تازه خبریں

فتنہ تکفیر کی سرکوبی کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل ، فرقہ واریت کو ختم کیاجائے، شیعہ علماکونسل

 فتنہ تکفیر کی سرکوبی کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل ، فرقہ واریت کو ختم کیاجائے، شیعہ علماکونسل 
 کسی اسلامی مکتبہ فکر کی تکفیر ، مذہب کے نام پر قتل حرام ہے،
علامہ ساجد نقوی اتحا د امت کے بانیوں میں سے ہیں، تحریک جعفریہ کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بحال کیاجائے
کشمیر ی عوام کی جدوجہد آزادی کی حمایت کا اعادہ، سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینے کا بھی مطالبہ، قراردادیں
ملتا ن( ) شیعہ علماکونسل نے قراردیا ہے کہ کسی بھی اسلامی مکتبہ فکر کی تکفیر اور مذہب کے نام پر قتل حرام اورکسی بھی مسلک کے مقدسات کی توہین ناجائز ہے، فرقہ واریت کے مکمل خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر حقیقی معنوں میں عمل کیا جائے۔ تحریک جعفریہ کا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں،اسے بحال کیا جائے۔کشمیر ی عوام کی جدوجہد آزادی کی بھر پور حمایت کا اعادہ اور سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے کر تمام ضروری اقدامات کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ قصر زینب میں قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی زیر صدارت وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ مرحوم کے چہلم کے موقع پر مختلف قراردادوں کی منظوری دیتے ہوئے بزرگ رہنما کی دینی سماجی اور سیاسی خدمات خصوصاً بھکر کنونشن1979ءکے انعقاد، قائدین ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم، علامہ شہید عارف حسین الحسینی اور علامہ سید ساجد علی نقوی حفظ اللہ تعالیٰ کا زندگی کی آخری سانسوں تک ساتھ دینے پرانہیں خراج عقیدت پیش گیا۔ ایک قرارداد میں کسی بھی اسلامی مکتبہ فکر کی تکفیر اور مذہب و مسلک کے نام پر قتل و غارت گری کو حرام قراردیتے ہوئے اس فتنے کی سرکوبی کے لئے نیشنل ایکشن پلان کی حقیقی روح کے مطابق عمل اور فرقہ واریت کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ جبکہ اتحاد امت کے فروغ دینے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کسی مسلک کے مقدسات کی توہین کو ناجائز قراردیا گیا۔ تحریک جعفریہ پاکستان کے خلاف ریفرنس کے بوگس ہونے پر سپریم کورٹ کے 18۔ نومبر 2014ءکے فیصلے کی روشنی میںتحریک جعفریہ کی بحالی اور لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنبچ کی طرف سے قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی کی درخواست پر 15دسمبر 2016ءکو وزارت داخلہ کو ایک ماہ کے اندر ٹی جے پی کی بحالی کے آرڈر شیٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ ناانصافی پر مبنی بیلنس پالیسی کو ختم کرکے پرامن جماعت کو بحال کیا جائے۔ اجتماع نے اس بات پر اصرا رکیا کہ تحریک جعفریہ کا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ اس کا فرقہ واریت کے خاتمے میں بنیاد ی کردار رہا ہے اور اس میں عسکری ونگ کا تصور تک ممکن نہیں ہے۔جبکہ یہ کھلی حقیقت ہے کہ قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی،پاکستان میں اتحادامت کے بانیوں میں سے ہیں۔ چہلم کے شرکانے کشمیر ی عوام کی جدوجہد آزادی کو سلام پیش کرتے ہوئے ان کی بھر پور حمایت کا اعادہ کیا اوربھارتی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہم کشمیری عوام کے ساتھ ہیں۔نیزمطالبہ کیا گیاکہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینے اور تمامضروری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