• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

مشہد مقدس میں دفاع تشیع پاکستان کانفرنس کی مکمل رپورٹ

1-۔ کانفرنس ۹ بجے رات کو دفتر تبلیغات میں شروع ہوئی اس سے پہلے صدا وسیما کے رپوٹر نے انٹر ویو لیا اور اس کے بعد تلاوت کلام پاک سے کانفرنس کا اآغاز کیا گیا   اور اس پروگرام  میں بڑی تعداد میں اساتید  حوزہ  علماء طلاب نے شرکت کی اور اور ایران کے مختلف اخبارات کی نیوز رپورٹرز اور صدا و سیما  ٹیلویژن رپورٹر نے اس پروگرام کو کوریج کیا
2- ۔ اور ان کے بعد نایب مسئول  دفتر سید عمران حیدر نقوی صاحب نے تمام مہمانان ،مراجع عظام، علماء اور  طلاب کو خیر مقدم اور شکریہ ادا کیا
3-۔مسئول دفتر قائد ملت جعفریہ شعبہ مشہد مقدس مولانا وحید علی ساجدی نے دفتر کے پورے سال کی کارکردگی رپورٹ پیش کی
4-قائد محترم کےفعالیت اور تصویری کلپ دکھائی گئی
اس کے بعد آیۃ اللہ رضازادہ نے سخنرانی کی:
خطابت: علامہ عارف حسین واحدی سیکریٹری جنرل شیعہ علماء کونسل
میں  سب سے پہلے بزرگان خصوصا استاد بذرگوار آیۃ اللہ رضا زادہ مد ظلہ العالی کے تشریف لانے پے اور قیمتی ہدایات اور راہنمائی فرمانے پے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
آپ جس نظام میں رہ رہے ہیں نظام مقدس ولایت فقیہ میں یقینا سعادت مندی ہے اور جس انداز میں ولی امر مسلمین اور رہبر معظم انقلاب دنیا اسلام میںبلکہ مستضعفین جہاں میں جس انداز میں اپنام پیغام حریت و آزادی کا پیغام پہنچا رہے ہیںاور جس انداز میں استمرار کا پرچم لہراتے ہوئے میں سمضتا ہوں یہ تشیع کے لئے باعث افتخار ہے کہ آج کی اس ظلمت بھری دنیا میں جہاں اکثریت اوروں کی ہے شیعہ بہت کم تعداد میں دنیا میں موجودہیں لیکن نظام مقدس اہلبیت کا پرچم تھامے ہوئے حضرت امام رحمۃ اللہ علیہ نے جو خدمت کی اسلام کی اور جس انداز میں ولی امر مسلمین اس پرچم کو لئے آگے بڑہ رہے ہیں ہم سب کیلئے واقعا باعث سعادت ہے اور باعث فخر ہے اور شاید دنیا کو اس حقائق کا پتا نہ ہو اور اندھیروں میں ہو۔ چونکہ سامراجی قوتیں اور استعماری  قوتیں ابلیسی طاقتیں  اس مقدس  عرصے میں  روڑے اٹکانے کے لیئے  ہر قسم کے ھت کنڈے استعمال کر رہے ہیں
اور یہاں میں عرض کروں گا  سامراجی قوتیں  سب سے بڑی رکاوٹ  اپنے استبداداور کبر  اور قوت کے لیئے  تشیع کو اپنے لیئے رکاوٹ  سمجھتی ہیں
