جعفریہ پریس – مدافع حریم ولایت شہید راہ حق علامہ الطاف حسین الحسینی کی چوتھی برسی کی مناسبت سے شیعہ علماء کونسل سندھ کے زیراہتمام ایک شاندار پروگرام کا اہتمام کیا گیا ۔ جعفریہ پریس کے نمایندے کی رپورٹ کے مطابق آج بروز جمعۃ المبارک کوٹری میں جامع مسجد ابولفضل العباس میں نمازجمعہ کے بعد تلاوت قرآن پاک سے پروگرام کا با قاعدہ آغاز کیا گیا جس کے بعد مختلف علمائے کرام اور ذاکرین نے خطاب کیا اور شہادت کے عظیم رتبہ اورشہید الطاف حسینی کی زندگی پر روشنی ڈالی۔ رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجدعلی نقوی نے اس پروگرام میں خصوصی شرکت کی ۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ شہید کے خون کی ایک کشش ہے جس کی وجہ سے ہم اور آپ مومنین یہاں پر جمع ہوئے ہیں ۔ قومی پلیٹ فارم کو پر وقار بنانے میں اور قومی مسائل کے حل اور ملت تشیع کے حقوق کے تحفظ کیلئے شہید نے جو کردار ادا کیا وہ منفرد تھا ۔ آج ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ شہید کے کردار اور مشن کو زندہ رکھیں ۔ حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجدعلی نقوی نے حالات حاضرہ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ملت تشیع جس حالات سے گذر رہی ہے وہ انتہائی سخت اور مشکل دور ہے جس کیلئے ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی توانائیوں کو یکجا کریں۔ قائد ملت جعفریہ نے سانحہ پشاورکی سخت مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ جب مذاکرات کی بات کی جا رہی تھی تو ہم نے کہا کہ اس میں ہمارے قاتلوں کے بارے میں کیوں خاموشی اختیار کی ہوئے ہے اور جب آپریشن ضرب عضب کا اعلان ہوا تو پہر بھی ہمارے قاتلوں کو نظر انداز کیا گیا ہم نے بارہا بار مطالبہ کیا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے دایرہ کووسیع کر کے پورے ملک میں پہلایا جائے اور ان تمام سفاک قاتلوں کو بلا امتیاز کیفرکردارتک پہنچایا جائے ۔
اس کے بعد قائد ملت جعفریہ نے فرمایا کہ ریاست اورمملکت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ اپنے شہریوں کو تحفظ دے اور قوم کو حقایق سے آگاہ کیا جائے کہ یہ کون لوگ ہیں جو مسجد کا تقدس پامال کرکے اس کوخون سے رنگین کیا جا رہا ہے ، ان کی پشت پناہی کون کر رہا ہے ؟ کہاں پر تیار ہورہے ہیں ؟ یہ حقایق کیوں قوم کے سامنے نہیں لائے جا رہے ؟ اور نیشنل سکیورٹی پلان کوصرف کاغذوں پر نہ رکھیں بلکہ ملت کے سامنے اس کے عملی آثار آنے چاہئیں۔
آخرمیں قائد ملت جعفریہ نے شہید الطاف حسینی کی قبر پر حاضری دیتے ہوئے قبر پر پہولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی ۔