• علامہ شبیر حسن میثمی کی اسپیکر قومی اسمبلی
    راجہ پرویز اشرف سے اسپیکر چیمبر میں ملاقات
  •  متنازعہ فوجداری ترمیمی بل کو یکسر مستردکرتے ہیں ، شیعہ علماءکونسل پاکستان
  • متنازعہ ترمیمی بل: علماء و ذاکرین مشاورتی اجلاس کل کراچی میں منعقد ہوگا
  • مقدس کتاب قرآن مجید کی بے حرمتی ی شدید مذمت کرتے ہیں سید راشد حسین نقوی
  • بزرگ علمائے تشیع نے متنازعہ ترمیمی ایکٹ کو مسترد کردیا اعلامیہ جاری
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان ضلع ملتان کا ورکر کنونشن منعقد ہوا جس میں مولانا اعجاز حسین بھشتی ضلی صدر ملتان منتخب ہوئے
  • شیعہ علماء کونسل کی زیر نگرانی متنازعہ بل کے سلسلے میں مختلف جماعتوں کا اجلاس
  • علامہ اسد اقبال زیدی کا ضلع دادو کادورہ اسلامی تحریک کے کارکنان سے ملاقات
  • توہین کے متنازعہ بل کو مسترد کرتے ہیں علامہ رمضان توقیر
  • قومی اسمبلی میں متنازعہ قانون سازی کو مسترد کرتے ہیں جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان

تازه خبریں

شیعہ علماءکونسل پاکستان کا متنازعہ فوجداری ترمیمی بل کی منظوری و طریقہ کار بوگس قرار

شیعہ علماءکونسل پاکستان کا متنازعہ فوجداری ترمیمی بل کی منظوری و طریقہ کار بوگس قرار

شیعہ علماءکونسل کا متنازعہ فوجداری ترمیمی بل کی منظوری و طریقہ کار بوگس قرار
 بل کی منظوری کے وقت قومی اسمبلی کا نہ تو کورم پورا تھا اور نہ ہی اسمبلی کی اکثریت تھی، صرف20سے25 ارکان موجود تھے ، متنازعہ ترامیم منظور کرانا بدنیتی پر مبنی اقدام قرار
 یہ قانون انتہاء پسند عناصر کے ہاتھ میں ہتھیار دینے کے مترادف ہو گا،آئمہ جمعہ کل اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں، ڈاکڑ علامہ شبیر حسن میثمی
ہم ایوان بالا سینٹ کے ارکان کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اس متنازعہ و بوگس ترامیمی بل کو مسترد کر دیں ، مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماءکونسل
  روالپنڈی /اسلام آباد 19جنوری 2023ء(   جعفریہ پریس پاکستان )شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے فوجداری ترمیمی ایکٹ2021ءکی منظوری کے طریقہ کار کو بوگس قرار دیتے کل بروز جمعہ مساجد میں خطباءکو اس بل پر قوم کو آگاہ کرنے اور اس بل کو مسترد کرنے کی قراردادیں منظور کروا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کی اپیل کی ہے۔ متنازعہ بل سے متعلق اپنے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کا کہنا تھا کہ بل کی منظوری کے وقت 360رکان کی اسمبلی میں صرف20سے25 ارکان موجود تھے جو اس امر کا عکاس ہے کہ قومی اسمبلی کا نہ تو کورم پورا تھا اور نہ ہی اسمبلی کی اکثریت موجود تھی بلکہ ایوان حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان سے خالی تھا۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک خاتون وزیر کے علاوہ وزاءاور خود اسپیکر بھی موجود نہ تھے اور ایسے عالم میں ایک بل کی متنازعہ ترامیم کو منظور کرانا بدنیتی پر مبنی اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ملک اس وقت انتہاءپسندی اور دہشت گردی کا شکار ہے ایسے میں یہ قانون انتہاء پسند عناصر کے ہاتھ میں ہتھیار دینے کے مترادف ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں اور اپوزیشن جماعتوں کی انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ترامیم کو خاموشی سے منظور کرا دینے کی پالیسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود حکمران اور اپوزیشن ارکان بری طرح انتہا پسندوں کے دباو ¿ میں ہیں اور اس اقدام سے خود انتہا پسندی اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کا موجب بھی بن رہے ہیں اور یہ بل اسی کا شاخسانہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ عوام کو سنے بغیر اس قسم کی قانون سازی کرنا بے انصافی اور حکمرانوں کی کمزوری کی دلیل ہے۔ انہوں کہا کہ ہم کسی کی مقدسات کی توہین کے ہر گز قائل نہیں اور ہماری قیادت ملک میں اتحاد بین المسلیمن کے بانی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کچھ عناصر کو اتحاد و وحدت کی یہ فضاء ایک آنکھ نہیں بھاتی اور وہ اسی فضاءکو ثبوتاژ کر کے ملک کو ایک بار پھر فرقہ واریت اور انتشار کی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں جس کی کوئی محب وطن پاکستانی ہر گز اجازت نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو پیش کرنے والا فرد جس طرح غیر سنجیدہ ہے اسی طرح قومی اسمبلی میں موجود اراکین قومی اسمبلی نے بھی اس بل کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا، لہذا وہ ایوان بالا سینٹ کے ارکان کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اس متنازعہ ترامیمی بل کو مسترد کر دیں ۔ انہوں نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی سے بھی اپیل کی کہ وہ اس متنازعہ ترامیمی بل پر دستخط نہ کر کے وطن عزیز کو کسی بھی مزید بحران سے دوچار ہونے سے بچائیں۔ جبکہ شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کل بروز جمعہ تمام مساجد کے خطباءسے اپیل کی کہ وہ نماز جمعہ کے اجتماعات میں اس ترمیمی بل کو مسترد کرنے کی قراردادیں منظور کریں اور عوام کو اس بل کی متنازعہ ترامیم کے حوالے سے آگاہ کریں اور آئندہ کے کسی بھی لائحہ عمل کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیں۔