جعفریہ پریس- ملی یکجہتی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس کونسل کے صدر صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں کونسل کے جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ اور قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی  نقوی سمیت دیگر اراکینِ مجلس عاملہ نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں یوم عاشور کے موقع پر پیدا ہونے والی صورتِ حال اور اس کے بعد ملک بھر میں ہونے والے واقعات کے سلسلے میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔ تمام اراکین نے یوم عاشور پر ہونے والے پرتشدد واقعات پر افسوس کا اظہار کیا اور اسے انتظامیہ کی مکمل ناکامی قرار دیا۔
اس موقع پر کونسل کے صدر صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر نے اسلامی نظریاتی کونسل کی تنظیم نو کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عہدوں کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ ملک میں امن کے قیام کے لئے حکومت ملی یکجہتی کونسل کا ضابطہ اخلاق فوری طور پر نافذ کرے۔ مذہبی جلوس صدیوں سے جاری ہیں، جن پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ مذہبی جماعتیں اپنے دائرہ اختیار میں رہیں اور سیکیورٹی کے مناسب انتظامات کئے جائیں۔ صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے کہا کہ نظریاتی کونسل کے عہدے سیاسی رشوت کے طور پر دیئے جارہے ہیں۔ اہل افراد کا تقرر کرکے اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل نو کی جائے۔ سابق پالیسیوں نے ارض وطن کو عالمی قوتوں کے لئے دلکش چراگاہ بنا دیا ہے۔
کونسل کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے بعد ازاں پریس بریفنگ کے موقع پر کہا کہ آج کا اجلاس ایک ایسے موقع پر منعقد ہورہا ہے جب ملک میں ایک بار پھر فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی استعماری کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سازگار فضا بنانے کے لیے کونسل کے سابق صدور علامہ شاہ احمد نورانی اور قاضی حسین احمد نے اہم کردار ادا کیا تھا جس کے اثرات طویل عرصے تک رہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم دوبارہ ایک ایسی فضا بنائیں جس میں تمام مسالک کو مکمل آزادی کے ساتھ اپنی دعوت پیش کرنے کے مواقع میسر ہوں، تاہم فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ہم آخری حد تک کوشش کریں گے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے صوبہ بلوچستان اور گلگت بلتستان میں تنظیم سازی جبکہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ میں تنظیم نو کا اعلان کیا۔ انہوں نے علمی تحقیقاتی، مصالحتی اور خطبات جمعہ کمیشن کو مزید فعال کرنے کے لیے بھی عزم کا اعلان کیا۔ صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ کونسل سے باہر کچھ جماعتوں سے بھی رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ وہ بہت جلد انہیں کونسل میں فعال کردار ادا کریں گی۔ کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ اس وقت عالمی قوتوں کی سازشیں عروج پر ہیں اور پاکستان کے تمام مسالک اور مذاہب کے ماننے والے ان حالات پر دل گرفتہ ہیں۔ خاص کر دینی جماعتوں سے قوم کو بڑی توقعات ہیں۔ ہم ان توقعات پر پورا اُترنے کی کوشش کریں گے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک علمی و تحقیقی کمیشن بنایا جائے گا جس میں پانچوں وفاقوں کے نامور اور ماہر علماء کو لیا جائے گا۔ اس کمیشن کا مقصد نئے پیدا ہونے والے مسائل اور مشکلات، امریکا کے ساتھ ریاست پاکستان کا اتحاد اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی عسکریت پسندی کے موضوع پر شرعی سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے قوم کی رہنمائی کرنا ہوگا۔
ملی یکجہتی کونسل اجلاس میں ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر آصف لقمان قاضی،  ڈپٹی سیکرٹری جنرل ثاقب اکبر، اسلامی تحریک پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی، جمعیت علمائے اسلام سینئر کے سربراہ پیر عبدالرحیم نقشبندی، جمعیت علمائے پاکستان سواد اعظم کے صدر پیر سید محفوظ مشہدی، تنظیم اسلامی کے سربراہ حافظ عاکف سعید، جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے مرکزی رہنما حافظ عبدالرحمن مکی، جماعت اہل حدیث پاکستان کے امیر حافظ عبدالغفار روپڑی، مجلس وحدت المسلمین کے نائب سربراہ علامہ امین شہیدی، وفاق المدارس الشیعہ کے علامہ نیاز حسین نقوی،  جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان، تحریک فلاح اہلسنت والجماعت کے نائب امیر پیر عبدالشکور نقشبندی، جماعت اسلامی پنجاب کے امیر ڈاکٹر سید وسیم اختر، ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اسداللہ بھٹو، جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل محمود الحسن چوہدری، جمعیت علمائے پاکستان (س) کے جنرل سیکرٹری سردار محمد خان لغاری، جماعت اسلامی پنجاب کے نائب امیر میاں محمد اسلم کے علاوہ چاروں صوبوں کے صدور، جنرل سیکرٹریز، چاروں کمیشن کے سربراہان اور دیگر علمائے کرام ومشائخ نے شرکت کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here