سردار کاظم علی خان حیدری مرحوم

سردار کاظم علی حیدری مرحوم نظامِ قیادت سے ہمیشہ وفادار رہے؛ وہ اپنی ذات میں ایک ملت تھے.
انہوں نے اپنی تمام زندگی ملت کے قومی معاملات اور حقوقِ تشیع کے دفاع میں صرف کی. مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ضلع مظفر گڑھ کے شیعہ بغیر سرپرست کے زندگی گزار رہے ہیں.
واضح رہے کہ سردارکاظم خان کے دادا سردار رسول بخش خان مستوئی قیام پاکستان سے قبل کافی عرصہ ٹاؤن کمیٹی علی پور کے ممبررہے اور قیام پاکستان کے بعد ٹاؤن کمیٹی علی پور کے پہلے صدر مقرر ہوئے جبکہ آپ کے والد سردار کریم بخش خان حیدری “تحریک پاکستان” کے بڑے سرگرم کارکن تھے.
زندہ و جاوید حرکت و نمو سے لبریز ایک مستحکم مذہبی مرکز “امام بارگاہ حسینیہ علی پور ” کی شکل میں ان کی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے.
سردار کاظم علی حیدری مرحوم جو ایک بابرکت اور پُرثمر زندگی گزارنے کے بعد لقائے الہی سے جا ملے ہیں کی ثقافتی، سماجی اور سیاسی میدان میں ان گنت خدمات سب پر عیاں ہیں۔ پنجاب بھر میں بالعموم جبکہ جنوبی پنجاب میں بالخصوص دینی، فکری، سیاسی، سماجی بیداری کے حوالے سے آپ کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا.
تحریک جعفریہ کی تاسیس سے ہی اس میں رکنیت اختیار کی اور مذہبی،اجتماعی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کیا اور نظامِ قیادت کی راہ پر گامزن رہنے کا عہد کیا اور آخری عمر تک اس راہ پر گامزن رہتے ہوئے جنوبی پنجاب میں اسلام ناب کے دشمن تکفیری ٹولوں سے مقابلے پر ڈٹے رہے۔
مرحوم ہمیشہ جید بزرگ علما اور قائدین تشیع کے مورد اعتماد تھے. فروغ اور تحفظ عزاداری نیز اتحاد بین المسلمین کے لئے آپ کی مخلصانہ کوششوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا.
8مارچ 1986ء کو ملک کی ممتاز شخصیات کی آراء لینے کی غرض سے انہیں تحریک نے سیاسی میدان میں دخیل ہونے کے حوالے سے ایک سوالنامہ ارسال کیا. ان میں سے کئی آراء قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے ریکارڈ میں موجود ہیں. سردار کاظم علی خان حیدری مرحوم اس وقت ضلع مظفر گڑھ کے جنرل سیکرٹری تھے. سوالنامے کے جواب میں انہوں نے جو اپنی رائے دی ہے وہ ان کی سیاسی بصیرت اور انقلابی فکر کی عکاس ہے. آپ نے فرمایا:
“ملکی سطح پر دیگر مذہبی جماعتیں کام کر رہی ہیں اور سیاسی میدان میں اپنی حیثیت منوا چکی ہیں لیکن ہماری تنظیم نے ابھی تک ایسا کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا؛ ہمیں بھی دوسری مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی طرح تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے پلیٹ فارم سے اہم کردار ادا کرنا چاہئے اور نو کروڑ عوام کے حقوق کے لئے جدوجہد اور طاغوتی نظام کی تبدیلی میں انقلابی قدم اٹھانا چاہئے تاکہ نظام اسلام کا نفاذ ہو.”
ہر محاذ پر آپ حالات کی نبض دیکھ کر اپنی متوازن حکمت عملی کا فریضہ انجام دیتے رہے. اس سلسلہ میں نہ تو قید و بند کی سختیاں آڑے آئیں اور نہ ہی مال و منال کے خرچ کا خوف.
آپ ہمیشہ غدیری ثقافت کے فروغ کے لئے پیش پیش رہے.
جب جب دشمنان تشیع نے استحصال کے نئے طریقے تلاش کئے تو دوسری طرف مستوئی گھرانے کے اس پروردہ نے تحفظ شیعیت کے سلسلہ میں نئی اُمنگوں ،حوصلوں اور طریقہ کار کی کھوج جاری رکھی. آپ نے تشیع دشمن سازشوں کا باریک بینی سے مطالعہ کر کے اسے باطل کرنے کا شعور بیدار کیا.
اسی شعور کی بدولت آج بھی حرارت ایمانی ،یقین محکم اور عصری ہتھکنڈوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والے شمعِ کاظم کے پروانے موجود ہیں.

دعاگو: امداد علی گھلو

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here