جعفریہ پریس راولپنڈی:معروف پیر جناب پیر نقیب الرحمان نے عید گاہ شریف میں محرم الحرام ،مقصد شہدائ کربلا اور امن و امان کے حوالے سے بہت اھم کانفرنس کرائی جس میں تمام مسالک کے جید علمائ کرام،منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی،انتظامی افسران کی بھر پور شرکت ھوئی،شیعہ علمائ کونسل پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے ایک وفد کے ھمراہ شرکت کی۔پیر صاحب نے پرتپاک انداز میں خوش آمدید کہا اور خواھش کا اظہار کیا کہ انشااللہ آئندہ سال علامہ ساجد نقوی صاحب بھی تشریف لائیں گے،علامہ عارف واحدی نے ان کو قائد محترم کا سلام اور خصوصی پیغام پہنچایا اور پیر صاحب کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نے محرم میں امام حسین نواسہ رسالت مآب کی یاد میں یہ پروگرام کرا کے امن و اتحاد امت کے لئے اھم قدم اٹھایا ھے اس کانفرنس کے خطے میں مثبت اثرات مرتب ھونگے،علامہ صاحب نے کہا کہ امام حسین صرف ایک مسلک کے نہیں پوری امت مسلمہ بلکہ عالم انسانیت کا سرمایہ ھیں اور اتحاد امت کے لئے یہ نانا اور نواسہ مرکزی نکتہ ھیں۔
علامہ عارف واحدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں دین مبین اسلام کی ترویج و تبلیغ اور امن قائم کرنے میں مشائخ عظام کا مسلمہ کردار ھے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ولایت و طریقت کا سلسلہ سردار اولیا امیر المومنین علی ابن ابیطالب سے جڑا ھوا ھے،اور علی کی ذات اور انکی ولایت بھی ھم سب کی مشترکہ میراث ھے کربلا کے پیغام اور سید الشھدا کی عظمت اور فضیلت کو اجاگر کرنے میں اولیا اللہ نے بہت بڑا کردار ادا کیا حتا کہ عظیم مرشد مرحوم پیر چشتی اجمیری نے امام عالیمقام کے بارے میں فرمایا،
حقا کہ بنائے لا الہ است حسین
اس جملے میں پورے کربلا کے مقصد اورمشن کو بتایا تاکہ کسی کے ذھن میں شک و شبھہ نہ رھے،اولیائ کرام کی یہ جدوجہد اور محنت ھے کہ آج شیعہ اور سنی مل کر کربلا والوں کی یاد مناتے ھیں اور ببانگ دھل یہ اعلان کرتے ھیں کہ کربلا کی جنگ دو شہزادوں کی جنگ نہ تھی بلکہ دو نظریوں،دو کرداروں کی جنگ تھی حق و باطل کی وہ جنگ تھی جس میں حق کی قیامت تک کے لئے فتح ھوئی اور باطل قیامت تک کے لئے رسوا اور بے نقاب ھو گیا۔ھم شیعہ سنی سب مل کر کربلا والوں کے علم کو اٹھا کے آگے بڑھتے رھیں گے حسینیت زندہ باد اور یزیدیت مردہ باد کے نعرے لگا کر دنیا کو بتاتے رھیں گے کہ کربلا احیائ اسلام کی ایسی بڑی تحریک تھی جو دنیا کے حریت پسندوں اور آزادی و عزت و وقار کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کے لئے ایک ماڈل اور نمونہ ھے جس کو ھم سب مل کر آگے بڑھا رھے ھیں اور انشااللہ بڑھاتے رھیں گے،یہ تحریک محبت اور بھائی چارے کے ساتھ آگے جا رھی ھے اس کو روکنے کی ھر کوشش ھم سب نے ملکر ناکام بنائی اور آئندہ بھی بناتے رھیں گے۔ فرقہ واریت اس ملک میں نہیں کچھ عناصر نے کچھ قوتوں کے اشارے پر سنی شیعہ بھائیوں میں انتشار ڈالنے کی کوشش کی جو علمائے کرام اور مشائخ عظام نے ملکر ناکام بنا دیں۔
علامہ عارف واحدی نے آخر میں کہا کہ اس ملک کو شیعہ سنی نے ملکر بنایا ملکر قربانیاں دیکر بچا رھے ھیں اندرونی دشمن ھو یا بیرونی یہود و ھنود ھوں ھم ان کا ملکر مقابلہ کریں گے اور حسین کے صدقے ھم کامیاب ھونگے اور دشمن ناکام ھو گا۔
جناب پیر نقیب الرحمان صاحب نے اپنی گفتگو میں علامہ واحدی صاحب کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی گفتگو کی تائید کرتا ھوں مولا حسین ھم سب کا ھے اور ان کے راستے پر چلتے ھوئے کامیاب ھونگے وطن عزیز ھو یا دین و مذھب ھو ھمارے سامنے کربلا والوں کی سیرت ھے ھمیں کسی کا خوف نہیں ھے جب تک ھم متحد ھیں نہ اسلام کو خطرہ ھے اہ ملک کو،البتہ دشمن ھمارے اندر مسالک کی جنگ کے ذریعے ھمیں کمزور کرنا چاھتا ھے جو کبھی کامیاب نہیں ھو گا۔ھم امن و امان قائم کرنے میں انتظامیہ سے پورا تعاون کریں گے
دیگر خطاب کرنے والوں میں معروف مذھبی راھنما حاجی حنیف طیب،مولانا حافظ اقبال رضوی،پیر اظہار بخاری،پیر چراغ الدین شاہ،مولانا ظہور علوی،مولانا زاھد کاظمی،مفتی انتخاب نوری،منتخب پارلیمنتیرینز جناب حنیف عباسی،سید ضیااللہ شاہ بخاری،راجہ محمد حنیف،انجمن تاجران کے صدر اور پولیس افسران شامل ھیں