میرٹ کی بحالی ہوگی تو امیر غریب کا فرق بھی ختم ہوجائیگا،نظام کی اصلاح کرتے ہوئے اسے آئین کے تابع لانا ہوگا، بیان رالپنڈی / اسلام آباد 20پریل 2016ء ( جعفریہ پریس)قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجدعلی نقوی نے کہاہے کہ کرپشن ملکی معیشت میں ناسور کی حیثیت اختیار کرچکی ہے جس سے چھٹکارا پانے کیلئے اسے جڑ سے اکھاڑنا ہوگا لیکن یہ اسی وقت ہوگا جب صحیح معنوں میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہوگی، ملک میں اگر امیر کیلئے ایک اور غریب کے لئے دوسرا قانون ہوگا تو پھر کسی صورت کرپشن سے نجات حاصل نہیں کی جاسکتی، افسوس ملکی نظام درست نہیں اور نہ ہی یکساں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا ۔علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک نظریہ کی بنیاد پر لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیاگیالیکن افسوس آج تک یہاں صحیح معنوں میں آئین کی بالادستی قائم ہوئی نہ ہی قانون کی حکمرانی، حکمرانی کے عملی مظاہر کہیں دیکھنے کو نہیں ملتے ، احتساب کا خوف نہ ہونے کے باعث ہی اقتدار و اختیا ر کو بارہا اپنے ذاتی مقاصدکےحصول کیلئے بھی استعمال کیا جاتا رہا ، آئین کو معطل کیا جاتا رہا، من پسند ترامیم بھی کی جاتی رہیں اور ملک کو اپنی مرضی کے مطابق چلایا جاتا رہا اب ہمیں اس ر و ش کو تبدیل کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اب وجوہ کو بے نقاب کرنا ہوگا جن کی وجہ سے ملک میں ہرجانب تباہی وبربادی کا سماں ہے، ہمیں سب کو آئین کے تابع لانا ہوگااور اپنے نظام کی اصلاح کرتے ہوئے میرٹ کی بحالی قائم کرنا ہوگی تاکہ امیر و غریب کی تفریق ختم ہو ، جب تک صحیح معنوں میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی قائم نہیں کی جاتی اس وقت تک کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر احتساب کی باتیں زبان زد عام ہیں لیکن افسوس ماضی میں اگر ملک میں احتساب کے نام پر سیاست کی بجائے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جاتے، احتسابی اداروں کو مضبوط کیا جاتا اور مداخلت اور دباؤ ختم کیا جاتاتو پھر بار بار کمیشن تشکیل دینے کی نوبت ہی نہ آتی بلکہ ادارے ازخود اپنا کام شروع کردیتے ۔اب بہت سے سنجیدہ حلقوں کی طرف سے بھی یہ باتیں سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں کہ ملک کا نظام درست نہیں، توازن کی پالیسی کے تحت معاملات چلانے کی کوشش کی جاتی رہی،ہمیں کرپشن کے خاتمے کی کوشش ملکی نظام کی اصلاح کے ساتھ ساتھ کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ اسی ضمن میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا بیان کہ بلاامتیاز احتساب ناگزیر ہے لائق تحسین ہے ۔اگر کوئی کمزور بیان دیتا تو درخورعطنانہ سمجھا جاتا ۔