قائد شہید علامہ عارف حسین حسینی  کی شہادت پے امام راحل نے جو پیغام  بھیجا تھا  اس میں فرمایہ تھا  طاغوتوں کے دستر خواں  پے اڑیاں چوسنا  ان لوگوں کا کام ہے  لیکن شہید حسینی کی طرح  اپنے سینے پے گولیاں کھاکے تشیع کے مقدس پیغام کو آگے بڑھانے کے لیئے اپنے آپ کو قربان کرکے تشیع کے پیغام کو آگے بڑھانا یہ امتیاز ہے
اور یہ تشیع کی خصوصیات میں سے ہے نہ جھکنا نہ بکنا  نہ سودا گری کرنا نا کمپرو مایز کرنا  یہ بھی تشیع کا امتیاز ہے ہی خسوصیات کسی مین نحیں پایی جاتیں ۔
اور چند  دن پھلے  حکومت پاکستان کے بڑے زمیندار  سے ملاقات ہوئی  اس نے مجھے یہ کھا کہ  تکفیری گروھ  یہ کھتے ہین  کے شیعہ لوگ جھادی نھیں ھوتے  یہ جہاد کے قایل نھیں ہیں  یہ کھتے ہیں کے جب امام زمانہ آئینگے ہم جھاد کرینگے
میں نے ان کو جواب میں کھا کہ آغا صاحب   اسلام کے خلاف اگر کوئی طاغوتی طاقت قدم اٹھااتی ہے  الحمد اللہ وہاں شیعہ جوان ہی  ہوتے ہیں  جو ان کے دیوار بن جاتے ہیں
میں نے کہا وہ جو جہادی بنے ہوئے ہیں  وہ مسلمانوں کے خلاف مسلسل  اقدامات کر رہے ہیں  لیکن حزب اللہ کو دیکھیں  اسرائیل اور یہودیت کے مقابلے میں  جس انداز میں انہوں نے جہاد کیا  اور ان کو سوچنے پر مجبور کردیا کے  اسلام کے خلاف اگر کوئی قدم اٹھائیں گے تو حزب اللہ خاموش نھیں بھیٹے گی ۔
اس وجہ سے میں نے کہا کے عالمی استعمار  تشیع کو اپنے لیئے بڑی رکاوٹ سمجہتا ہے  اور تشیع کے خلاف بڑی سازشیں ہو رہی ہیں  ۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان ۵۰ سال سے  مکمل ہو گئے ہیں  سید محمد دہلوی ان کے بعد مفتی جعفر حسین اور ان کے بعد شہید قائد  نے یہ پرچم تھاما اوران کو یہ شرف بھی نصیب ہوا کہ وہ نمائندہ امام راحل بھی تھے اور ان کی نمائندگی میں آگے بڑھے  اور تشیع کو منسجم کیا  اتحاد ووحدت کے ساتھ  تشیع کے حقوقکے دفاع کے لیئے آگے بڑھے  اور بہت بڑی کامیابیاں حاصل کیں  اور ظاہر ہے دشمن کو یہ کامیابیاں قابل برداشت نہیں ہوئیں  اور ان کو راستے سے ہٹانے کے لیئے  ان کو شہید کردیا  اور مجھے ان کے ایک مخلص ساتھی کا جملہ یاد ہے  کے قائس شہید کی جب شہادت ہوئی تو تو مجھے ایسے محسوس ہوا  کے پاکستان مین ہم نے ایک بھت بڑی بلڈنگ تعمیر کی تھی  اور قائد کی شہادت سے وہ ساختمان  مسمار ہوکر رہ گئی ہے    لیکن ان کا یہ جملہ بھی مجھے یاد ہے کے شہادت کے بعد علماء زعماء اور بزرگواران نے یہی قیادت کا  پرچم  رہبر شیعیان پاکستان  نمائندہ ولی فقیہ علامہ سید ساجد علی نقوی  کے ہاتھ میں تھمایا  اور کھا کے میں اطمینان کا سانس لیا  کیوں کے میں نے قائد شہید سے یہ جملے سنے تھے   کہ اس شخص میں او دانشمندی ہے اگر یہ قوم مجھے یہ اجازت دیتی  میں اپنی زندگی مین  قیادت  علامہ سید ساجد علی نقوی کو دے دیتا  اور الحمد اللہ میں دیکھ رہا ہوں کے ان کے بر حق جانشین نے  تشیع کو جس طرح سے سنبھالا ہے  اور میں مطمئن ہوں  اور انشاللہ کامیاب وکامران ہوں گے
