قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے بھارتی ریاست کی ہٹ دھرمی اور شدت پسندہندووں کی جانب سے اس ترقی یافتہ دور میں جاہلانہ اور جارحانہ سوچ کے پیش نظر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کو دبانے کیلئے کشمیریوں پر تشدد ،حتیٰ کہ محرم الحرام جیسی بے ضرر اور پر امن رسوم کو روکے جانے سمیت پنجاب میں سکھوں کی مقدس کتاب کی بے حُرمتی کے واقعات اور ملک کے مختلف مقامات پر مسلمانوں پر گاؤکشی بہانہ بناکراور اقلیتوں ونچلی ذات کے ہندوؤں پرپرُتشدد و انسانیت سوزواقعات اور انسانی اقداروں کی پامالی کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قومیں فہم و فراست کے نقطہ عروج تک پہنچ چکی ہیں اورعلم و دانش میں قومیں ترقی کی منازل طے کر چکی ہیں لیکن برصغیر بالخصوص بھارت میں مسائل گھمبیر تر ہوتے جارہے ہیں۔ انسانی اقدار کی پامالی کے نہ ختم ہونے والے واقعات کا سلسلہ جاری ہے اور ان کے حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی۔بھارت میں لوگوں پربے پنا ہ ظلم و زیادتی،قتل و غارت ،جلاؤ گھیراو کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے،بے گناہ لوگ مارے جارہے ہیں ۔ متنازعہ مسائل میں الجھاؤ بڑھتا جارہا ہے۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ مسئلہ کشمیرسمیت دیگر مسائل افہام و تفہیم اور دانش مندانہ طور پر حل کیے جاتے کشمیری عوام کی مشکلات ختم کی جاتیں اورمسئلہ کشمیر اقوام متحدہ اور کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کیا جاتا لیکن دنیا کی سب سے بڑی سیکولرجمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹنے کا شور بہت لیکن عملی طور پر نتیجہ صفرہے ۔شہری آزادیوں کے راگ الاپے جارہے ہیں۔شہریوں کے حقوق کو پامال اور انکی تذلیل و توہین ہورہی ہے۔ بھارت کی جانب سے ظلم و بر بریت کی بڑی مثالیں مقبوضہ کشمیر میں ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کوئی پیش رفت نہیں ہورہی اوران کے حقوق کو دبایا جارہا ہے۔ بین الاقوامی ادارے جو اپنے آپ کو انسانی اقدا ر کا محافظ سمجھتے ہیں وہ بھی بے بسی کا مجسمہ بنے ہوئے ہیں اور ناتوانی کی آخری حد تک پہنچے ہوئے ہیں۔ مسئلہ کشمیر دانش، جمہوری سوچ ، بنیادی حقوق اور شہریوں کی آزادی کو مد نظر رکھ کراقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں حل کرنا ہوگا۔