روز عرفہ و شہادت مسلم ابن عقیلؑ پر قائد ملت جعفریہ پاکستان کا پیغا

روز عرفہ و شہادت مسلم ابن عقیل پر قائد ملت جعفریہ پاکستان کا پیغام

روز عرفہ توبہ و استغفار، عبادت و اطاعت کا دن ہے، علامہ ساجد نقوی


حضرت مسلم بن عقیل نے حضرت امام حسین ؑ کے سفیر کی حیثیت سے کوفہ کا سفر اختیار کرکے اورسختیاں اور مظالم برداشت کرکے علم حق بلند کیا

راولپنڈی /اسلام آباد 19 جولائی 2021ء( جعفریہ پریس پاکستان)قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 9 ذی الحجہ یوم عرفہ اور حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ روز عرفہ توبہ و استغفارکا دن ہے اس دن خداتعالیٰ نے اپنے بندوں کو عبادت و اطاعت کی دعوت دی ہے ۔یوم عرفہ کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر اطاعت خداوندی کے جذبے سے سرشا ر ہوکر اپنی دنیوی و اخروی نجات کا سامان فراہم کرنے کی سعی و کوشش کی جاسکتی ہے اس ضمن میں امام زین العابدین ؑ کی معروف روایت ہے کہ” آپ نے ایک شخص کی آواز سنی جو لوگوں سے مانگ رہا ہے تو فرمایا وائے ہو تم پر آج بھی تم لوگوں سے سوال کررہے ہو جب کہ خالق کائنات سے امید ہے کہ آج ماں کے شکم میں موجود بچے کو بھی محروم نہیں رکھے گا“ کتب میں تفصیل کے ساتھ یوم عرفہ کے اعمال مذکور ہیں جیسے روزہ‘ غسل‘ زیارت امام حسین علیہ السلام وغیرہ معروف ہیں۔حضرت مسلم بن عقیل امام کے نائب خاص ہونے کا شرف حاصل تھا اور انہوں نے اپنے رہبر و رہنما کے مطیع ہونے اور باطل کے سامنے ڈٹ کر کلمہ حق بلند کرنے کی اعلی مثال قائم کی یہی نہیں بلکہ اس راہ میں اپنے فرزندان کی قربانی پیش کرکے اس نکتہ کو بھی واضح اور روشن کیا کہ اصولوں کی سربلندی کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جاسکتا۔علامہ ساجد نقوی نے کہاکہ اہل کوفہ کی جانب سے مسلسل خطوط کے ذریعہ نواسہ پیغمبر‘ امام عالی مقام کی بیعت پر آمادگی کے لئے انہیں دی گئی دعوت کے جواب میں امام ؑنے کوفہ کے حالات جاننے کے لئے حضرت مسلم بن عقیل کو اپنا سفیر مقرر کرکے کر کوفہ کی جانب روانہ کرنا بھی جناب مسلم بن عقیل کی قدر و منزلت اور مقام و مرتبے کو واضح کرتا ہے۔علامہ ساجدنقوی نے مزید کہا کہ حضرت مسلم بن عقیل کی سیرت و کردار کا بغور جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایک فرض شناس انسان حمایت حق میں کہاں تک جاسکتا ہے ۔بنی ہاشم کے جرات و شجاعت کے عظیم سپوت اور جناب عقیل ابن ابی طالب کے فرزند جناب مسلم نے نواسہ پیغمبر اکرم اور امام عالی مقام حضرت امام حسین ؑ کے سفیر کی حیثیت سے کوفہ کا سفر اختیار کرکے اور وہاں پر سختیاں اور مظالم برداشت کرکے علم حق بلند کرکے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر جدوجہد کی ،جو امام وقت کی اطاعت و فرمانبرداری‘ ایثار و قربانی ‘ شجاعت اور وفاشعاری کا عظیم استعارہ بن کر رہتی دنیا تک کے لئے مینارہ نور قرار پائی۔