تازه خبریں

قم المقدسہ، دفتر قائد ملت جعفریہ قم المقدسہ کے زیر اہتمام مدرسہ حجتیہ میں عظیم الشان تعزیتی کانفرنس

قم المقدسہ، دفتر قائد ملت جعفریہ قم المقدسہ کے زیر اہتمام حالیہ دہشتگردی بالخصوص لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر خود کش حملہ کے خلاف 19 فروری بروز اتور کوقم کی معروف دینی درسگاہ مدرسہ حجتیہ کی وسیع مسجد میں عظیم الشان تعزیتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس سے شیعہ علماء کونسل KPK کے صوبائی صدر علامہ حمید حسین امامی شیعہ علماء کونسل صوبہ سندھ کے جنرل سکریٹری علامہ اسد اقبال۔بلوچستان کے صدر شیعہ علماء کونسل آغا اکبر زاہدی اجتماع میں شریک تھے مقررین کا کہنا تھا کہ  پاکستان میں حالیہ دہشت گردی بالخصوص پاراچنار و لعل شہباز قلندر کے سانحات نے ہر پاکستانی کو سوگوار اور کئی گھروں کو اجاڑ دیا ہے. میں پاکستان کی غیور ملت کو تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہوں. انہوں نے کہا جسطرح سب کو معلوم ہے سب سے زیادہ ہمارے صوبہ کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا. لیکن دشمن کی بزدلانہ کاروائیوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوئے. بلکہ ہم مکمل ہمت و طاقت کے ساتھ ہر میدان میں موجود ہیں اور حقوق تشیع کا دفاع کر رہے ہیں. انشاءاللہ دشمن کے ارادوں کو خاک میں ملاتے رہیں گے. انہوں نے کہا گزشتہ دنوں پارا چنار کی سبزی منڈی میں ملک دشمن عناصر نے شدید دھماکہ کیا تھا. جس سے بہت زیادہ نقصان ہوا تھا. ہم تنظیمی ذمہ داران کے ہمراہ جنازہ میں شریک ہوئے. اور تمام مراحل میں قائد محترم کے ساتھ رابطہ میں رہے.اور تمام مراحل خوش اسلوبی نے انجام دیے. انہوں نے کہا میں نے تقریبا پندہ سال حوزہ علمیہ قم کی مقدس فزاؤں سے کسب فیض کیا. اور ابتداء ہی سے قومی پلیٹ فارم سے منسلک رہا ہوں. انہوں نے قومی قائد علامہ سید ساجد علی نقوی کے حوالے سے فرمایا کی خداوند منان کا لاکھ لاکھ شکر ہے اس نے ہمیں علامہ سید ساجد علی نقوی کی صورت میں مدبر,مفکر اور بابصیرت قیادت نے نوازا. انہوں نے کہا مجھے یہ سن کر بہت افسوس ہوتا ہے جب بعض افراد کہتے ہیں قائد نے کیا کیا, اور ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہیں. ہمارے قائد نہایت شجاع ,بہادر و نڈر اور کسی سے ڈرنے والے نہیں ہیں. حقیقت یہ ہے کہ قائد محبوب ملت کے امور سے غافل نہیں ہیں. وہ ہر وقت میدان میں موجود ہیں. اتحاد و وحدت کے حوالے سے انہوں نے کہا کیونکہ آپ لوگ مہد و مرکز انقلاب میں موجود ہیں اور اس لیے آئیے نیک نیتی کیساتھ کوشش کریں.انہوں نے مزید کہا کی اگر ہر طالب علم یہ سوچے کی قم سے جاکر پاکستان جاکر میں نئی تنظیم بناؤں گا اور اسکا جنرل سیکرٹری بنوں گا تو اس سے ملت برباد ہوتی رہے گی. علامہ امامی نے کہا اگر ملت کا درد ہے تو جسطرح ملت ایران نعرہ لگاتی ہے اللہ اکبر خامنائی رھبر اسی طرح اگر ہم بھی اللہ واحد ساجد علی قائد پر متفق ہو جائیں اور ایک پرچم تلے جمع ہوجائیں تو اسی میں ہماری کامیابی مضمر ہے. میں بڑی ذمہ داری اور وثوق سے عرض کر رہا ہوں کہ قائد محبوب ہمیشہ اتحاد و وحدت کی بات کرتے ہیں اور ہمیں سختی سے خلوت و جلوت میں بھی ایسی بات کرنے سے منع فرماتے ہیں جو ملت میں انتشار کا سبب بنے. تنظیمی صورتحال کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ جب میں شیعہ علما کونسل کا صوبائی خدمت گزار بنا اس وقت تنظیمی صورتحال نہایت کمزور تھی لیکن تنظیمی احباب کی شب و روز کوشش اور قائد محبوب کی خصوصی شفقت سے تنظیم بہت مضبوط ہو چکی ہے. ہم دو دفعہ صوبہ میں قائد محترم کا مختلف شہروں میں دورہ کروا چکے ہیں.اور انشاءاللہ پاراچنار کا تاریخی دورہ کریں گے. فی الحال حالات نامساعد ہیں. انہوں نے مزید کہا ہمارے صوبہ کی عوام کو قیادت سے دور رکھنے کے لیے بڑی سطح پر کوششیں کی گئیں لیکن الحمد لللہ انکی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں.