائد ملت جعفریہ پاکستان 

 خارجہ تعلقات میں ملکی اور عوامی مفاد کو ہر معاملے پر مقدم رکھا جائے، ساجد نقوی 
خارجہ تعلقات پر پارلیمنٹ میں سوالات انتہائی سنجیدہ، حکومت ابہام دور کرے،قائد ملت جعفریہ پاکستان 
 اسلام آباد09 نومبر2018 ء(جعفریہ پریس  ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں خارجہ تعلقات میں ملکی اور عوامی مفاد کو ہر معاملے پر مقدم رکھا جائے، تمام ممالک سے برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کئے جائیں ، بعض ممالک کے حوالے سے جیسی فضابنائی گئی اورمسلسل بنائی جار ہی ہے اس پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ اسی بازگشت کے تناظر میں پارلیمنٹ میں بھی جو خدشات اٹھائے جا رہے ہیں وہ انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں لہٰذا خارجہ امور سمیت تمام معاملات میں توازن برقرار رکھا جائے ۔ 
    ان خیالات کااظہار انہوںنے ایوان بالا اور ایوان زیریں میں خارجہ پالیسی سمیت دوست ممالک سے تعلقات بارے اٹھتے سوالات اور حکومت کی جانب سے غیرمطمئن جوابات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے ارکان کے بیرون ممالک کے دوروں کے بعد ایوان بالا اور ایوان زیریں میں خارجہ پالیسی اور معاشی پالیسی پر مختلف ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے ہیں جو بالکل درست ہیں ، یہی جمہوریت کا حسن ہوتاہے کہ ملکی اور بین الاقوامی نوعیت کے معاملات کو پارلیمان میں زیر بحث لاکر حکومت کو جواب دہ بنایا جائے، مختلف دوست اور اسلامی ممالک کے دوروں کے بعد معاشی صورتحال پر قابو پانے کےلئے جو معاشی پیکج لئے گئے ہیں اسی تناظر میں خارجہ پالیسی میں بھی کچھ تبدیلیاں رونماہورہی ہیں جس پر ارکان نے اپنے تحفظات کا اظہار کیاہے لیکن حکومت کی جانب سے ابھی تک اطمینان بخش جواب نہیں دیاگیا ، یہ انتہائی اہم اور انتہائی سنجیدہ نوعیت کے معاملات ہیں، مختلف دوست اور اسلامی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات بہت اچھی بات ہے جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہے البتہ بعض ممالک کے حوالے سے جو فضاءبنائی گئی اور مسلسل بنائی جا رہی ہے وہ البتہ باعث تشویش ضرور ہے جس کی بازگشت پارلیمنٹ میں بھی سنائی دی اور اسی کے تناظر میں مختلف سوالات بھی پوچھے گئے لیکن حکومت کی جانب سے ابھی تک ان سنجیدہ ارکان پارلیمنٹ کے سنجیدہ اور ملکی مفاد کے سوالات کااطمینان بخش جواب نہیں دیاگیا ۔ 
    علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ حالیہ چند دن میں موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کسی حد تک سامنے آرہی ہیں جن میں ابھی تک ابہام پایا جاتاہے کیونکہ نہ تو مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی و معاشی معاملات پر واضح طور پر آگاہ کیا گیاہے اور نہ ہی خارجہ امور سمیت ثالثی کے کردار بارے کوئی واضح بات سامنے آئی ہے ، پاکستان میں مختلف مکاتب فکر کے لوگ رہتے ہیں ، ریاست کو تمام معاملات میں ملکی مفاد کو مدنظر رکھناچاہیے، بین الاقوامی سطح پر اور خصوصاً خارجہ تعلقات میں مذہبی و دوستی کی بجائے ملکی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے معاملات طے کئے جاتے ہیں ، ہم بھی یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ خارجہ و داخلہ پالیسی سمیت تمام معاملات میں قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اقدامات اٹھائے جائیں اور مختلف اکائیوں میں جو خدشات جنم لے رہے ہیں ان خدشات کا ازالہ حکومتی پالیسیوںکو پارلیمان میں زیر بحث لاکر عوام کو آگاہ کیا جائے۔