تازه خبریں

شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ کی ہنگامی پریس کانفرنس پریس کلب کراچی

اگر اندرون سندھ اور جیل کے مسائل کو حل نہ کیا گیا تو ہم عوام کو اعتماد میں لے کر 21رمضان کے مر کزی جلوس کو احتجاجی دھر نے میں تبدیل کر د ینگے )
امیر المومینن حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے ایام شروع ہو چکے ہیں اور سندھ بھر میں مجلس عزاء اور جلوس عزاء کا سلسلہ جاری و ساری ہے)
افسوس کے ساتھ کہنا پڑ تا ہے کہ امن و امان کے قیام اور جلوس کے راستوں کو منظم اور محفوظ بنانے کے لئے اب تک وزیر اعلی سندھ،وزیر داخلہ سندھ ،آئی جی سندھ اور کمیشنر کراچی کی جانب سے ابھی تک کوئی بھی اجلاس طلب نہیں کیا گیا )
سندھ میں دہشت گردو کا منظم نیٹ ورک موجود ہے اور یہی اداروں کی رپورٹ بھی ہے ایسی صورتحال میں حکومت کی خامو شی لمحہ فکریہ ہے)
(علامہ ناظر عباس تقوی
شیعہ علماء کو نسل پا کستان صوبہ سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی کا کراچی پر یس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا امیر المومینن حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے ایام شروع ہو چکے ہیں اور سندھ بھر میں مجلس عزاء اور جلوس عزاء کا سلسلہ جاری و ساری ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ تا ہے کہ امن و امان کے قیام اور جلوس کے راستوں کو منظم اور محفوظ بنانے کے لئے اب تک وزیر اعلی سندھ،وزیر داخلہ سندھ ،آئی جی سندھ اور کمیشنر کراچی کی جانب سے ابھی تک کوئی بھی اجلاس طلب نہیں کیا گیا جب کہ اندورن سندھ میں دہشت گردی کے خطرات موجود ہونے کے باوجود ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی بھی اقدام ہوتا نظر نہیں آتا شکار پور،جیکب آباد اور حالی میں شہون شریف میں ہونے والے سانحات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ سندھ میں دہشت گردو کا منظم نیٹ ورک موجود ہے اور یہی اداروں کی رپورٹ بھی ہے ایسی صورتحال میں حکومت کی خامو شی لمحہ فکریہ ہے سندھ کے مختلف اضلاع شہزاد کورٹ،نصیر آباد،جیکب آباد،جامشوروں،میر پور خاص ،سا نگھڑ اور دیگر مختلف مقامات پر مقامی انتظامیہ کی جانب سے بانیان مجلس کو مجلس عزاء اور جلوس عزاء نکالنے پر فورتھ شیڈول میں ڈالنے اور مقدمات قائم کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں جو قابل مذمت عمل ہے عزاداری سید الشہداء ہماری شہری آزادیوں کا مسئلہ ہے دنیا کا کوئی بھی قانون ہمیں ہمارے بنیادی حقوق سے نہیں روک سکتا اسی طر ح سینٹرل جیل کراچی میں بھی سالہائے سال سے ہونے والی مجلس اور جلوس کے سلسلے کو روکنے کی کو شیش کی گی اور گز شتہ سال بھی چہلم امام حسین کے جلوس میں جیل میں سنگین جرائم میں ملوث دہشت گردوں کو جیل کے اندر آزاد کرنا سو چی سمجھی شازش کا حصہ تھا لہذا ہم آئی جی جیل خانہ جات کو متبیٰ اور متوجہ کرتے ہیں آئندہ ایسے اقدامات کو روکنے کے لئے اقدامات کئے جائیں اگر اندرون سندھ اور جیل کے مسائل کو حل نہ کیا گیا تو ہم عوام کو اعتماد میں لے کر 21رمضان کے مر کزی جلوس کو احتجاجی دھر نے میں تبدیل کر د ینگے ہم حکو مت سے تعاون کے خواں ہیں اور ہم بھی امن وامان کے قیام میں حکومت سے تعاون کر نا چاہتے ہیں ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلوسوں کی سیکیورٹی کے لئے پورے سندھ میں فُل پروف انتظامات کئے جائیں اور ہیلی کو پٹر کے زر یعے جلوسوں کی نگرانی کی جائے ا عمال شب قدر ،یوم القدس اور عید کی نماز میں بھی سیکیورٹی کے بھرپور انتظامات کئے جائیں اس مو قع پر علامہ کرم الدین واعظی،علامہ جعفر سبحانی،یعقوب شہباز،علامہ روح اللہ موسوی سمیت دیگر علماء کرام بھی موجود تھے

مزید تصایور کے لئے کلک کریں