قائد ملت جعفریہ پاکستان کا علماء و ذاکریں کانفرنس سے صدارتی خطا

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا علماء و ذاکریں کانفرنس سے صدارتی خطاب

سب سے پہلے میں شکریہ ادا کرتا ہوں آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی،مفسرقرآن شیخ محسن علی نجفی دام ظلہ کاجو محور ہیں اس کانفرنس کاموسس ہیںان کی سرپرستی کا اور آپ حضرات جوسفر کی صعوبتیں برداشت کرکے اپنے پیارے جذبات لے کے یہاں تشریف لائے منتظمین کانفرنس کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے انتظامات کئے۔     

خطاب سنیں

میں سمجھتا ہوں کہ یہ اجتماع کسی بین المسالک مشکل کی وجہ سے نہیں ایسا نہیں کہ کسی مسلک کی طرف سے کوئی مسئلہ پیدا ہوا ہو اور شیعہ علماء نے اس کی رد کے لئے اس کے توڑ کے لئےیہ اجتماع کیا ہو ایسا نہیں ہے ایسا نہیں اور ہم کر بھی نہیں سکتے کیونکہ ہم بین المسالک اتحاد کے بانی ہیںمجھے بتانے دیجئےکہ ایک اور شخص ہے میں اس کا نام بعد میں بتاؤنگااس کے رابطے کے بعد اس اتحاد کا جومجلس عمل کی صورت میں سامنے آیا اور ملکی یکجہتی کونسل کی صورت میں سامنے آیا اس کا اعزاز شیعہ نمائندہ ہونے کی حیثیت سے مجھے حاصل ہےباقی حضرات بعد میں شامل ہوئے ان کا احترام باقی جب میں تاریخ بیان کرونگا ملی یکجہتی کی تو بتاؤنگا کہ کن مراحل سے گزرا اور دونوں اپنی جگہ پہ موجود ہیں مجلس عمل غیر فعال ہے مگر موجود ہےلہذا اس کانفرنس کو کسی مسلک کے حوالے سے نہ دیکھئے ۔ایک مسئلہ پیدا ہو ا اور یہ کہاں سے شروع ہوا جب خو ف پیدا ہوا کہ یہاں بھی ایسا کوئی انقلاب آسکتا ہے جیسا پڑوسی ملک میں آیاڈر لگا اور شیعوں کے خلاف مہم شروع ہوئی گروہ بنائےگئےتکفیری،صدیوں پہلے کے کتابخانےکریدے گئے اور گڑھے مردے نکالے گئے اور ان کے وسائل تھے ان کے پاس وہاں سے اٹھایا انہوں نےاسی کے تسلسل میںیہ تکفیری سلسلہ اور لشکر بنائے گئے بھول جاتے ہو! میں طالبان کی حمایت نہیں کرتا !اور میں واضح کردوں کہ یہ خارجہ پالیسی کا اسٹیج نہیں ہےمت کسی پڑوسی ملک کے نائب وزیر اعظم کی بات ہمارے اسٹیج سے نہیں ہونی چاہئے میں موجود ہوںمیں ابھی پاکستان کی پالیسی کو دیکھ رہا ہوں ہمیں احتیاط کرنی چاہئے میں بحیثت نمائندہ ولی فقیہ ! ولی فقیہ کے ساتھ جو حکومت قائم ہے مجھے اس کے رابطوں کو بھی دیکھنا ہے،مت بات کیجئے گا احتیاط کریں!ان لشکروں کا نام کیوں نہیں لیتے ۳۳ دہشتگرد تنظیموں کی سروسز دی گئی ان لشکروں کواس کا نام بتاؤ نا لوگوں کوآپ کے اور ہمارے زبانوں پر ان لشکروں کا نام ہونا چاہئے،وہ بھی ناکام ہوئے،تکفیریوں کا اب بہانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے کہ فلاں چیز پہ اعتراض ہے،میں پاکستانی ہوں میرا بنیادی شہری حق ہے ،کسی کے روکنے یا رکاوٹ ڈالنے سے رک نہیں سکتی،یہ جوچند بیہودہ لوگ بیٹھ کراذان کے بارے میں،عدالتوں کے فیصلے موجود ہیںمیں ادھرجاتا ہی نہیں ہوںمیں سمجھتا ہوں ولایت امیر پر ایسی کوئی بات نہیں آئی جس کو یہاں موضوع بنایا گیا البتہ بن گیاتو ٹھیک ہے،اصل مسئلہ ہے اس وقت شیعوں کے خلاف جو ذیادتیاں ہورہی ہیںسرکاری اہلکاروں کے زریعہ میں کہتا ہوں رویے بدلو،بدلنے پڑینگےیہ رویے،میں دھمکی نہیں دیتا محاذ آرائی نہیں کرتا ہم کل اس ملک کے حکمران بننے والے ہیں مجھے  ذمہ داری سے بات کرنی ہے ۔میں کس کو تسلی دلاؤں کہ محب وطن ہوںمیں کسوٹی ہوں میں پرکھوں گا کہ کون محب وطن ہےاس اجتماع سے جو پیغام جائے گا ہم اس کا جائزہ لیں گےہم پاکستان میں موجود ہیں ہم اپنی سرنوش کا فیصلہ خود کرینگے۔چہلم سید الشہداء کو بھرپور انداز میں منائیںایک نمونہ و مثال قائم کریںپاکستان کے اندریہ ہم سب کی ذمہ داری ہےرکاوٹیں حائل نہ ہوں