• تعلیم یافتہ نسل ، ملک و قوم کی ترقی کی ضمانت ہے، علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی
  • کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت

تازه خبریں

کالعدم قرار دی گئی تنظیم کا عہدیدار آئینی و قانونی کسی بھی لحاظ سے عوامی نمائندگی کے لئے اہل نہیں ہو سکتا،علامہ سید نیاز حسین نقوی

جعفریہ پریس – وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر علامہ سید نیاز حسین نقوی نے سبی، اسلام آباد اور کراچی میں مسلسل دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے طالبان سے مذاکرات کے آگے سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔ جامعۃ المنتظر ماڈل ٹاؤن لاہور میں نماز جمعہ کے خطبہ میں حالات حاضرہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے علامہ سید نیاز حسین نقوی نے مذاکرات کے ضمن میں دہشت گردوں کی رہائی پر پاک فوج کے تحفظات کو بجا قرار دیا اور کہا کہ ایسے لوگ رہا ہو کر پھر بے گناہوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے میڈیا پر پاک، ایران تعلقات کے بارے غیر ذمہ دارانہ تبصروں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے اسے مخصوص قوتوں کے اشارے پر ایک دیرینہ دوست ہمسایہ کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی سازش قرار دیا۔
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر نے حکومت کی توجہ بعض سیاستدانوں کی تشویش کی جانب مبذول کرائی جس میں حالیہ سعودی امداد کو فرقہ واریت کے لئے استعمال کرنے کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ انہوں نے جھنگ سے منتخب ایم این اے کی نا اہلی کو، کالعدم سپاہ صحابہ کی اسمبلی میں نمائندگی کی سازش کا حصہ قرار دیا جس کے تحت مخصوص قوتیں ایک بار پھر ملک میں فرقہ واریت کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شواہد و ثبوت کی بناء پر کالعدم قرار دی گئی تنظیم کا عہدیدار آئینی و قانونی کسی بھی لحاظ سے عوامی نمائندگی کے لئے اہل نہیں ہو سکتا۔