۲۵ سال کے عرصے میں جس طرح سے قیادت نے  مثبت انداز میں محتاط انداز میں  تشیع کی راہنمائی کی ہے ان کا یہ جملہ ہمیشہ  ہمارے سامنے ہے وہ فرماتے ہین  کے شیعہ شہید ہوئے ہیں لیکن  تشیع کو ہم نے بچالیا ہے  جس انداز میں کوششیں کی گئی  تشیع کے خلاف  جو سازشیں ہوئیں  بیرونی سازشیں اندرونی سازشیں  شیعوں کا قتل عام شروع کیا گیا  تکفیری گروہ پورے پاکستان میں  ہر در دیوار پر غلیظ نعرے لکھے شیعوں کا قتل عام شروع کیا  گیا اور فتوے دیے گئے کے شیعہ کی ناموس حلال ہے  شیعوں کا قتل واجب ہے  یہ نعوذباللہ تکفیری نعرے لگا رہے ہیں شیوں کے خلاف  اس مقدس مشن کو  روکنے کی کوشش کی گئی  لیکن الحمد اللہ ان ۲۵ سالوں میں  ہم نے ان سازشوں کا مقابلا کیا اور آج پاکستان کے حالات کو دیکھیں  تو خدا شاہد ہے آج وہ تکفیری گروہ  جو تشیع کو دیوارکے کنارے لگاناچاہتا تھا وہ آج گندگی کے ڈھیر پر کھڑا ہے  اور تشیع عالمی طور پر کردار اد کر رہے ہیں
تشیع کے خلاف اتنی گندی مہم ان کے ساتھ ادارے بھی شامل تھے  ان تکفریوں کو پالا گیا پوسا گیا  اور انقلاب اسلامی کا راستہ روکنے کے لیئے  اور سوچ اور ذکر کو روکنے کے لیئے  ایک تکفری گروھ پالا گیا  ارو یہ سلسلہ شروع ہوا  اور تکفیریی گروہ ھمیں الگ کرنا چاۃتا تھا
لذا ہم اس سوچ کے ساتھ آگے بڑھے  کے تشیع کو تنھا نھیں رہنے دینگے  ہم شیعیان حیدر کرار کو وسط امت میں رکھیں گے قران کا جو فرمان ہے امتہ امۃ واحدہ  اسی قرانی تصور کو اجاگر کرنے کے لیئے
قائد محبوب نے وہ کردار  ادا کیا  دیوبندی علماء ہوں  خواہ  بریلوی علماء ہوں  خواہ سلفی یا اہل حدیث  کے علماء ہوں  یا جماعت اسلامی والے ہوں  ہر طبقہ فکر ہر مسلک کے آدمی نے علامہ سید ساجد علی نقوی  کو اپنا قائد تسلیم کیا  اور کرتے ہِیں ۔
مجھے وہ وقت یاد ہے  جب پیشاور سے آگے بھت دور  جھان صرف دیوبندی رہتے ہیں نہ وھاں کوئی شیعہ ہے نہ کوئی بریلوی ہے  مولانا فضل الرحمن کا جلسہ تھا  انھوں نے قائد محبوب کو دعوت دی  قائد محترم اس لباس  میں اس جلسے میں گئے  تشیع کے لیئے افتخار ہے  جب وہا ں پہنچے تو  اتحاد وحدت کی گفتگو جب شروع کی  تو اسی اجتماع سے یہ نعرہ لگا  ساجد کے فرمان پر  جان بھی قربا ن ہے
