تازه خبریں

سلطان ِ کربلاء امام حسین علیہ السلام علامہ محمد رمضان توقیر

یوں تو حضرت امام حسین ؑ اپنے نانا اور جدِّ امجد حضرت پیغمبر گرامی قدر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے تحت جنت کے سردار و آقا ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ فضیلت کی بات اس حدیث میں ہے جس میں رسول اکرم ؐ نے ’’حسین منی وانا من الحسین ‘‘ یعنی حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ‘‘ فرما کر امام حسین ؑ کی سلطانی و سرداری کو اپنے ساتھ لازم و ملزوم قرار دے دیا یعنی جس طرح نبی پاک ؐ کی عزت ‘ عظمت ‘ حرمت ‘ برتری ‘ سرداری اور سلطانی پوری کائنات بلکہ ہمیشہ کے جہانوں تک ہے ویسے ہی حسین ؑ کی سرداری و سلطانی کا دائرہ و احاطہ موجود ہے۔ اس حدیث پاک نے آج تک زمانے کو ششدر و حیران کررکھا ہے جس میں وحی کے بغیر نطق نہ کرنے والے نبی نے بہت واضح اور واشگاف الفاظ میں امام حسین ؑ کے مرتبے اور منزلت کو حسین ؑ کی ذات کی حد تک نہیں بلکہ اپنی ذات کو مثال بنا کر واضح اور روشن فرمایا۔
جوانانِ جنت کی سرداری تو آئندہ زمانوں کی بات ہے قیامت کے بعد ہی جنت کا تصور ہمارے معاشروں میں مشہور ہے جس پر مختلف آراء بھی ہیں ۔ ممکن ہے کوئی معترض سوال کرے کہ قیامت کے بعد حسین ؑ کی سرداری کس نے دیکھی؟ کون دیکھے گا کہ محشر برپا ہونے کے بعد حسین ؑ ہی جنتی جوانوں کے سردار ہوں گے ؟ لہذا اگر ایک شخصیت اتنی ہی منزلت کی حامل ہے تو اس دنیا میں پہلے اس کی منزلت واضح کی جائے تاکہ ہمیں اگلے زمانوں میں اس کی حیثیت کے بارے یقین ہوسکے۔ اسی سوال کے جواب اور اسی مشکل کے حل کے لیے جنابِ رسول اکرم ؐ نے ’’حسین منّی ‘‘ والا انداز اپنا کر حسین ؑ کی دنیا اور آخرت کی سرداری پر مہر تصدیق ثبت کردی۔
اس طرح کے الفاظ اور اس طرح کا انداز خاتم المرسلین ؐ نے صرف اور صرف علی ؑ اور اولاد علی ؑ کے لیے ہی اختیار فرمایا ہے ان کے علاوہ کسی کو ’’وہ مجھ سے اور میں اس سے ‘‘ کی سند نہیں عطا فرمائی اس سے جہاں قربت اور تعلق کی آخری منزل کی نشاندہی ہوتی ہے وہاں دائیں بائیں سے ہونے والے سرداری کے دعووں کی بھی نفی ہوتی ہے ۔ قربت اور تعلق کے علاوہ امام حسین ؑ کی ذات کی اہمیت و حیثیت بھی اجاگر کرنا مطلوب تھا تاکہ پیغمبر اکرم اؐ کی رحلت کے بعد دنیا کو یاد رہے کہ محمد ؐ اور حسین ؑ میں کچھ فرق نہیں بلکہ ایک ہی نور کی تجلیاں اور ایک ہی تصویر کے رخ ہیں۔
مذکورہ دونوں احادیث کی تائیدی احادیث بھی ہمیں کتب تاریخ میں میسر ہیں جہاں بنی اکرم ؐ نے مزید تفصیل اور وضاحت فرماتے ہوئے یہاں تک فرمادیا کہ جس نے حسین ؑ کو راضی رکھا اس نے مجھے راضی رکھا اور جس نے حسین ؑ کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور (صاف ظاہر ہے ) جس نے مجھے اذیت دی اس نے اللہ تعالی کو اذیت دی اور جس نے اللہ کو اذیت دی اس ٹھکانہ جہنم ہے۔ بس اسی معیار کو سامنے رکھیے اور کربلا چلیے۔ کربلا کا مطالعہ کیجیے ۔ کربلا کا جائزہ لیجیے۔ حسین ؑ کو گھر سے بے گھر کرنے والوں کو کیا کہیں گے؟ حسین ؑ کو اپنی اولاد و اصحاب کے ساتھ نانا کا روضہ اور مدینہ جیسا شہر چھوڑنے پر مجبور کرنے والوں کو کیا کہیں گے؟ حسین ؑ کو حج کے مراسم ترک کرکے کعبتہ اللہ سے نکلنے پر مجبور کرنے والوں کو کیا کہیں گے؟؟ صلح اور امن کا ہر رستہ مخدوش کرنے والوں کے بارے میں کیا کہیں گے؟؟ لق و دق صحرا میں گھیر کر محصور کرنے والوں کے بارے میں کیا کہیں گے؟ تین دن کی پیاس کے بعد نونہالوں سے لے کر ضعیفوں تک کو نہ شرف شہید کرنے والوں بلکہ پامال کرنے والوں کے بارے میں کیا کہیں گے؟ یہیں تک بات نہیں رکتی بلکہ خاندان رسالت و نبوت کی باعصمت خواتین کو بے پلانے اونٹوں پر قید کرنے اور ان پر دوران سفر ہر قسم کا ظلم روا رکھنے والوں کے بارے میں کیا کہیں گے؟ پھر حسین ؑ کی دشمنی کی حد یہاں تک پہنچی کہ ۶۱ ہجری کے بعد حسین ؑ کی اولاد و اصحاب و جانثاران و محبان کو بھی تہہ تیغ اور پابند سلاسل کرنے والوں کے بارے میں کیا کہیں گے؟؟
اگر کوئی حسین ؑ کو نبی اکرم ؐ کا ذات کا حصہ بلکہ منصب و الہی مرتبے کا حصہ سمجھتا ہے تو اسے حسین ؑ کی سرداری و سلطانی کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ جو حسین ؑ کو اذیت دینا اپنے لیے حق سمجھتا ہے اسے جہنم کی تیاری پہلے سے کرلینی چاہیے۔ امام حسین ؑ فقط مدینہ یا کربلا کے سلطان نہیں بلکہ اسلام کے سلطان ہیں ۔ ایمان کے سلطان ہیں۔ ایقان کے سلطان ہیں ۔ہر مظلوم کے سلطان ہیں۔ ہر محکوم کے سلطان ہیں۔ ہر حریت پسند کے سلطان ہیں۔ ہر مومن اور مسلم کے سلطان ہیں۔ حسین ؑ کی سلطانی کا دائرہ کسی ایک مذہب ‘ مکتب ‘ مسلک ‘ ملک یا خطے تک نہیں بلکہ کائنات کے ہر انسان تک ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ۶۱ ہجری سے اب تک جس آدمی کے دل میں انسانیت کی ذرا سی رمق باقی ہوتی ہے اس کے دل پر حسین ؑ کی حکمرانی ہوتی ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو کیونکہ حسین ؑ انسانیت کے محسن ہیں اس لئے حسین ؑ انسانیت کے سلطان ہیں۔