تازه خبریں

گلگت بلتستان پاکستان کا بازو ہے اسکی اہمیت سے انکار ملک کی سلامتی سے عدم دلچسپی ہے۔

توازن کی پالیسی نے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کیا ۔
گلگت بلتستان پاکستان کا بازو ہے اسکی اہمیت سے انکار ملک کی سلامتی سے عدم دلچسپی ہے۔
سکردو(پ۔ر) اسلامی تحریک پاکستان بلتستان کے صدر حجتہ الاسلام علامہ شیخ فدا حسن عبادی نے سی پیک اجلاس اور گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت کے بارئے میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ مملکت عزیز خداداد پاکستان کی سا لمیت ہر چیز پر مقدم ہے یہ پاک سرزمین حادثاتی طور پر وجود میں نہیں آیا بلکہ انگت اور لازوال قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے۔ پاکستان دنیا میں ہماری عزت اورپہچان ہے ۔ گلگت بلتستان نے ہمیشہ وطن عزیز کی تحفظ و سلامتی کی خاطر قربانیاں دی ہیں۔ آزادی سے لیکر معرکہ کارگل تک سینکڑوں شہدا دیے ہیں۔ یہ خطہ پاکستان کی نظریاتی محافظ ہونے کے ساتھ ساتھ جذبہ حب الوطنی ، جذبہ قومیت ہو یا جذبہ ایمان میں تمام اہل وطن کے نمونہ عمل ہیں ۔ یہ سرزمین محبت و الفت کی معدن ہیں۔ اپنی سرسبز و شادابی اور قدرتی حسن کے حوالے سے پوری دنیامیں پاکستان کی پہچان ہیں۔ لیکن حکمران اسے صحیح معنوں میں وطن کا حصہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں جویہاں کے نیک دل عوام کی محبت و خلوص سے سرشار جذبہ وطنیت پر شب خون کی مانند ہے ۔حکمرانوں نے ملک کے باقی خطوں کے لیے کیا کچھ نہیں کیا لیکن آج کیا صلہ مل رہا ہے ۔ ارباب اقتدار نے ماضی میں ایسے عناصر اور ایسے ذہنیت کی پشت پناہی کی جس کی وجہ سے آج نہ صرف یہ وطن عدم استحکام کا شکار ہیں بلکہ پوری دینامیں اسکی عزت و وقار کو دھچکہ لگا۔ دہشت گردی کی لعنت کی وجہ سے دنیا میں ہم پر تنقید ہوتا رہا ۔ لیکن آج بفضل خداوند کریم پاک فوج نے ایک حد تک اس گندگی کو صاف کیا لیکن مزید کاروائی کی ضرورت ہے۔ سرزمین گلگت بلتستان ہمیشہ پاکستان کی عزت و وقار میں اضافے کا سبب بنا ۔ یہ اس خطے کی حب الوطنی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ حکمران ملک و قوم کے محافظ اوروطن مخالف عناصر میں تمیز کرئے ۔ توازن کی پالیسی یا کسی کے لیے قربانی بنانا یہ پالیسیاں فیل ہو چکی اور انہی پالیسیوں نے ملک کو مسائل سے دوچار کیا ۔ گلگت بلتستان کوئی اضافی چیز یا پیکج کا مطالبہ نہیں کر رہا بلکہ یہ بنیادی اور دیرینہ مطالبہ ہے کہ ہمیں آئینی شناخت دو۔ اس مطالبہ کو تسلیم کرکے گلگت بلتستان کو آئینی حق دینا اس خطے کے ساتھ ہونے والی 68 سالہ محرومیوں کا واحد ازالہ ہے ۔