اور قائد نے فرمایہ کہ اگر اس اتحاد میں میں سپاہ صحابہ آئیگی  تو ہم  ان  کے ساتھ کبھی نہیں بیٹھے گے کیوں  کے جہاں نجاست ہوتی ہے  وہاں طہارت کا آنا مشکل ہوجاتا ہے  ایک ہی برتن میں نجاست اور طہارت جمع نہیں ہو سکتی  اور میں جب قاضی حسین احمد کے پاس گیا ۲۸ جماعتوں کے امیر بھیٹےتھے  میں نے پیغام بتایا  تو جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ نے یہ مسئلہ اٹھایا  کے ان کا پیغام آیا تھا کے ہم بھی شامل ہونا چاہتے ہیں  یقین کریں  قاضی حسین احمد نے اس مجمعے میں یہ جملہ کھا  ساجد نقوی کا احسان صرف شیعوں پر نھیں ہیں  صرف  سنیوں میں نھیں ہے ساجد نقوی کے خلاف جتنے پروپیگنڈے ہوئے ساجد نقوی کے پاس جوان بھی ہیں انکے پاس ملت بھی ہے  اگر ان کو کھدیتا مقابلہ کرو  تو پاکستان کی گلی کوچوں میں جنگ شروع ہوجاتی  پاکستان کے ہر گلی میں خون کا سیلاب ہوتا  لیکن ساجد نقوی نے حکمت عملی کے ساتھ  دانشمندی کے ساتھ  اس غلیظ مہم کا مقابلہ کیا  کیوں کے وہ سمجھتے تھے کے یہ پاکستان کی سالمیت کے خلاف بڑی سازش ہے  یہ مسلمانوں کے خلاف سازش ہے  انہوں نے کہا ساجد نقوی سنی شیعہ حتی پاکستان کے محسن ہیں  لذا جب تک ساجد نقوی راضی نھیں ہوتا  میں تکفیریوں کو اس اتحاد میں شمال نھیں  ہونے دوں گا
قائد محترم کا پیغام علماء اور طلاب کے لیئے :
تشیع کے اوپر مشکل وقت ہے  پاکستان مین صورت حال یہ ہے
آغا صاحب کا پیغام ہے حوزہ علمیہ مشہد ہو یا حوزہ علمیہ قم ہو  جو یہاں پر تعلیم حاصل کررہے ہیں  آپ کا مقابلہ بریلویوں کے ساتھ ہے  آپ مختلف شعبوں میں اپنے آپ کو آمادہ رکھیں  اور آئیں اس پرچم اسلام کے سائے تلے اس مشن اسلام کو آگے بڑہائیں
ہم کمزور نہیں ہیں فقط اتحاد اور وحدت کے ساتھ  شجاعانہ انداز میں  حکمت عملی کے ساتھ  آگے بڑہٹے رہیں   انشاللہ پرچم تشیع سر بلند ہوگا  اور ہمارہ دشمن انتہائی ناکام ہوگا ۔
طلاب کے لیئے زہد و تقوی  میراث اہلبیت ہے اس کے ذریعے سے  کردار معصومین  اپنا کر  دشمن کو ناکامی کی طرف لے جا سکتا ہے
مجھے قائد کا یہ جملہ یاد ہے انہوں نے فرمایہ  میں خشک روٹی کھائوں گا  میں کسی سے بھیک نھیں مانگوں گا  میں فقط اللہ کی بارگا ہ میں جھکا ہوا ہوں  جو اللہ کی بارگاہ میں جکھ جائے وہ کسی اور کے سامنے کبھی بھی نھیں جھک سکتا
آخر میں علامہ عارف حسین واحدی نے طلاب کو ایک پیغام دیا کے  طلاب حوزہ مشہد  کے لیئے کے آئیں مل کر نمائندہ ولی فقیہ ،نمائندہ رہبر معظم  کی زیر قیادت  آگے اس مشن تشیع کو آگے بڑھائیں  اور کامیابی ہمارے قدم چومے گی  اور کوئی قوت ہمین شکست نھیں دے سکتی