• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

ضرب عضب آپریشن وقت کی اہم ضرورت تھی مگر اس سے کہیں زیادہ ملک کے چاروں صوبوں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی سخت ضرورت ہے،علامہ عارف حسین واحدی

جعفریہ پریس ۔ تحفظ پاکستان بل کی بعض شقیں بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہیں، ایسا بل نہیں لانا چاہئیے تھا جس سے ایمرجنسی یا مارشل لاء کی بو آتی ہو، ایم ایم اے اور ملی یکجہتی کونسل کی بحالی کے لئے ملک بھر کے علمائے کرام ایک نکتے پر متفق ہیں، ضرب عضب آپریشن وقت کی اہم ضرورت تھی مگر اس سے کہیں زیادہ ملک کے چاروں صوبوں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی سخت ضرورت ہے ورنہ فوجی آپریشن کے مقاصد پورے نہیں ہونگے-  کہا ہے کہ  ان خیالات کا اظہار شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی  نے ٹیکسلا میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔ اس موقع امن کمیٹی کے راہنما پیر سعید نقشبندی، صوبہ پوٹھوھار تحریک کے جنرل سیکرٹری راجہ قیصر پرویز، چیئرمین آل عمران فاؤنڈیشن سید قاصد حسین شاہ سمیت دیگر عمائدین علاقہ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ ملک بھر میں 25 رمضان المبارک یوم القدس کے طور پر منایا جائے گا، ایم ایم اے اور ملی یکجہتی کونسل کی بحالی کے لئے ملک بھر کے تمام مسالک و مذہبی رہنماؤں کی اکثریت کوشاں ہےاور ہمیں قوی یقین ہے کہ ملک کی سالمیت اور بقا اور وسیع تر قومی مفاد کے لئے ملک بھر کے علمائے کرام اپنا مثبت کردار ادا کرینگے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہنود و یہود مسلمانوں کو تقسیم کرنے میں مصروف عمل ہیں اور داعش کا قیام اسی سلسلے کی کڑی ہےاگر امت مسلمہ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجائے تو مسلمان دنیا کی ناقابل شکست قوت بن سکتے ہیں۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایسے وقت میں جب ملک حالت جنگ میں ہے تمام مذہبی رہنماوں اور سیاسی اکابرین کو تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مارچ اور احتجاج کے بجائے ملکی سلامتی کے لئے ملکر چلنا چاہئے اور حکومت کو بھی چاہئیے کہ وہ اپنے وزراء کو کنٹرول کرے جو بلا مقصد بیانات دے رہے ہیں تاکہ ملک کے اندر یکجہتی کی فضا کو فروغ دیا جا سکے، حکمران عوام کو ریلیف فراہم کریں اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے لئے نرم گوشہ پیدا کریں، اس حکومت کو ابھی صرف ایک سال ہوا ہے، ہماری خواہش ہے کہ یہ اپنی مدت پوری کرے مگر شرط صرف یہ ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرے اور مفاہمت کی سیاست کو فروغ دے۔ چند حلقوں کی جانچ پڑتال سے کیا فرق پڑے گا، اگر حکمرانوں نے سمجھداری کا مظاہرہ نہ کیا تو ملک کے اندر عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہوجائے گی جو کہ کسی کے بھی مفاد میں ٹھیک نہیں ہے۔