جعفریہ پریس کراچی قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پر شیعہ علماء کونسل پاکستان سندھ کراچی کی جانب سے یوم القدس کی مناسبت سے ریلی کا انعقاد ریگل چوک تا کراچی پریس کلب پر کیا گیا جس میں بری تعداد میں مومنین و مؤمنات نے شرکت کی ریلی میں شیعہ علما کونسل سندھ کے صدر علامہ سید ناظر ابباس تقوی مرکزی رہنماں علامہ شیخ شبیر حسن میثمی نے خصوصی شرکت کی جبکے شیعہ علماءکونسل کراچی جعفریہ اسٹوڈنٹس جعفریہ یوتھ کراچی کے زیر اہتمام یوم القدس کی عظیم الشان ریلی میں علماء کرام کے خطابات۔ خطباء میں علامہ سید ناظر عباس تقوی،جناب حسینین رضوی،مولانا کرم الدین واعظی،مولانا صفدر حسینی،مولانا قرۃ العین عابدی،مولانا حدم حسین الحسینی،اسد اللہ بھٹو جماعت اسلامی شامل تھے
احتجاجی ریلی (جمعۃ الوداع) عالمی یوم القدس یکم جولائی 2016 ء
زیر اہتمام شیعہ علماکونسل پاکستان کراچی قراردادیں
(1) آج کا عظیم الشان اجتماع عالمی یوم القدس کے موقع ارض پاک میں اتحاد و وحدت کے بانی رہنما اور قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی اپیل پرچاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے کروڑوں پاکستانی عوام کے ملک کے گوشے گوشے میں قبلہ اول کی آزادی کے لئے منعقدہ احتجاجی اجتماعات کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور قبلہ اول پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے مظلوم فلسطینی اور لبنانی بھائیوں کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کے جذبہ حریت کو سلام پیش کرتا ہے اور انہیں اپنے تعاون و حمایت کا بھرپور یقین دلاتا تے ہوئے واضح کرتا ہے کہ قبلہ اول امت مسلمہ کی مشترکہ میراث ہے۔
(2) یہ احتجاجی اجتماع آئے روز اسرائیلی جارحیت اور بمباری کے نتیجے میں سینکڑوں معصوم بچوں ‘ خواتین سمیت مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے وحشیانہ قتل عام کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے جارح اسرائیل کی گذشتہ نصف صدی سے زائد ظلم و بربریت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتا ہے اور تواتر کے ساتھ ان اسرائیلی مظالم اور غیر انسانی رویہ پر عالمی امن اور انسانی حقوق کا پرچار کرنے والے اداروں کی خاموشی کی مذمت کرتا ہے
(3) یہ نمائندہ اجتماع عالمی سامراج کی طرف سے غاصب‘ غیر قانونی اور انتہاپسند صہیونی ریاست اسرائیل کی کھلی سرپرستی کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے اور سامراجی طاقتوں کو باور کراتا ہے کہ وہ کروڑوں عوام کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے اسرائیل کی سرپرستی ترک کردیں اور اسرائیل کو مجبور کریں کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقے خالی کرتے ہوئے قبلہ اول کو آزاد کرے۔یہ اجتماع اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں میں مزید یہودی بستیوں کی تعمیر جیسے توسیع پسندانہ فیصلوں کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
(4) یہ احتجاجی اجتما ع اس بات کی بھی پرزور مذمت کرتا ہے کہ بعض اسلامی ممالک کی جانب سے بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعہ غاصب اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی پینگیں بڑھائی جارہی ہیں جو کہ درحقیقت مسلم امہ کی کمر میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔
(5) یہ عظیم الشان اجتماع اسلامی دنیا خاص کر عراق‘ شام‘ یمن میں ہونے والی خونریزی اور قتل و غارتگری کی مذمت کرتے ہوئے بعض مقدس ‘ برگذیدہ ہستیوں اور صحابہ کرامؓ کے مزارات کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور اقوام متحدہ‘ سلامتی کونسل اور بالخصوص اسلامی سربراہی تنظیم (او آئی سی) سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ صورت حال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے اپنا موثر کردار ادا کرے۔
(6) یہ اجتماع بحرین کی حکومت کی جانب سے ممتاز عالم دین آیت ا۔۔۔عیسی القاسم کی شہریت کی منسوخی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین و اقدار اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دیتا ہے اور بحرینی حکومت کی جانب سے جاری اس حکمنامے کی منسوخی کا مطالبہ کرتا ہے کیونکہ قبل ازیں بھی بحرین میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی اطلاعات آتی رہی ہیں لہذا بحرینی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات سے اجتناب کرے۔
(7) آج کا یہ اجتماع گذشتہ دنوں عراق کی مقدس سرزمین پر بم دھماکوں اور مساجد میں خود کش حملوں کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان سانحات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ دہشت گردی اور قتل و غارتگری دنیاکے جس خطے میں بھی ہو قابل نفرت فعل ہے اور معصوم اور بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں اور قاتلوں کا کوئی مذہب و مسلک نہیں ہوتا۔
