متحدہ مجلس عمل کے خلاف پروپگنڈہ کیا جارہا ہے کچھ گروہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں علامہ توقیر
حاجی مورہ گاؤں میں سردار حاجی جمعہ خان کے ڈیرہ پر ایم ایم اے کے انتخابی جلسہ کا اہتمام کیا گیا۔جس میں علاقہ کی کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ جلسے کے مہمان خصوصی مولانا لطف الرحمان امیدوار PK-98 اور اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر تھے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں پر آپ لوگوں سے تین نکات پر بات کروں گا ۔ ایک شیعہ برادری کیلئے ایک سنی برادری کیلئے اور ایک نکتہ مشترکہ کہوں گا۔
ایم ایم اے کے قیام سے شیعوں کے کچھ گروہوں کو تکلیف ہوئی ہے اور وہ الزام تراشیاں اورشیعہ میں نفرت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ علامہ سید ساجد نقوی شیعوں کے قاتل کے ساتھ بیٹھ گیا ہے میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر مولانا فضل الرحمان شیعوں کے قتل میں زرا برابر بھی ملوث ہوتا تو ساجد نقوی کبھی بھی اس کے ساتھ نہ بیٹھتا ۔ کیونکہ ساجد نقوی سے بڑھ کر کوئی شیعہ کا خیر خواہ اور ہمدرد نہیں ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے ہر فورم پر شیعوں کے حقوق کی جنگ لڑی ہے۔
اور ادھر سنیوں میں کچھ گروہ ہیں جن کو تکلیف ہو رہی ہے کہ مولانا فضل الرحمان گستاخ صحابہ اور ازواج رسول ؐ کی توہین کرنے والوں کے ساتھ بیٹھ گیا ہے ۔ میں ان پر بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگرشیعہ و ساجد نقوی ایسے ہوتے تو مولانا فضل الرحمان کبھی بھی ہمارے ساتھ نہ بیٹھتے کیونکہ مولانا سے بڑھ کر کوئی صحابہ اور ازواج رسول ؐ کی عظمت کا محافظ نہیں ہے۔ اور میں یہ بھی واضح کر دوں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رسول اکرم کی بیویاں امہات المومنین ہیں ۔ اختلاف نظر اپنی جگہ لیکن کون غیرت مند ہو گا جو اپنی ماں کی توہین کرے گا یا برداشت کرے گا ۔ میرے بھائیوں یہ سب پراپیگنڈہ ہے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کی سازش ہے ۔
تیسری اور آخری بات جو میں سب سے مشترکہ کہنا چاہوں گا ۔ وہ یہ ہے کہ ایم ایم اے کا قیام ہی تفرقہ بازی کی نفی ہے ۔ اس میں تمام مسالک کی معتبر 5 دینی جماعتیں اس وقت اکٹھی ہیں وہ ایک پلیٹ فارم پر موجود ہیں۔ جس کا مقصد آپس میں نفرتوں کو دور کرنا ہے پیار محبت کا درس دینا ہے ۔پانچوں جماعتوں کے سربراہوں نے ملکر سوچ سمجھ کرایم ایم اے کی سربراہی کی پگڑی مولانا فضل الرحمان کے سر پر رکھی ہے اور ان کو اپنا سربراہ چنا ہے ۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم سب بھی ایم ایم اے کی کامیابی کیلئے اکٹھے ہو جائیں اور آپس میں نفرتوں کو دور کریں۔ پیار محبت سے رہیں اور پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں ۔دشمن کی سازشوں سمجھیں۔
آخر میں عشائیہ کا پروگرام تھا ۔ تمام شرکاء اور مہمانوں کو عشائیہ دیا گیا ۔