تازه خبریں

دین اسلام ۔۔۔اور۔۔۔حقیقی عید کا تصور (عید الفطر ) قائد ملت جعفریہ

عید کا دن مسلمانوں کے لئے اطاعت خدا کی توفیق نصیب ہونے پر اظہار تشکر اور اپنے محاسبے اور احتساب کا دن ہے۔ اس روز اگر ہم اپنے گذشتہ سال کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا جائزہ لیں اور اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کریں تو ہم خود احتسابی کا عمل جاری کرکے اپنی ذاتی اور معاشرتی اصلاح کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں اور پھر دنیا کو حسین جنت بناسکتے ہیں۔عید کے دن فقط رمضان المبارک کے اختتام اور روزہ کے روحانی فوائد حاصل کرکے مسرت کا اظہار کرنا ہی کافی نہیں بلکہ یہ دن ہمیں اپنے ارد گرد موجود معاشرتی مسائل کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے کہ جس طرح ہم رمضان المبارک میں عبادت اور تزکیہ نفس کے ذریعے اپنی ذاتی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اس کوشش کی کامیابی کا اظہار عید کی صورت میں کرتے ہیں اسی طرح اجتماعی اصلاح کی کوششوں اور معاشرے کو تمام مسائل سے نجات دلانے کا آغاز کرنے کا عہد بھی عید کے دن کیا جانا چاہیے۔
اگر ہم اپنی گذشتہ عید سے حالیہ عید تک کے درمیان گزرنے والے ایک سال کا جائزہ لیں تو ہمیں اجتماعی سطح پر مایوسی کے سوا اور کچھ نہیں نظر آئے گا کیونکہ دنیا بھر بالخصوص پاکستان کے سیاسی‘ معاشی‘ معاشرتی‘ اخلاقی اور دیگر حالات جوں کے توں ہیں۔ طبقاتی تفریق میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے‘ غریب غریب تر ہوتا چلا جارہا ہے‘ بے روزگاری اور جہالت آخری حدوں تک پہنچ چکی ہے۔ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے‘ ظلم‘ استحصال‘ جبر‘ بدعنوانی‘ کرپشن اور ناانصافی پہلے سے کئی گنا زیادہ ہوچکی ہے۔ انصاف نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی اور ظاہر ہے ناانصافی معاشروں کو تہ و بالا کردیتی ہے‘ انسانی شرف و عزت اور حرمت کی پامالی کی جارہی ہے اور انسانی آزادی سلب کرنے کے تمام حربے آزمائے جارہے ہیں لہذا یہ امور فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔
ملک میں بڑا اور سنگین مسئلہ یعنی دہشت گردی کا طوفان تاحال جاری و ساری ہے اور امن و امان کی صورت حال مایوس کن ہے جس کی وجہ سے ہی ملک کو امن نصیب نہیں ہورہا۔ ایک طرف فرقہ پرست جنونیوں نے ملک کو اپنی دھمکیوں‘ غلیظ نعروں‘ کفر کے فتوؤں اور دہشت گردانہ کاروائیوں کے ذریعے داؤ پر لگا رکھا ہے تو دوسری طرف ان کے سرپرستوں نے بے گناہوں کو سزاوار ٹھہرا کر رہی سہی کسر پوری کی ہوئی ہے۔گذشتہ سالوں میں ہمارے کتنے پیارے ہم سے جدا ہوئے۔ کئی سانحات رونما ہوئے اور پیاروں کے جنازے اٹھائے گئے ۔ یقیناًوہ شہادت کے اعلی مرتبے پر فائز ہوئے لیکن ان کی بے گناہی اور ان کا پاک خون حکمرانوں پر قرض ہے جن کی غفلت سے اتنی قیمتی جانیں خون میں نہلا دی گئیں۔ ہمیں عید کی خوشیوں میں اپنے شہداء اور ان کے خانوادوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے اور ان کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کا عہد دہراتے رہنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ملک کے دیگر محروم طبقات اور غرباء کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل رکھنا چاہیے اور ان کے مسائل کے حل کے لئے اپنی توانائیاں صرف کرنا چاہیں۔ ضرورت مندوں اور معاشرے کے پسے ہوئے لوگوں کو نظر انداز کرنے سے عید قطعاً مکمل نہیں ہوسکتی۔
عید کا دن ہمیں اتحاد جیسے قرآنی اور نبوی فریضے کی طرف بھی رہنمائی کرتا ہے جس د ن تمام امت مسلمہ بلا تفریق مسلک و فرقہ عید کی خوشیاں مناتی ہے اور مسلمان ایک دوسرے کے گلے مل کر مبارک باد دیتے ہیں۔ خوشی کا یہ موقع وحدت کا ایک عظیم مظاہرہ بھی ہے۔ پاکستان کی عوام کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں ماضی قریب میں متحدہ مجلس عمل کے وجود سے استفادہ کرنے کا موقع ملتا رہا جس سے یقیناًملک میں اتحاد و وحدت اور اخوت و رواداری کی فضا بہتر اور مضبوط ہوئی ہے اور اس وقت ملی یکجہتی کونسل کا فورم موجود ہے۔ در اصل عید کے موقع پر مبارک باد کے مستحق ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اتحاد جیسے عظیم فریضے کے لئے کام کیا اور قربانیاں دیں۔ ہمیں اس اتحاد کو آئندہ عید تک بھی اسی جوش و جذبے اور خلوص و ولولے کے ساتھ جاری رکھنا ہوگا تاکہ ہم اسلامی طبقات میں اتحاد پیدا کرکے معاشرے کو مسائل و جرائم سے پاک کرسکیں۔
ہمیں عید الفطر کے دن اس عہد کی تجدید کرنا چاہیے کہ ہم وطن عزیز کے تمام مکاتب فکر کی تاریخی جدوجہد کے ثمرات و نتائج کو محفوظ رکھیں گے‘ ملک کو عادلانہ مملکت بنانے کے لئے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے‘ اخوت‘ اتحاد‘ محبت اور وحدت کا سفر جاری رکھیں گے‘ عالم اسلام کے مسائل و مشکلات پر نظر رکھتے ہوئے اپنے حصہ کی جدوجہد کرتے رہیں گے۔