متحدہ مجلس عمل نیک شگون? امداد علی گھلو

عالمی استعماری قوتیں ہمارے ملک کی وحدت اور اسلامی تشخص کے خلاف جہاں سازشیں کر نے میں مصروف ہیں وہاں شعور سے عاری نادان دوست بھی اپنے قلم کے نیش سے چند من گھڑت مفروضات کی بنا پر قوم کے خیرخواہوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں نیز بعض سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں کی بھی یہ خواہش ہے کہ بڑی مذہبی جماعتوں کا یہ اتحاد منظم انداز سے انتخابی میدان میں نہ اُتر سکے۔
موجودہ حالات میں متحدہ مجلس عمل کی بحالی انتہائی اہمیت کی حامل ہے جو کہ ملک و قوم کے لئے خوش آئند اور نیک شگون ہے۔ بعض افراد کی جانب سے اس کے خلاف منفی تاثر دینے کی کوشش افسوسناک ہے۔ مغربی استعماری قوتیں اسلامی دنیا کو دہشت گردی ، فرقہ واریت اور علاقائی بنیادوں پر فسادات کروا کے اور جنگ مسلط کر کے مزید تباہ اور تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔ پاک و چین اقتصادی منصوبہ سی پیک جو کہ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کی ترقی اور خوشحالی کا منصوبہ ہے اور سیاسی استحکام کے ساتھ گیم چینچز ہے جو کہ ان دشمن قوتوں کو گوارا نہیں ہے اس لئے اب ملک اور خطے میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر نے کی خطرناک سازش کی جا رہی ہے۔ متحدہ مجلس عمل صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پورے خطے اور عالم اسلام میں فرقہ واریت اور دہشت گردی کا خاتمہ کر کے امت مسلمہ کے اتحاد کے لئے کردار ادا کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ آنے والا دور متحدہ مجلس عمل کا ہوگا، ایم ایم اے کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کو اپنا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے، پروپیگنڈا کرنے والوں کو مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ متحدہ مجلس عمل کی بحالی پاکستانی قوم کی آواز تھی، اب متحدہ مجلس عمل کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔
ایک شُبہ میں کہا گیا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کا نام مسلم مجلس عمل ہونا چاہئے تھا۔ بعض جماعتوں کے نام میں مسلم اور مسلمین ہونے سے کیا وہ فوائد حاصل ہو گئے ہیں جن فوائدکی بدولت ایم ایم اے کے نام پر شبہ ایجاد کیا جا رہا ہے؟ نیز عالمی سطح پر رول ادا کرنے والے ادارے کا نام بھی مجمع تقریب بین المذاہب ہے، کیا یہ بھی اپنا نام تبدیل کرے، اگر ایسا نہ کریں تو جن مقاصد کے لئے یہ مجمع تشکیل پایا ہے وہ حاصل نہیں ہو سکیں گے۔؟! ایم ایم اے سے مسلم مسلم الائینس کوئی کہے یا مسلم مومن الائینس یہ لفظوں کا کھیل وہی کھیلتے رہیں جنہیں الفاظ کے گورکھ دھندے کے علاوہ اور کوئی مصروفیت نہیں۔
پانچ کروڑ شیعہ کے عدد کا استعمال کر کے قائد موجود کے خلاف استعمال کر لینا تو بہت آسان ہے لیکن اس پانچ کروڑ کی پورے ملک میں جغرافیائی اعتبار سے جو مسائل ہیں ان کو نظر اندازکرنا اور ڈیڑھ اینٹ کی مساجد جنہوں نے کھڑی کر رکھی ہیں ان سے چشم پوشی کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ سیٹوں کی تقسیم ووٹرز کی سیٹ نکالنے کے حساب سے ہوتی ہے، خیبر پختونخواہ میں دیگر اتحادی جماعتوں کے امیدوار پانچ سے دس ہزار ووٹ تک حاصل کر کےسیٹ نکال لیتے ہیں جبکہ آپ کا پانچ کروڑ۔۔۔!!!
گزشتہ الیکشن میں ایک شیعہ گروہ پانچ کروڑ آبادی کی بنیاد پر الیکشن لڑ چکا ہے، وہ رزلٹ بھی ملاحظہ فرما لیں.
تکفیریوں کا راستہ اگر قائد محبوب نے ہی نہیں روکا ہے تو روکنے والے کسی سورمہ کو منظر عام پر لایا جائے!!! تکفیریت کا مقابلہ جس انداز میں قائد محبوب نے کیا ہے اس کی مثال پوری دنیا میں کہیں نہیں ملتی، تکفیریوں کے وجود کے ختم ہونے کا دعوی قیادت نے کب کیا ہے؟ البتہ تکفیریت کی ناک کو خاک سے ضرور رگڑا ہے اور اس سوچ کا مقابلہ کیا ہے جو شام سے شروع ہوئی تھی کہ علی بن ابی طالب(ع) مسجد کیا کرنے گئے تھے کہ مسجد میں قتل ہوگئے۔
پھر تاریخ نے اپنے آپ کو یوں دہرایا کہ ایک مکتب فکر کے کسی پروگرام میں قائد محبوب کو خطاب کے دوران ایک غیر شیعہ شخص نے دیکھ کر اپنے ساتھ بیٹھے مولانا سے کہا کہ علامہ ساجد نقوی کی پیشانی پر کس چیز کا نشان ہے مولانا نے جواب میں کہا یہ نماز پڑھنے کی وجہ سے ہے تو وہ شخص کہنے لگا، اچھا شیعہ بھی نماز پڑھتے ہیں !!!
متحده مجلس عمل والے اقدام پر تو قائد محبوب کا ہر موافق و مخالف معترف ہے، نہ معلوم من گھڑت مفروضات ایجاد کرنے والوں کو کیا مشکل درپیش ہے؟! ہاں البتہ! ہر اقدام ہر کسی کی سمجھ میں نہ آنا بهی ایک منطقی بات ہے، ہم تو یہی حُسن ظن کر سکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here