محسن انسانیت حضرت امام حسین ؑپوری اُمت کے امام اور پیشوا ہیں،علامہ ساجد نقوی
پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق عزاداری منانا ہر شہری کا آئینی‘ قانونی‘ مذہبی اور شہری حق ہے جسے کوئی طاقت نہیں چھین سکتی،قائد ملت جعفریہ
سرکاری سطح پر محرم الحرام کو خوف کی علامت اور انتشار کا باعث قرار دینا محرم کے تقدس کی نفی کرتا ہے اس صورت حال کا خاتمہ کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
اسلام آباد8 اکتوبر 2016 ء( )
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ نواسہ رسول اکرم ‘ محسن انسانیت حضرت امام حسین علیہ السلام پوری امت کے امام اور پیشوا ہیں ضرورت اس امر کی ہے ان ایام میں کسی دوسرے کے مسلک کو چھیڑنے کی بجائے صرف اپنا نقطہ نظر پیش کیا جائے۔ چونکہ عزاداری سید الشہداء ؑ و جبر کے خلاف جہاد کرنے کا جذبہ عطا کرتی ہے اور اس سے انسان کے ذاتی رویے سے لے کر اجتماعی معاملات میں انقلاب رونما ہوتا ہے اس لئے ظلم و جبر اور شر کے حامی طبقات عزاداری کے مخالف اقدام کرتے ہیں حالانکہ پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق عزاداری منانا ہر شہری کا آئینی‘ قانونی‘ مذہبی اور شہری حق ہے جسے کوئی طاقت نہیں چھین سکتی۔ محرم الحرام کسی جنگ، خوف یا بدامنی کا پیغام بن کر نہیں آ رہا ہے بلکہ ایام عزاءمسلمانوں کے درمیان دین محمدی اور اہلبیت محمد کی محبت وعقیدت میں اضافے اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک حسین موقع کے طور پر آتا ہے لہذا سرکاری سطح پر محرم الحرام کو خوف کی علامت اور انتشار کا باعث قرار دینا محرم کے تقدس کی نفی کرتا ہے اس صورت حال کا خاتمہ کرنا ریاست‘ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔
مزید برآں راولپنڈی/ اسلام آباد میں عشرہ محرم الحرام کی مجالس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ شیخ شفا نجفی نجفی اور علامہ افضل حیدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرزند علی و بتول علیہ السلام ‘ محسن انسانیت حضرت امام حسین علیہ السلام کی پیغمبر ان الہٰی کے مشن کے تسلسل میں جدوجہداور اس کے نتیجے میں رونما ہونے والے واقعہ کربلا سے الہام لینے اور استفادہ کرنے کا سلسلہ61 ھجری سے آج تک جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا دنیا میں حریت پسندی کی ہر تحریک کربلا کی مرہون منت نظر آتی ہے اور دنیا کی تمام حریت پسند تحریکیں امام حسین علیہ السلام کی شخصیت سے متاثر نظر آتی ہیں۔ دور حاضر میں بھی دنیا کے مختلف حصوں میں آزادی‘ استقلال اور حریت پر مبنی تحریکیں بھی کربلا اور حسینیت سے استفادہ کررہی ہیں اور ظلم و تجاوز کے خلاف حسینی عزم کے ساتھ جدوجہد کررہی ہیں۔ چونکہ معاشرے کے اجتماعی مسائل کے حل اور معاشرے میں انقلابی تبدیلی لانے کے لئے ایک مشن کی ضرورت ہوئی ہے اس لئے امام حسین علیہ السلام کی جدوجہد کو ایک مشن کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