(8) یہ نمائندہ اجتماع ارض پاک میں گذشتہ تین دہائیوں سے جاری دہشت گردی‘ قتل و غارتگری اور ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس کے خلاف جاری ضرب عضب آپریشن اور ملک کی مسلح افواج کی قربانیوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ ضرب عضب کا دائرہ ملک کے دیگر صوبوں تک وسیع کیا جائے تاکہ پورا ملک امن و سکون کا گہوارہ بن سکے۔
(9) آج کا یہ اجتماع عزاداری سید الشہداء ؑ کو نہ صرف مذہبی‘ قانونی اور آئینی حق سمجھتا ہے بلکہ شہری آزادیوں کا مسئلہ قرار دیتا ہے اور صدیوں سے جاری مراسم عزاداری و مجالس عزاء کے خلاف صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں درج ہونے والی غیر آئینی‘ غیر قانونی ‘ بلاجواز اور بے بنیاد ایف آئی آرز فی الفور واپس لئے جانے کا مطالبہ کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ ایسی کوئی قدغن برداشت نہ کی جائے گی
(10) یہ عظیم الشان اجتماع ملک میں جاری دہشت گردی اور بدامنی پر قابو پانے کے لئے تشکیل دیئے جانے والے قومی ایکشن پلان کے حوالے عوام کے احساسات اور جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے یہ محسوس کرتا ہے کہ اس پلان پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے قاتل و مقتول‘ ظالم و مظلوم کی تمیز کرتے ہوئے ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات برؤے کار لائیں جائیں ۔
(11) آج کا یہ اجتماع پاکستان کے عروس البلاد اور شہر قائد میں ایک مدت سے جاری موت کے رقص اور معصوم اور بے گناہ افراد کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ پر اور حالیہ دنوں میں دہشت گردی کی تازہ لہر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کی داخلی سلامتی اور استحکام کے لئے انتہائی مہلک قرار دیتا ہے اور معصوم اور بے گناہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے ضامن اداروں اور ذمہ داروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس صورت حال پر قابو پانے میں مزید تاخیر نہ کرے اور شہر کا امن خراب کرنے والے کے خلاف سخت کاروائی کرے
(12) یہ اجتماع بجا طور پر یہ محسوس کرتا ہے کہ پورے ملک میں بالعموم اور کوئٹہ میں بالخصوص تسلسل کے ساتھ معصوم اور بے گناہ انسانوں کی ٹارگٹ کلنگ نے ملک کی داخلی سلامتی کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔ایک مدت سے امن و آشتی کا گہوارہ کوئٹہ شہر قبرستان کا منظر پیش کررہا ہے ۔صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی حکومت فوری اور ٹھوس اقدامات برؤے کار لائے۔
(13) یہ عظیم الشان اجتماع یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ کوئٹہ تفتان کے راستے جانے والے زائرین کو بے جا تنگ کرنے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے اور زائرین کو درپیش سنگین مشکلات دور کرکے تمام سہولتیں مہیا کی جائیں۔ اس راستے کے ذریعے سفر زیارات سے کسی صورت بھی دستبردار نہیں ہوا جاسکتا لہذا حکومت مشکلات کو دور کرنے کے لئے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کرے۔
(14) آج کا یہ اجتماع ملک کے طول و عرض میں ہونے والی دہشت گردی کے بڑے بڑے سانحات جیسے سانحہ عاشورا کراچی‘ سانحہ چہلم کراچی‘ سانحات مستونگ‘ سانحہ چلاس‘ سانحہ کوہستان‘ سانحات کوئٹہ سمیت دیگر تمام سانحات پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس امر پر افسوس ظاہر کرتا ہے کہ تاحال ان سانحات کے حقائق منظر عام پر لائے گئے نہ ہی عوام کو سانحات کے مرتکب ذمہ داروں سے باخبر کرکے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا
(15) یہ اجتماع وفاقی حکومت سے اپنے اس دیرینہ مطالبے کو دہراتا ہے کہ گلگت بلتستان کی سرزمین بے آئین کے آئینی و قانونی حقوق کی فراہمی میں مزید تاخیر نہ کی جائے نیز گلگت بلتستان میں اقتصادی راہداری اور سی پیک منصوبے پر مکمل عمل درآمد کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔
(16) آج کا یہ نمائندہ اجتماع ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگامی کے طوفان بالخصوص ماہ صیام میں بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے‘ عمومی اور سحرو افطار کے اوقات کے باوجود لوڈشیڈنگ اور دیگر مسائل پر تشویش کا اظہارکرتا ہے ۔
(16) کرپشن اور بدعنوانی کا دور دورہ ہے جو ملک کو لمحہ بہ لمحہ تباہی و بربادی کی جانب دھکیل رہی ہے ان حالات میں یہ نمائندہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ شفاف اور غیر جانبدار احتساب کے عمل کو جاری کرے‘ ہوشربامہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پائے‘ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے اور بگاڑ کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