تازه خبریں

شکارپور۔۔۔ زندہ پکڑے جانیوالے خودکش حملہ آور سے تحقیقات کرکے اصل دہشت گردوں تک پہنچا جائے…. قائد ملت جعفریہ پاکستان

مسجدپر حملہ کی کوشش کو ناکام بنانے پر پولیس، رضا کارمستحق تحسین ہیں ، ساجد علی نقوی
گزشتہ سال بھی اسی مقام پر کئی معصوم شہریوں کو خون میں نہلا دیا گیا، زندہ پکڑے جانیوالے خودکش حملہ آور سے تحقیقات کرکے اصل دہشت گردوں تک پہنچا جائے ،قوم کو حقائق بتائے جائیں، قائد ملت جعفریہ پاکستان
اسلام آباد15 ستمبر 2016 ء( )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے شکارپور کی تحصیل خانپور میںعید الاضحی کے روز خو دکش حملے ناکام بنانے پر پولیس اور رضا کار جوانوں کی جرات مندی کو داد تحسین دیتے ہوئے کہاہے کہ یوم عید پر قوم کو افسردہ کرنے کی قبیح حرکت کی گئی، لیکن پولیس اور عوام کی جرات مندی نے قوم کو ایک بڑی تباہی سے بچالیا جو قابل تحسین ہے، ہم پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ گرفتار خود کش حملہ آور سے حقائق لے کر جلد قوم کے سامنے لائے جائیںکہ یہ انسانیت دشمن کہا ں سے آپریٹ ہوا ، ایک بڑے سانحہ سے محض اتفاقیہ بچت ہوئی، نیشنل ایکشن پلان ڈی فیوز ہوچکاہے جسے متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے عید الاضحی پر صوبہ سندھ کے ضلع شکارپور کی تحصیل خانپور کی مسجد پر خود کش حملوں کو ناکام بنانے کی کاوش پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ عید الاضحی کے بابرکت اور پرمسرت موقع پر قوم کو ایک مرتبہ پھر سوگ میں مبتلا کرنے اور اسے افسردہ کرنے کی قبیح حرکت کی گئی ، لیکن ان پولیس اہلکاروں اور رضا کار جوانوں کو دادتحسین دیتے ہیں جنہوںنے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر اس مذموم کوشش کو ناکام بنایا اور قوم کو ایک بڑے نقصان سے بچالیا۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ اسی گاﺅں میں گزشتہ سال معصوم شہریوں کو خون میں نہلایاگیا ، کئی گھر اجڑ گئے ،کئی ماﺅں کی جھولیاں ویران ہوگئیں اور سینکڑوں بچے یتیم ہوگئے اگر سابقہ سانحہ کے مرتکب دہشت گردوں کو رہا نہ کیا جاتا اور حقائق کے مطابق اقدامات اٹھائے جاتے تو آ ج شاید یہ صورتحال درپیش نہ ہوتی۔ انہوںنے کہاکہ اب ایک خود کش حملہ آور کو زندہ گرفتار کیاگیاہے ، اس سے پوچھا جائے یہ کون ہے ؟ کہاں پلتا رہا؟ کہاں سے آیا؟اس کے پیچھے ماسٹر مائنڈ کون ہے ؟ یہ انسانیت کا دشمن کہاں سے آپریٹ ہوتا رہا؟ ان کا نیٹ ورک کہاں ہے؟ ایک بڑے سانحہ سے محض اتفاقیہ بچت ہوئی،لگتاہے کہ نیشنل ایکشن پلان ڈی فیوز ہوچکا جسے متحرک کرنے کی ضرورت ہے ، گرفتار دہشت گرد کے ذریعے مکمل تحقیقات کرکے اصل دہشت گردو ں تک پہنچا جائے ،ان کا قلع قمع کیا جائے اور حقائق سے قوم کو آگاہ کیا جائے ۔ اس موقع پر انہوںنے زخمی پولیس اہلکاروں کی صحت یابی کی دعا بھی کی ۔