• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

قائد ملت جعفریہ پاکستان کی زبان بندی کی سفارش کی سخت مذمت کرتے ہیں ۔ اظہار بخاری

جعفریہ پریس – جعفریہ یوتھ کے مرکزی ناظم اعلی سید اظہار بخاری نے کہا ہے کہ راولپنڈی کے بعض اداروں نے اپنی رپورٹوں میں داعی اتحاد بین المسلمین اور شیعہ سنی عوام کے قائد علامہ سید ساجد علی نقوی کی محرم الحرام میں زبان بندی کی سفارشات تیار کرکے انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں شروع کی ہوئی ہیں اگر قائد ملت جعفریہ کی زبان بندی کے احکامات جاری کئے گئے تو تمام پاکستانی شہری نہ صرف ان احکامات کو مسترد کردیں گے بلکہ ان کے خلاف احتجاج بھی کیا جائے گا۔
سید اظہار بخاری نے کہا کہ گذشتہ کئی سالوں سے سرکاری ادارے بوگس رپورٹوں اور روایتی طریقوں سے خانہ پری کے لیے پرامن اور قربانیاں دینے والے قائدین کے نام بھی شرپسندوں اور امن و امان خراب کرنے والے لوگوں کی فہرستوں میں شامل کردیتے ہیں۔ ان کی نااہلی کی انتہا تو یہی ہے کہ ان فہرستوں میں کئی سالوں سے مرحوم اور متوفیان بھی شامل چلے آرہے ہیں ہرسال متعدد مرحومین کی زبان بندی یا ضلع بندی کردی جاتی ہے۔ لہذا ایسے اداروں سے کیا توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ زندہ اور پرامن لوگوں کے ساتھ کیا کرسکتے ہیں۔
جعفریہ یوتھ کے ناظم اعلی نے کہا کہ اگر زبان بندی کے قانون پر صحیح عمل درآمد ہوتا تو سانحہ راولپنڈی کبھی رونما نہ ہوتا۔ اداروں کو بھی انصاف اور عدل سے خالی نہیں ہونا چاہیے بلکہ دیکھنا چاہیے کہ ان کی پالیسیوں اور فیصلوں سے امن قائم ہونے میں مدد مل رہی ہے امن و امان خراب ہونے کے امکانات پیدا ہورہے ہیں۔ قائدملت جعفریہ کی پورے سال میں سرگرمیاں اداروں کے نوٹس میں ہوتی ہیں لیکن محرم الحرام میں ہی اس قسم کا ماحول بنانے کے مقاصد کیا ہیں؟؟ انہی بے مقصد اور متنازعہ اقدامات سے نہ صرف اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام براہ راست اداروں کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ لہذا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اداروں کے ایسے متوقع اقدامات پر نظر رکھنا ہوگی اور انہیں تنبییہ کرنا ہوگی کہ وہ پاکستان میں امن کی علامت شخصیات کو ضلع بندی یا زبان بندی جیسے سطحی فیصلوں کی زد میں نہیں لائیں گے۔