جعفریہ پریس – حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے جمعہ کی شام کو یمنی عوام کی حمایت میں ہونے والے اجتماع سے خطاب میں انکے ملک پر سعودی امریکی جارحیت کی مذمت ، یمن کی مظلوم عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی اور ہمدردی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یمن کے خلاف جنگ کا اصل مقصد سعودی عرب کا یمن پر دوبارہ تسلط حاصل کرنا ہے اور وہاں پر اہل یمن کی خود مختاری کو روکنا ہے-
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ حملہ آور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں مکہ اور مدینہ میں حرمین شریفین کو خطرہ ہے اس کے بعد انہوں نے سوال کیا کہ حرمین کو کس سے خطرہ ہے کیا یمنی عوام سے یا یمنی فوج سے جبکہ وہ عشاق رسول ہیں ، سالانہ حج بجا لاتے ہیں لھذا حرمین کو ان سے خطرہ نہیں ہے بلکہ حرمین کو سعودیہ کے اندر اور تکفیری سوچ سے خطرہ ہے ، داعش اور اس جیسی تکفیری جماعتوں سے خطرہ ہے اور تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہیں –
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ تمام مسلمان سعودی عرب سے کہیں کہ جو کچھ ہو چکا ہے وہ بہت ہے{کہ اس تکفیری فکر کی ترویج ختم کرو} انہوں نے سوال – کون ہے جو دنیا بھر میں مسلمان نوجوانوں کو تکفیر اور دہشت گردی کے نصاب کی تعلیم دینے کے لیئے مدارس بناتا ہے ؟ – کے جواب میں کہا کہ سعودی عرب ہی تو ہے ۔ لھذا اب عرب اور مسلم دنیا کو سعودی عرب کے خلاف کھڑا ہونا چاہئے تاکہ مسلمانوں میں وحدت پیدا ہو-
سید حسن نصراللہ نے مزید کہا آل سعود 1926 میں صحابہ کرام ، امہات مومنین کے مزارات کو شہید کرنے کے بعد جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا روضہ مبارک شہید کرنے لگے تو اس وقت مصر اور پاکستانی مسلمانوں – جو اس وقت انڈیا میں تھے- نے آل سعود کو روضہ مبارک شہید کرنے سے روکنے میں کامیاب ہوئے تھے ، سعودی عرب کے اس اقدام کو دلیل بناتے ہوئے انہوں کہا کہ مسلمانوں کو اصل خطرہ وھابیت سے ہے اور چونکہ تکفیری فکر کا اصل مصدر سعودی عرب ہے –
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے اپنے خطاب میں پاکستان کے موقف کو سراتے ہوئے پاکستانی پارلیمنٹ ، فوج اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور اس موقف کو 1926 کے موقف جیسا قرار دیا ، کہ جس میں روضہ رسول اکرم کو شہید کرنے سے آل سعود کو روکا گیا تھا –
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ سعودی عرب نے مسلم دنیا کی رائے حاصل کرنے کے لیئے درج ذیل حربے استعمال کئے ہیں کہ یہ سنی شیعہ کی جنگ ہے ، حرمیں کو خطرہ ہے ، یمن کی عوام کو خطرہ ہے ، وہاں قانونی حکومت بحال کرنی ہے وغیرہ ، ان سب حربوں میں – جو فقط سیاسی تھے- ناکام ہوا ہے اور اسوقت یمنی عوام کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنا کر قتل عام کر رہا ہے تاکہ دوبارہ اپنا تسلط بحال کر سکے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گا چونکہ یمن کی عوام اپنے موقف پر ثابت قدم رہے گی اور ہوائی حملے سے نہ کبھی بالادستی قائم ہوئی اور نہ ہی عوام کے ارادے توڑے جا سکتے ہیں-