ایچ آرڈبلیو ایشیا کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز نے کل کہا کہ مصنوعی سیارہ سے لی گئی تصاویر کی بنیاد پر تشدد کے واقعات کی تحقیقات کی گئی جس سے پتہ چلا کہ اکتوبر اور نومبر کے درمیان ان دیہات کو جلائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روہنگیا گاؤں کو مسلسل ختم کئے جانے سے پتہ چلتا ہے کہ جلا وطن پناہ گزینوں کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کا عزم صرف ایک دکھاوا تھا۔

مسٹر ایڈمز نے کہا کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ روہنگیا کے دیہات کو مسلسل تباہ کیا جا رہا ہے جبکہ فوج اس کو مسترد کر رہی ہے۔ تنظیم نے میانمار کی فوج پر فوجی کارروائی کے دوران قتل اور آبروریزی سمیت کئی طرح کے مظالم کا الزام لگایا ہے۔

قابل غور ہے کہ میانمار کی فوج کی طرف سے 25 اگست سے شروع کی گئی جارحانہ فوجی مہم کے بعد تقریبا چھ لاکھ 55 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو اپنی جان بچا کر بنگلہ دیش جانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here