• تعلیم یافتہ نسل ، ملک و قوم کی ترقی کی ضمانت ہے، علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی
  • کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت

تازه خبریں

مون سون بارشوں کی صورتحال قائد ملت جعفریہ پاکستان کا جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار

مون سون بارشوں کی صورتحال قائد ملت جعفریہ پاکستان کا جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار

قائد ملت جعفریہ پاکستان کی مون سون بارشوں کی صورتحال ، مسلسل مالی و جانی نقصان پر افسوس کا اظہار
 ناگہانی آفات سے نمنٹے کےلئے پیشگی اقدامات کےساتھ مستقل پالیسی بنائی جائے، علامہ ساجد علی نقوی
کراچی سمیت بڑے شہروں میں انتظامی و ہنگامی حالات سے نمٹنے کےلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ،قائد ملت جعفریہ پاکستان
اسلام آباد 12 جولائی 2022ء (جعفریہ پریس پاکستان) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے مون سون کی بارشوں کے دوران مسلسل مالی و جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ناگہانی آفات سے نمٹنے کےلئے جوپیشگی اقدامات اٹھائے جانے چاہئیے تھے وہ نہیں اٹھائے گئےکراچی، کوئٹہ ، ہنزہ سمیت دیگر جگہوں پر جانی نقصان اظہار تاسف کرتے ہوئے کہاکہ بڑے شہروں میں انتظامی و ہنگامی حالات سے نمٹنے کےلئے انتظامات کی ضرورت ہے، شہری تحفظ کے اداروں اور رضا کاروں ضروری آلات سے لیس کیا جائے، افسوس ناقص انتظامات کے باعث لوگ عید الاضحی پر بھی انتہائی مشکلات کا شکار رہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوںنے مون سون بارشوں کے دوران کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوںمیں ہونیوالے جانی و مالی نقصان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ شدید بارشیں یا دیگر ناگہانی آفات قدرت کی طرف آتی ہیں البتہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کےلئے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ لوکل انتظامیہ کے بھی فرائض میں شامل ہے کہ وہ پیشگی انتظامات کرے اور اس معاملے پر مستقل پالیسی بنائی جائے، ان بارشوں سے قبل بھی ہم متوجہ کرچکے تھے کہ مطلوبہ اقدامات اٹھائے جائیں مگر افسوس بڑے شہروں میں نکاسی آب کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ندی نالوں کی صفائی نہ ہونے کے قابل، جگہ جگہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیرو ں سمیت دیگر کئی عوامل ہیں جس کے باعث ملک کے کئی حصوں خصوصاً کراچی شہر میں سیلابی صورتحال ہے ، جب جدید ترین آلات کے ذریعے تمام صورتحال کا پتہ لگالیا جاتاہے تو پھر صرف وارننگ جاری کرنے پر ہی کیوں اکتفا کیا جاتاہے؟کیونکہ آج تک اس اہم ترین معاملے پر کوئی مستقل پالیسی مرتب نہیں کی جاسکی، ہر محکمہ ایسی صورتحال میں ذمہ داری دوسرے پر ڈال کر عہدہ برا ہونے کی کوشش کرتاہے ، ان بارشوں کے سبب نشیبی و میدانی علاقوں میں رہنے والے متوسط و غریب طبقات کی رہائشی آبادیوں کے نقصان کے ساتھ ساتھ انکی سماجی و معاشی زندگی شدید متاثر ہوتی ہے مگر حکومتوں یا ذمہ داران کی طرف سے مسلسل اس اہم ترین سماجی و معاشرتی مسئلے پر آج تک سنجیدگی سے غور ہوا نہ ہی کوئی ماسٹر پلان مرتب کیاگیا ۔ہم کئی مواقع پر متوجہ کرچکے کہ بڑے شہروں کی صورتحال یہ ہے کہ بے ہنگم آبادیاں بنائی گئیں ، ندی نالوں کی صفائیاں نہیں کی گئیں، کوڑا کرکٹ اٹھانے کےلئے کروڑوں کا بجٹ مختص کیا جاتاہے مگر اس کے باوجود صفائی نہ ہونے کے برابر ہے ، لائن لاسز کی مد میں بھی اربوں روپے عوام سے لئے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود بجلی کے کھمبے اور تاریں بوسیدہ ہیں اور ماضی کی طرح اب بھی عید الاضحی کے ایام میں بھی ایک طرف لوگ بوسیدہ تاروں ، کھمبوں کے کرنٹ کا شکاربنے تو دوسری جانب سیوریج سسٹم بہتر نہ ہونے کے باعث بارشی پانی ان کےلئے وبال جان بنا ہوا ہے ، اس وقت حالیہ تیز ترین بارشوں کے باعث شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال ہے ۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے زور دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اس جانب متوجہ کیاکہ شہری تحفظ کے نظام کو فعال کو کیا جائے، قدرتی و ناگہانی آفات سے نمٹے کےلئے پیشگی اقدامات کئے جائیں ، ندی نالوں کی صفائیوں کے ساتھ اووہیڈ برج اورفلائی اوورز کے ساتھ نکاسی آب کا نظام بہتر بنایا جائے جبکہ شہری آبادیوں کے حوالے سے بھی میکنزم مرتب کیا جائے تاکہ مستقبل قریب میں ایسی مشکلات سے بچاجاسکے اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ جہا ں ایک جانب سرکاری و نیم سرکاری ادارو ں کی ذمہ داری ہے وہیں بطور ذمہ دار شہری ہر پاکستانی کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ارد گرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کےلئے اپنا کردار ادا کرے۔