غربت کی بڑی وجہ اسلامی مالیاتی احکامات سے روگردانی ہے، آیت اللہ حافظ ریاض نجفی
ذکوٰة، خمس اورصدقات واجب ہیں،فرمان رسول ہے ایک سال کے اخراجات رکھ کر باقی مال ضرورتمندوں کو دے دیا جائے
اما م جعفرصادق علیہ السلام کے چار ہزار شاگردوں میں امام ابو حنیفہ اورجابر بن حیان بھی شامل ہیں، خطاب
لاہور(جعفریہ پریس ) وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ دنیا خاص طور پر عالم اسلام میں غربت اور تنگدستی کی بڑی وجہ اسلامی مالیاتی احکامات سے روگردانی اوران پر عمل کا فقدان ہے۔ذکوٰة، خمس اورصدقات تو واجب ہیں ۔ان کے علاوہ ذاتی مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی اس قدر اہمیت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم متعدد احادیث مبارکہ میں فرماتے ہیں کہ ایک سال کے اخراجات رکھ کر باقی مال ضرورتمندوں کو دے دیا جائے۔اگر ان احکامات پر عمل کیا جاتا تو کوئی غریب نہ رہتا۔مسلمانوں کی موجودہ ابتری کی اہم وجہ علم سے دوری اور باہمی وحدت کا فقدان ہے۔جامع علی مسجد جامعتہ المنتظر میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حدیث مبارکہ ہے کہ اگر کوئی فقیر اور نادار ہے تو ضرور کسی مالدار نے اس کا حق ادا نہیں کیا۔ معاشی بہتری کے لئے محنت کی اتنی اہمیت ہے کہ امیرالمومنین علی علیہ السلام کا فرما ن ہے کہ دنیا کے لئے یوں کام کرو جیسے ہمیشہ رہنا ہے اور آخرت کی یوں تیاری کرو کہ شاید آج زندگی کا آخری دن ہے۔مولائے کائناب نے کامیاب زندگی کے دو اہم اصول بیان فرمائے : ایک اللہ کا تقویٰ اور دوسرا اپنے امور میں نظم و ضبط پیدا کرنا۔حافظ ریاض نجفی کا کہنا تھا کہ چھٹے تاجدار امامت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اسلام کو علم ، تہذیب اور ادب کی ثقافت دی۔ علم حاصل کرنے اور اسے تحریری شکل میں محفوظ کرنے کی تاکید فرمائی۔اما م جعفرصادق علیہ السلام نے چار ہزار شاگردوں کی تربیت کی جن میں مشہور کیمیا دان جابر بن حیان سمیت مختلف علوم کے متعددماہرین شامل ہیں۔فقہ حنفیہ کے بانی امام ابو حنیفہ حضرت نعمان بن ثابت رحمتہ اللہ علیہ اما م جعفرصادق علیہ السلام کی دو سالہ شاگردی پر فخر کرتے ہیں۔